جو لذت آشناۓ درد ہجراں ہوتے جاتے ہیں
جو لذت آشناۓ درد ہجراں ہوتے جاتے ہیں سر کوئے تمنا وہ غزل خواں ہوتے جاتے ہیں سفینہ ڈوب ہی جائے گا اب بحر تلاطم میں حباب آسا حریف موج طوفاں ہوتے جاتے ہیں وہی بنتے ہیں باعث دوستو بیتابیٔ دل کا محبت میں جو نزدیک رگ جاں ہوتے جاتے ہیں متاع دل جنہیں سونپی تھی میں نے راہ الفت میں تعجب ...