قومی زبان

دہر کو لمحۂ موجود سے ہٹ کر دیکھیں

دہر کو لمحۂ موجود سے ہٹ کر دیکھیں نئی صبحیں نئی شامیں نئے منظر دیکھیں گھر کی دیواروں پہ تنہائی نے لکھے ہیں جو غم میرے غم خوار انہیں بھی کبھی پڑھ کر دیکھیں آپ ہی آپ یہ سوچیں کوئی آیا ہوگا اور پھر آپ ہی دروازے پہ جا کر دیکھیں کچھ عجب رنگ سے کٹتے ہیں شب و روز اپنے لوگ کیا کچھ نہ ...

مزید پڑھیے

کوئی دل تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا

کوئی دل تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا وقت اک خواب رواں ہے سو گزر جائے گا ہر گزرتے ہوئے لمحے سے یہی خوف رہا حسرتوں سے مرے دامن کو یہ بھر جائے گا شدت غم سے ملا زیست کو مفہوم نیا ہم سمجھتے تھے کہ دل جینے سے بھر جائے گا چند لمحوں کی رفاقت ہی غنیمت ہے کہ پھر چند لمحوں میں یہ شیرازہ بکھر ...

مزید پڑھیے

ایک دن میں دو جنازے

ضیاء الحق قاسمی مدیر’’ظرافت‘‘ نے جنرل ضیاء الحق کی قصیدہ گوئی کے سلسلے میں ایک مجموعہ شائع کیا ۔ اختر انصاری اکبر آبادی کو دفنانے کے بعد قبرستان سے باہر نکلتے ہوئے قاسمی صاحب نے مشفق خواجہ کو کتاب پیش کی ۔ خواجہ صاحب نے کتاب کا ورق پلٹا اور واپس کرتے ہوئے کہا۔ ’’ضیا صاحب ! ...

مزید پڑھیے

کتابوں کی غرقابی

جگن ناتھ آزاد مشفق خواجہ سے ملنے گئے تو بات چیت میں بار بار اپنی کتابوں کی غرقابی کا تذکرہ بڑے دردناک انداز میں کرتے رہے اور یہ بھی کہتے رہے۔ ’’اس میں نہ صرف مطبوعہ کتابیں ضائع ہوئیں بلکہ کچھ غیر مطبوعہ تصانیف کے مسودے بھی برباد ہوگئے ۔‘‘ خواجہ صاحب جب آٹھ دس دفعہ سیلاب کی ...

مزید پڑھیے

صبا کا راز بھی پھولوں کے درمیان کھلا

صبا کا راز بھی پھولوں کے درمیان کھلا اس ایک در کے توسط سے گلستان کھلا قفس میں قید پرندوں کے پر نہیں کھلتے نظر کے سامنے لیکن ہے آسمان کھلا ابھی تو لفظ بھی آواز کے بھنور میں ہیں ابھی سے کیسے معانی کا بادبان کھلا فلک پہ گھور گھٹائیں سراب ہونے لگیں سروں پہ دھوپ کا جس وقت سائبان ...

مزید پڑھیے

اے مشفق من اس حال میں تم کس طرح بسر فرماؤ گے

اے مشفق من اس حال میں تم کس طرح بسر فرماؤ گے انجان بنے چپ بیٹھو گے اور جان کے دھوکے کھاؤ گے تم اپنے گھر کے اندھیرے میں کیا دیکھتے ہو دیواروں کو یہ شمع کی صورت جلنا کیا آئے گی ہوا بجھ جاؤ گے جن جھوٹے سچے خوابوں کی تعبیر غم تنہائی ہے ان جھوٹے سچے خوابوں سے تم کب تک دل بہلاؤ گے ان ...

مزید پڑھیے

یہی نہیں کہ وہ بے تاب و بے قرار گیا

یہی نہیں کہ وہ بے تاب و بے قرار گیا مری رگوں میں جو اک زہر سا اتار گیا بجھے ہوئے در و دیوار دیکھنے والو اسے بھی دیکھو جو اک عمر یاں گزار گیا وفا کے باب میں اس کی تو کچھ کمی نہ ہوئی میں آپ اپنی خوشی سے یہ بازی ہار گیا ہوائے سرد کا جھونکا بھی کتنا ظالم تھا خیال و خواب کے سب پیرہن ...

مزید پڑھیے

نہ اب وہ خوش نظری ہے نہ خوش خصالی ہے

نہ اب وہ خوش نظری ہے نہ خوش خصالی ہے یہ کیا ہوا مجھے یہ وضع کیوں بنا لی ہے یہ حال ہے مرے دیوار و در کی وحشت کا کہ میرے ہوتے ہوئے بھی مکان خالی ہے دم نظارہ میری حیرتوں پہ غور نہ کر کہ میری آنکھ ازل یونہی سوالی ہے مرے وجود کو جس نے جلا کے راکھ کیا وہ آگ اب ترے دامن تک آنے والی ...

مزید پڑھیے

چہرہ تو چمک دمک رہا ہے

چہرہ تو چمک دمک رہا ہے اندر سے یہ شخص بجھ چکا ہے تھی طبع رواں مثال دریا دریا یہ مگر اتر گیا ہے آنکھوں میں تھے خواب سو طرح کے یہ رنگ محل اجڑ چکا ہے نقش اس کے ہیں بے نمود سارے نغمہ ایسا کہ بے صدا ہے بیٹھا ہے اداس گھر میں تنہا جیسے کوئی اس کو ڈھونڈھتا ہے تم اس کو تلاش کیا کرو ...

مزید پڑھیے

کیوں خلوت غم میں رہتے ہو کیوں گوشہ نشیں بے کار ہوئے

کیوں خلوت غم میں رہتے ہو کیوں گوشہ نشیں بے کار ہوئے آخر تمہیں صدمہ کیا پہنچا کیا سوچ کے خود آزار ہوئے کیوں صاف کشادہ رستوں پر تم ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہو کیوں تیرہ و تار سی گلیوں میں تم آن کے خوش رفتار ہوئے کیوں راستہ چھوڑ کے چلتے ہو کیوں لوگوں سے کتراتے ہو کیوں چلتے پھرتے اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2470 سے 6203