قومی زبان

شامیانے مری غیبت میں ہوا تانتی ہے

شامیانے مری غیبت میں ہوا تانتی ہے گاؤں میں میرے نہ ہونے سے بڑی شانتی ہے وہ بگولا ہے کہ اڑنے پہ سدا آمادہ میں جو مٹی ہوں تو مٹی بھی کہاں مانتی ہے دیکھنا کیسے ہمکنے لگے سارے پتھر میری وحشت کو تمہاری گلی پہچانتی ہے پھول بنتی ہے کلی ہنستے ہنساتے لیکن اس کے دل پہ جو گزرتی ہے وہی ...

مزید پڑھیے

سوکھا بانجھ مہینہ مولا پانی دے

سوکھا بانجھ مہینہ مولا پانی دے ساون پیٹے سینہ مولا پانی دے ساری جھیلیں دھول اڑانے والوں کی اندھا ہر آئینہ مولا پانی دے دریا نیکی سوکھی کھیتی خود غرضی بھوکا پیٹ کمینہ مولا پانی دے فصلیں آتے جاتے لشکر کاٹے گا اپنے بھاگ پسینہ مولا پانی دے مچھلی ہانپ رہی ہے سانسیں لینے کو کیچڑ ...

مزید پڑھیے

غوغا کھٹ پٹ چیخم دہاڑ

غوغا کھٹ پٹ چیخم دہاڑ اف آوازوں کے جھنکاڑ رات گھنا جنگل اور میں ایک چنا کیا پھوڑے بھاڑ مجنوں کا انجام تو سوچ یار مرے مت کپڑے پھاڑ ظلمت مارے گی شب خون روشنیوں کی لے کر آڑ اپنا گنجا چاند سنبھال میرے سر پر دھول نہ جھاڑ آخر تجھ کو مانیں گے نقادوں کو خوب لتاڑ دیکھو کب تک باقی ...

مزید پڑھیے

شاخوں پر ابہام کے پیکر لٹک رہے ہیں

شاخوں پر ابہام کے پیکر لٹک رہے ہیں لفظوں کے جنگل میں معنی بھٹک رہے ہیں پاکیزہ اخلاق مسلط ہے جذبے پر خواہش کی آنکھوں میں کانٹے کھٹک رہے ہیں ملہاریں گاتے ہیں مینڈک تال کنارے آسمان پر بھورے بادل مٹک رہے ہیں مطلع پر یادوں کی پو سی پھوٹ رہی ہے من پر کالے سانپ اپنے پھن پٹک رہے ...

مزید پڑھیے

اک مصرف اوقات شبینہ نکل آیا

اک مصرف اوقات شبینہ نکل آیا ظلمت میں تری یاد کا زینہ نکل آیا ہر چند کہ محفل نے مری قدر بہت کی اکتا کے انگوٹھی سے نگینہ نکل آیا پھر کوہ کنی ڈھال رہی ہے نئے تیشے پھر فخر سے چٹان کا سینہ نکل آیا سچ مچ وہ تغافل سے کنارہ ہی نہ کر لے میں سوچنے بیٹھا تو پسینہ نکل آیا غوطہ جو لگایا ہے ...

مزید پڑھیے

کیا کرتا میں ہم عصروں نے تنہا مجھ پر چھوڑ دیا

کیا کرتا میں ہم عصروں نے تنہا مجھ پر چھوڑ دیا سب نے بوسہ دے کر سچ کا بھاری پتھر چھوڑ دیا ڈھیلا پڑتا تھا سولی کا پھندا اس کی گردن پر میرے قاتل کو منصف نے فدیہ لے کر چھوڑ دیا دریا کے رخ بہنے والی مچھلی مردہ مچھلی ہے اس کشتی کی خیر نہیں ہے جس نے لنگر چھوڑ دیا شعلوں کی اس ہمدردی پر ...

مزید پڑھیے

بصارتوں پہ بھنور انکشاف کرتا ہے

بصارتوں پہ بھنور انکشاف کرتا ہے کہ بلبلے کا سمندر طواف کرتا ہے عجیب بھول بھلیاں ہے جستجو خود کی ہر ایک نقش قدم انحراف کرتا ہے مزا تو جب ہے کہ ہم اس کو نا خدا کر لیں ہوا کا رخ جو ہمارے خلاف کرتا ہے جسے گناہ کی توفیق ہی نہ ہو تا عمر اسے خدا نہ زمانہ معاف کرتا ہے لہو کی مار سے بچئے ...

مزید پڑھیے

طوفان بلا سے جو میں بچ کر گزر آیا

طوفان بلا سے جو میں بچ کر گزر آیا وہ پوچھ کے صحرا سے پتہ میرے گھر آیا آغاز تمنا ہو کہ انجام تمنا الزام بہر حال ہمارے ہی سر آیا اس میں تو کوئی دل کی خطا ہو نہیں سکتی جب آنکھ لگی آپ کا چہرہ نظر آیا بستی میں مری کج کلہی جرم ہوئی ہے دیکھوں گا اگر اب کوئی پتھر ادھر آیا آیا تری محفل ...

مزید پڑھیے

یہ سچ ہے کوئی رہنما ٹھیک نئیں

یہ سچ ہے کوئی رہنما ٹھیک نئیں مرے بھائی تو بھی چلا ٹھیک نئیں ادیبوں کو سچ بولنا چاہیے سیاست کی آب و ہوا ٹھیک نئیں نگاہوں سے میلا نہ ہو جائے وہ اسے دیر تک دیکھنا ٹھیک نئیں ہمیں تو وہی سمت مرغوب ہے بلا سے ادھر راستہ ٹھیک نئیں چلو دھوپ سے آشنائی کریں یہ دیوار کا آسرا ٹھیک ...

مزید پڑھیے

آج تک آزما رہی ہے مجھے

آج تک آزما رہی ہے مجھے کربلا پھر بلا رہی ہے مجھے خون للکارتا ہے بڑھ بڑھ کر صاف آواز آ رہی ہے مجھے خنجر شمر تو وسیلہ ہے خود شناسی مٹا رہی ہے مجھے ذرہ ذرہ مرے لیے کوفہ زندگی ورغلا رہی ہے مجھے آج بھی لو بلند ہے میری موت کب سے بجھا رہی ہے مجھے

مزید پڑھیے
صفحہ 2435 سے 6203