تم خوب صورت ہو
تم خوب صورت ہو تم سے زیادہ خوب صورت ہیں تمہارے خواب خوابوں سے زیادہ خوب صورت ہے تمہارا دل تم جب بھی لوگوں کو دکھائی دیتی ہو وہ لپکتے ہیں تمہارے بدن کی طرف مجھے تمہارے دل کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا
تم خوب صورت ہو تم سے زیادہ خوب صورت ہیں تمہارے خواب خوابوں سے زیادہ خوب صورت ہے تمہارا دل تم جب بھی لوگوں کو دکھائی دیتی ہو وہ لپکتے ہیں تمہارے بدن کی طرف مجھے تمہارے دل کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا
مجھے ایک لڑکی نے ایک قدیم زبان میں تحریر کیا ہے بہت پیچیدہ ہے یہ زبان کوئی بھی میری بات کی تشریح نہیں کر پاتا نئی زبانیں سیکھنے کے جنون میں وہ لڑکی بھی عورت کی قدیم زبان بھول چکی ہے اب میں ایک شور کے سوا کچھ بھی نہیں ہوں
تمہارے جانے کے بعد رات کے آخری پہر چاند نے کہا میں اداس ہوں ایک ستارے نے ٹوٹتے ہوئے کہا میں اداس ہوں ہوا نے دیواروں سے سر ٹکراتے ہوئے کہا میں اداس ہوں بہار نے پیلے پھولوں میں تبدیل ہوتے ہوئے کہا میں اداس ہوں شام نے رات میں ڈھلتے ہوئے کہا میں اداس ہوں میں نے اونچی آواز میں ان سب سے ...
میں ایک کہانی لکھتا ہوں زندگی سے بھرپور خوب صورت کہانی جس کے کردار سمجھوتے نہیں کرتے وہ جھوٹ سے شدید نفرت کرتے ہیں سچ انہیں دکھوں کی دلدل میں ڈال دیتا ہے پھر بھی وہ اس سے دست بردار نہیں ہوتے وہ اپنی نفی کر کے سچ کا اثبات بن جاتے ہیں میں سچ کو زندہ رکھنے کے لیے روز ایک جھوٹی کہانی ...
میں نے جو چاہا وہ ہو گیا یہ اور بات ہے اس ہونے میں کتنے برس صرف ہوئے میں نے اس خوب صورت لڑکی کے ساتھ کتنا وقت بسر کیا یہ بات کوئی وقعت نہیں رکھتی میں اس کے پاس گیا اسے چوما اور اپنے بازووں میں بھر لیا سرشاری کہاں سے شروع ہوتی ہے یہ میں نے جان لیا اس کی حد کہاں ختم ہوتی ہے یہ بھی ...
یہ آنسوؤں کی جھیل ہے یہاں ہر برس بہت دور سے پرندے اڑ کر آتے ہیں اور ایک پورا موسم بسیرا کرتے ہیں کسی بھی شکاری کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے موسم کے اختتام پر واپسی کا سفر شروع ہوتا ہے میں گنتی کرتا ہوں وہ اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے آئے تھے میں اس جھیل کو کبھی خشک ہونے نہیں دوں گا اور ہر ...
وہ آئے انھوں نے کہا مٹی کھودو ہم نے سنگی زمین میں مطلوب گڑھا بنا کر دیا اس کے اندر جاؤ وہ درشت لہجے میں بولے ہم گہرے گڑھے میں اتر گئے انھوں نے مٹی ڈال کر زمین ہموار کر لی ہمیں موت بھی اجرت کے طور پر ملی ہے
جب آسماں نے ننھے پرندوں کو پر دیے ظالم ہوا نے تیر بھی ہمراہ کر دیے اس گلستاں سے فاختہ پرواز کر گئی موسم نے شاخسار بھی کانٹوں سے بھر دیے ہر شخص عہد جبر میں حرف دعا ہوا ہونٹوں کو حادثات نے کیا کیا ہنر دیے اپنی نگہ کے آئینے سورج کو سونپ کر ہم نے بھی کائنات کو آئینہ گر دیے پھر ...
وہ بیج کوئی بتا دے کہاں سے لانا ہے مجھے تو باغ محبت کا اک اگانا ہے وہ جس کے پھول بکھیریں فضا میں پیار ہی پیار ہر ایک پھول کو گھر گھر میں لے کے جانا ہے زمین والوں پہ کیسا یہ وقت آیا ہے کہ آسمان بھی حیراں ہے کیا زمانہ ہے ہم اپنی بات خود اپنے ہی دل سے کہہ لیں گے یہ بات بات پہ احسان ...
سب سے زیادہ آنسو ہوتے ہیں ایک لڑکی کے پاس اس کے اندر ایک برفانی سلسلہ ہے مرد ایک گرم ہوا ہے اس کے چلتے ہی برف پگھلنے لگتی ہے لڑکی اپنے آنسو کبھی دوسروں میں نہیں بانٹتی اس کے آنسو تحلیل ہو کر پھر سے برفانی سطح پہ آ جاتے ہیں مسکراتی ہوئی لڑکی بھی آنسوؤں سے بھری ہوئی ہوتی ہے اس کے ...