قومی زبان

جو لذت آشناۓ درد ہجراں ہوتے جاتے ہیں

جو لذت آشناۓ درد ہجراں ہوتے جاتے ہیں سر کوئے تمنا وہ غزل خواں ہوتے جاتے ہیں سفینہ ڈوب ہی جائے گا اب بحر تلاطم میں حباب آسا حریف موج طوفاں ہوتے جاتے ہیں وہی بنتے ہیں باعث دوستو بیتابیٔ دل کا محبت میں جو نزدیک رگ جاں ہوتے جاتے ہیں متاع دل جنہیں سونپی تھی میں نے راہ الفت میں تعجب ...

مزید پڑھیے

محبت دل پہ کرتی ہے اثر آہستہ آہستہ

محبت دل پہ کرتی ہے اثر آہستہ آہستہ مریض غم کو ہوتی ہے خبر آہستہ آہستہ خدا اب جانے کیا انجام ہو اس سجدہ ریزی کا گھسا جاتا ہے تیرا سنگ در آہستہ آہستہ جنون عشق لے آیا ہے آخر دشت غربت میں مقدر بن گئی گرد سفر آہستہ آہستہ کیا ہے جنبش لب نے مجھے بے حال کچھ ایسا میں یوں تو سانس لیتا ہوں ...

مزید پڑھیے

کبھی نصیب کی بھولے سے بھی سحر نہ ہوئی

کبھی نصیب کی بھولے سے بھی سحر نہ ہوئی بغیر حسرت و غم زندگی بسر نہ ہوئی سحر قریب ہے شمع حیات بجھتی ہے دیار غیر میں یاروں کو ہی خبر نہ ہوئی تمہیں قریب سے دیکھتا تو خود کو پہچانا شعاع حسرت دل ہم پہ بے اثر نہ ہوئی کہاں کہاں نہ ہوئی داستان دل رسوا وہ کو بہ کو نہ ہوئی یا کہ در بدر نہ ...

مزید پڑھیے

مقابلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں

مقابلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں یہ ولولے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں قریب آؤ تو شاید سمجھ میں آ جائے کہ فاصلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں ہے میرے ساتھ مرے دشمنوں سے ربط انہیں یہ سلسلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں اگر ہے کوئی شکایت تو مل کے بات کرو مراسلے تو غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں کسی ...

مزید پڑھیے

فراز دار پہ اک دن سجا کے دیکھ ہمیں

فراز دار پہ اک دن سجا کے دیکھ ہمیں ہمیں ہیں اہل وفا آزما کے دیکھ ہمیں ہم ایک نقش محبت ہیں تیرے دامن پر مٹا سکے تو زمانے مٹا کے دیکھ ہمیں ہمیں بجھا کے اندھیروں میں کیوں بھٹکتا ہے چراغ راہ تھے ہم پھر جلا کے دیکھ ہمیں تجھے بھلانے کا وعدہ تو کر لیا ہم نے مگر یہ شرط ہے تو بھی بھلا کے ...

مزید پڑھیے

اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی

اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی ہم ڈوب کے سمجھے ہیں دریا تری گہرائی جاگ اے مرے ہمسایہ خوابوں کے تسلسل سے دیوار سے آنگن میں اب دھوپ اتر آئی چلتے ہوئے بادل کے سائے کے تعاقب میں یہ تشنہ لبی مجھ کو صحراؤں میں لے آئی یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے لمحوں نے خطا کی تھی ...

مزید پڑھیے

یاد یہ کس کی آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا

یاد یہ کس کی آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا سارے ہی غم بھلا گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا زندگی کیا ہے غم ہے کیا سوچتے سوچتے یوں ہی مجھ کو ہنسی جو آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا شام فراق میں مجھے تیرے ہی غم کے فیض سے نیند اچانک آ گئی ذہن کا بوجھ اتر گیا آج وفا کے ساز پر کون یہ عبرت سخن میری غزل سنا ...

مزید پڑھیے

شام غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے

شام غم ہے تری یادوں کو سجا رکھا ہے میں نے دانستہ چراغوں کو بجھا رکھا ہے اور کیا دوں میں گلستاں سے محبت کا ثبوت میں نے کانٹوں کو بھی پلکوں پہ سجا رکھا ہے جانے کیوں برق کو اس سمت توجہ ہی نہیں میں نے ہر طرح نشیمن کو سجا رکھا ہے زندگی سانسوں کا تپتا ہوا صحرا ہی سہی میں نے اس ریت پہ ...

مزید پڑھیے

ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا

ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا مری بستی میں ہنگاموں کا اندازہ نہیں ہوتا جدھر محسوس ہو خوشبو اسی جانب بڑھے جاؤ اندھیری رات میں رستوں کا اندازہ نہیں ہوتا جو صدیوں کی کسک لے کر گزر جاتے ہیں دنیا سے مورخ کو بھی ان لمحوں کا اندازہ نہیں ہوتا یہ رہبر ہیں کہ رہزن ہیں مسیحا ...

مزید پڑھیے

مسئلے بھی مرے ہم راہ چلے آتے ہیں

مسئلے بھی مرے ہم راہ چلے آتے ہیں حوصلے بھی مرے ہم راہ چلے آتے ہیں کچھ نہ کچھ بات مرے عزم سفر میں ہے ضرور قافلے بھی مرے ہم راہ چلے آتے ہیں جب بھی اے دوست تری سمت بڑھاتا ہوں قدم فاصلے بھی مرے ہم راہ چلے آتے ہیں غم مرے ساتھ نکلتے ہیں سویرے گھر سے دن ڈھلے بھی مرے ہم راہ چلے آتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2443 سے 6203