قومی زبان

آئنہ ایسا کبھی دیکھا نہ تھا

آئنہ ایسا کبھی دیکھا نہ تھا میرے چہرے میں مرا چہرہ نہ تھا نیند لپٹی رہ گئی اس خواب سے در حقیقت خواب جو اپنا نہ تھا اک پڑوسی دوسرے سے نابلد بے مروت شہر تو اتنا نہ تھا روشنی کا یہ بھی ہے اک تجربہ میں جہاں بھٹکا تھا اندھیارا نہ تھا ہاتھ جو کھولا تو بچہ رو پڑا بند مٹھی میں کوئی سکہ ...

مزید پڑھیے

جنوں میں دھیان سے آخر پھسل گئی کوئی شے

جنوں میں دھیان سے آخر پھسل گئی کوئی شے نہ جانے کس کی دعا سے سنبھل گئی کوئی شے ابھی ابھی مری آنکھوں میں کچھ دھواں سا اٹھا ابھی ابھی مرے سینے میں جل گئی کوئی شے بہت سنبھال کے رکھنے کی ہم نے کوشش کی ہمارے ہاتھ سے پھر بھی نکل گئی کوئی شے میں جب بھی دیکھتا ہوں زندگی کا پچھلا ورق تو ...

مزید پڑھیے

محرومیوں کا مجھ کو جو عادی بنا دیا

محرومیوں کا مجھ کو جو عادی بنا دیا میں پوچھتا ہوں تجھ سے دیا بھی تو کیا دیا ہاں اے ہجوم اشک یہ اچھا نہیں ہوا تو نے ہمارے ضبط کا رتبہ گھٹا دیا کیسے اماں ملے گی ہمیں تیز دھوپ سے سورج نے ہر درخت کا سایہ جلا دیا اک اجنبی کی بات میں جادو کا تھا اثر پتھر دلوں میں درد محبت جگا دیا جب ...

مزید پڑھیے

رخ سے ترے عیاں ہے کسی کا لہو شفق

رخ سے ترے عیاں ہے کسی کا لہو شفق حاضر ہے دیکھ آئینۂ آب جو شفق آئینہ دار پرتو تصویر ناز ہیں یہ کہکشاں یہ قوس قزح سرخ رو شفق بے نور شے کو نور گھڑی بھر تو دے گئی افلاک پر مدام رہے سرخ رو شفق خون شہید ناز کی تشہیر کر گئی کس نے کہا یہ آگ لگا چار سو شفق پاتے ہی رنگ چڑھ گیا افلاک پر ...

مزید پڑھیے

رہے سلامت غم محبت کہاں کہاں اپنے کام آیا

رہے سلامت غم محبت کہاں کہاں اپنے کام آیا صنم پرستوں میں ذکر نکلا خدا پرستوں میں نام آیا کہوں میں کیوں بے وفا کسی کو وہ مجھ سے بے رخ نہ بے خبر ہے ہمیشہ اس کی طرف سے مجھ کو سلام پہنچا پیام آیا مری طرف سے گزرنے والے نہ دیکھ مجھ کو پلٹ پلٹ کر میں وہ نہیں ہوں کہ جو پکارے حضور ٹھہریں ...

مزید پڑھیے

لوگ بیٹھے ہیں یہاں ہاتھوں میں خنجر لے کر

لوگ بیٹھے ہیں یہاں ہاتھوں میں خنجر لے کر تم کہاں آ گئے یہ شاخ گل تر لے کر بھیگے بھیگے سے مرے گھر کے در و بام ملے شاید آیا تھا یہاں کوئی سمندر لے کر اب مجھے اور کسی شے کی تمنا نہ رہی مطمئن ہوں تری دہلیز کا پتھر لے کر میری قسمت میں سلگنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا کرو گے بھلا تم میرا ...

مزید پڑھیے

میں سوزش غم دوراں سے یوں جلا خاموش

میں سوزش غم دوراں سے یوں جلا خاموش کہ جیسے بزم میں جلتا ہو اک دیا خاموش یہ اور بات کہ ہونٹوں پہ لفظ بکھرے تھے مگر تھا بولنے والوں کا مدعا خاموش ابھی نہ چھیڑئیے خوابیدہ موسموں کا مزاج ابھی ہے رات کے آنچل میں ہر فضا خاموش مری سرشت میں خاموشیوں کا زہر نہ گھول نہ رہ سکے گا مرا ذوق ...

مزید پڑھیے

اپنے ہی بھائی کو ہمسایہ بناتے کیوں ہو

اپنے ہی بھائی کو ہمسایہ بناتے کیوں ہو صحن کے بیچ میں دیوار لگاتے کیوں ہو اک نہ اک دن تو انہیں ٹوٹ بکھرنا ہوگا خواب پھر خواب ہیں خوابوں کو سجاتے کیوں ہو کون سنتا ہے یہاں کون ہے سننے والا یہ سمجھتے ہو تو آواز اٹھاتے کیوں ہو خود کو بھولے ہوئے گزرے ہیں زمانے یارو اب مجھے تم مرا ...

مزید پڑھیے

اپنی سوچیں شکست و خام نہ کر

اپنی سوچیں شکست و خام نہ کر چل پڑا ہے تو پھر قیام نہ کر میں بھی حساس دل کا مالک ہوں سارے احساس اپنے نام نہ کر جسم چاہے غلام ہو جائے ذہنیت کو مگر غلام نہ کر میں خود اپنی نظر سے گر جاؤں تو مرا اتنا احترام نہ کر تیرے پیچھے غبار اڑنے لگے خود کو تو اتنا تیز گام نہ کر لوگ مشکوک ہو چلے ...

مزید پڑھیے

اپنے ہی بھائی کو ہمسایہ بناتے کیوں ہو

اپنے ہی بھائی کو ہمسایہ بناتے کیوں ہو صحن کے بیچ میں دیوار لگاتے کیوں ہو اک نہ اک دن تو انہیں ٹوٹ بکھرنا ہوگا خواب پھر خواب ہیں خوابوں کو سجاتے کیوں ہو کون سنتا ہے یہاں کون ہے سننے والا یہ سمجھتے ہو تو آواز اٹھاتے کیوں ہو خود کو بھولے ہوئے گزرے ہیں زمانے یارو اب مجھے تم مرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2463 سے 6203