قومی زبان

عیدی کیسے بڑھائی جائے

بچوں نے عید پر جب نعرے بہت لگائے ماں باپ نے بھی اپنے دکھڑے انہیں سنائے بچو تمہاری عیدی کیسے بڑھائی جائے تم خود ہی کہہ رہے ہو مہنگائی بڑھ گئی ہے عام آدمی بچارا کیا کھائے کیا بچائے بچو تمہاری عیدی کیسے بڑھائی جائے پتلون کی سلائی پچانوے روپے دی عرفی کے بوٹ ساڑھے چھ سو روپے میں ...

مزید پڑھیے

ذرا سوچو

ٹیٹو بھائی ذرا سوچو اپنے بھی پر ہوتے تو منگل کرتے جنگل میں ڈبکی لیتے بادل میں سات سمندر کرتے پار خوب اڑانیں بھرتے یار نیچی چھت پر کیا سوتے اونچے پربت پر ہوتے اور اگر کروٹ پھرتے اپنی چھت پر آ گرتے

مزید پڑھیے

کیا کھیلیں کہاں کھیلیں

بولیں غصہ ہو کر باجی گھر میں کیا تک ہے کرکٹ کی عدنان ایمن ثمرہ فیضی باہر جا کر کھیلو نا پودے ٹوٹ نہیں جائیں گے گملے پھوٹ نہیں جائیں گے ابو روٹھ نہیں جائیں گے کیرم لا کر کھیلو نا ایک گوٹ کیرم کی کم تھی اوپر سے آ دھمکی عرشی سب نے مانی بات زمن کی ریل بنا کر کھیلو نا اس کے گارڈ بنے ...

مزید پڑھیے

صور اسرافیل

اب تو بستر کو جلدی سے تہہ کر چکو لقمہ ہاتھوں میں ہے تو اسے پھینک دو اپنے بچوں کی جانب سے منہ پھیر لو اس گھڑی بیویوں کی نہ پروا کرو راہ میں دوستوں کی نظر سے بچو اس سے پہلے کہ تعمیل میں دیر ہو سائرن بج رہا ہے چلو دوستو!

مزید پڑھیے

پہلے ہم اس کی محفل میں جانے سے کترائے تو

پہلے ہم اس کی محفل میں جانے سے کترائے تو لیکن کیا کیجے جب دل کی شامت ہی آ جائے تو اس جھگڑے میں ہم سایوں کی دخل اندازی واجب ہے بنیادی موضوع یہی تھا جاگ پڑے ہمسائے تو غزلوں میں رنگینی لانے کی بابت پھر سوچوں گا پہلے یہ بتلا دو اس نے چھپ کر تیر چلائے تو خود ملنے کی خواہش کرنا البتہ ...

مزید پڑھیے

تم نے جی بھر کے ستانے کی قسم کھائی ہے

تم نے جی بھر کے ستانے کی قسم کھائی ہے میں نے آنسو نہ بہانے کی قسم کھائی ہے باغبانوں نے یہ احساس ہوا ہے مجھ کو آشیانوں کو جلانے کی قسم کھائی ہے انقلابات کے شعلے بھی کہیں بجھتے ہیں آپ نے آگ بجھانے کی قسم کھائی ہے ڈر یہی ہے کہ کہیں خود سے نہ دھوکا کھا جائے جس نے دھوکے میں نہ آنے کی ...

مزید پڑھیے

جو ہونٹوں پہ مہر خموشی لگا دی

جو ہونٹوں پہ مہر خموشی لگا دی تو مل کر نگاہوں نے تالی بجا دی کسی کے لیے میں پریشاں نہیں ہوں رقیبوں نے جانے کہاں کی اڑا دی جنوں اپنی تقدیر سے کھیلتا ہے مٹائی بنا دی بنائی مٹا دی ابھی نور و ظلمت میں چلتی رہے گی نہ وہ اس کے عادی نہ میں اس کا عادی خبر کارواں کی نہ ہو رہزنوں کو یہی ...

مزید پڑھیے

وجود غیب کا عرفان ٹوٹ جاتا ہے

وجود غیب کا عرفان ٹوٹ جاتا ہے صریر خامہ سے وجدان ٹوٹ جاتا ہے جو ہو سکے تو کرو عام لاابالی پن خودی کے بوجھ سے انسان ٹوٹ جاتا ہے سنائیے وہ لطیفہ ہر ایک جام کے ساتھ کہ ایک بوند سے ایمان ٹوٹ جاتا ہے سجانے لگتا ہوں جب کچھ حسین یادوں کے پھول مرے خیال کا گلدان ٹوٹ جاتا ہے تو لازمی بھی ...

مزید پڑھیے

اب دو بہ دو تجھ سے بات ہووے

اب دو بہ دو تجھ سے بات ہووے جو کچھ بھی ہمارے ساتھ ہووے بازیچہ بنی ہوئی ہے دنیا تو چال چلے تو مات ہووے چہرے پہ گرا کے اپنی زلفیں تو حکم کرے تو رات ہووے شرمائے تو کیفیت سے لبریز پیمانہ کائنات ہووے تجھ نور صفات کے مقابل ہووے تو ہماری ذات ہووے ہے قید حیات پیچ در پیچ مر جائیں اگر ...

مزید پڑھیے

باب طلسم ہوش ربا مل گیا مجھے

باب طلسم ہوش ربا مل گیا مجھے میں خود کو ڈھونڈتا تھا خدا مل گیا مجھے جانا کہ ریگ زار کے سینے پہ زخم ہیں سایہ جو راستے میں پڑا مل گیا مجھے ویرانیوں سے اس نے مرا حال سن لیا تنہائیوں سے اس کا پتہ مل گیا مجھے شہرت کے آسمان پر اڑنے لگا تھا میں رستے میں آگہی کا خلا مل گیا مجھے دنیا تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2434 سے 6203