قومی زبان

نہ یہ سمجھنا اداسی ہی اپنے گھر ہوگی

نہ یہ سمجھنا اداسی ہی اپنے گھر ہوگی یقین کیجے کبھی تو نئی سحر ہوگی بہت قدیم مرا زندگی سے رشتہ ہے کسے خبر تھی مری چاہ در بدر ہوگی اسی سبب نہ کبھی رک سکا سفر میرا تری توجہ کبھی میری راہ بر ہوگی قدم اٹھائے ہیں ہم نے بھی اس یقین کے ساتھ جہاں سے گزریں گے ہم تیری رہ گزر ہوگی ابھی ...

مزید پڑھیے

اے غم دوست ترا وہ ہی سہارا ہوگا

اے غم دوست ترا وہ ہی سہارا ہوگا بے خبر رہ کے تجھے جس نے بلایا ہوگا اپنے آنگن میں ابھی تک وہ بھٹکتا ہوگا نقش پا آپ کا جس نے بھی مٹایا ہوگا اپنے ماضی کے کچھ اوراق الٹ کر دیکھو کوئی تو ہوگا جو اب تک وہیں ٹھہرا ہوگا یہ سمجھ کر ہی چھپا رکھا ہے آنکھوں میں اسے آپ کا عکس مگر آپ سے پیارا ...

مزید پڑھیے

دلوں کی بات نظر سے کہی نہیں جاتی

دلوں کی بات نظر سے کہی نہیں جاتی کہی بھی جائے تو شاید سنی نہیں جاتی کسی کے ترک محبت کے بعد بھی اے دوست خلوص عشق کی شائستگی نہیں جاتی کبھی کبھی تو نظر کے بھی دیپ بجھتے ہیں چراغ دل کی مگر روشنی نہیں جاتی ہے اتنا عام یہاں اپنی روشنی کا چلن شبوں کے ذہنوں سے کیوں تیرگی نہیں جاتی اک ...

مزید پڑھیے

خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا ورنہ خوددار مسافر ہوں گزر جاؤں گا آندھیوں کا مجھے کیا خوف میں پتھر ٹھہرا ریت کا ڈھیر نہیں ہوں جو بکھر جاؤں گا زندگی اپنی کتابوں میں چھپا لے ورنہ تیرے اوراق کے مانند بکھر جاؤں گا میں ہوں اب تیرے خیالات کا اک عکس جمیل آئینہ خانے سے نکلا تو ...

مزید پڑھیے

ہجوم غم میں کس زندہ دلی سے

ہجوم غم میں کس زندہ دلی سے مسلسل کھیلتا ہوں زندگی سے قریب آتے ہیں لیکن بے رخی سے پرانے دوست بھی ہیں اجنبی سے فرشتے دم بخود ابلیس حیراں توقع یہ کہاں تھی آدمی سے نظام عصر نو یہ کہہ رہا ہے اندھیرے پھیلتے ہیں روشنی سے چلے آئے حرم سے مے کدے میں پریشاں ہو گئے جب زندگی سے لگی ہے آگ ...

مزید پڑھیے

ناکامی قسمت کا گلہ چھوڑ دیا ہے

ناکامی قسمت کا گلہ چھوڑ دیا ہے تدبیر سے تقدیر کا رخ موڑ دیا ہے وہ جرم بھی اک عظمت کردار ہے جس نے ٹوٹا ہوا اک رشتۂ دل جوڑ دیا ہے دل ڈوب چلا آخر شب خشک ہیں آنکھیں آ جا کہ ستاروں نے بھی دم توڑ دیا ہے بہتے ہوئے دیکھے ہیں ادھر وقت کے دھارے رخ ہم نے ارادوں کا جدھر موڑ دیا ہے فن کار کا ...

مزید پڑھیے

خود تماشہ بن گئی چشم تماشائی کہ بس

خود تماشہ بن گئی چشم تماشائی کہ بس سنگ در پر آج کی ہے وہ جبیں سائی کہ بس توڑ ڈالا میں نے آخر اس کا کج عکس آئنہ ورنہ وہ یوں تھا عجب محو تماشائی کہ بس ایسا لگتا ہے کہ بزم ناز میں تنہا ہوں میں چشم بینا ہو تو ہے وہ بزم آرائی کہ بس ذرے ذرے کی زباں پر نغمۂ جاں سوز ہے دشت زار غم نے ایسی ...

مزید پڑھیے

اک تو ہی نہیں ناصیہ فرسا مرے آگے

اک تو ہی نہیں ناصیہ فرسا مرے آگے ہر شخص ہے محروم تمنا مرے آگے اے زیست تجھے یاد ہیں انداز جنوں خیز جب ذرۂ صحرا بھی تھا صحرا مرے آگے وہ دور کہ دریا بھی تھا اک قطرۂ بے آب اب قطرۂ بے آب ہے دریا مرے آگے اے داور محشر وہ گھڑی یاد ہے تجھ کو جب لایا گیا میرا سراپا مرے آگے روتا ہے مرا جذبۂ ...

مزید پڑھیے

آمد فصل بہاراں نہیں جینے دیتی

آمد فصل بہاراں نہیں جینے دیتی وسعت چاک گریباں نہیں جینے دیتی حسرت دیدۂ نمناک رلاتی ہے مجھے یادش عمر گریزاں نہیں جینے دیتی قید گیسو سے رہائی کا نہیں ہے امکاں خوشبوئے زلف پریشاں نہیں جینے دیتی کنج تنہائی میں یوں شکوہ بہ لب بیٹھا ہوں تنگئ گور غریباں نہیں جینے دیتی جان لیوا ہے ...

مزید پڑھیے

شریک رسم گریہ ہیں سمندر آشنا آنکھیں

شریک رسم گریہ ہیں سمندر آشنا آنکھیں جہان آرزو میں کر نہ دیں محشر بپا آنکھیں یہ پتھر کی نہ ہو جائیں کہیں اقلیم ہستی میں رکھے محفوظ آشوب تمنا سے خدا آنکھیں تمہارے وعدۂ شب کا یقیں آتا نہیں ان کو رہین فتنۂ غم ہیں سکوں نا آشنا آنکھیں حصار دشت وحشت میں بگولوں کے اشاروں پر ہتھیلی پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2442 سے 6203