قومی زبان

وصیت

گڈو بیٹے روتے کیوں ہو قصہ سننے کی خواہش ہے اچھا اپنے آنسو پونچھو لو ہم اک قصہ کہتے ہیں اکسٹھ سال گزرتے ہیں افغانوں کی اک بستی میں لڈن خاں نے جنم لیا تھا داروغہ کے بیٹے تھے وہ نانا ان کے مولانا تھے کھاتا پیتا گھر تھا ان کا لڈن خاں اچھے بچے تھے بالکل ویسے جیسے تم ہو ان کے گھر والے ...

مزید پڑھیے

کیسے سمجھائیں نانی کو

دس روپے فی بوتل پانی ہکا بکا رہ گئی نانی اپنا بچپن یاد کیا تو ارزانی سی تھی ارزانی بارہ آنے سیر اصلی گھی گیارہ آنے تولہ چاندی کیلے تھے دو پیسے درجن چاول پانچ آنے پنسیری بائیسکوپ ٹکٹ ایک آنہ ایک اٹھنی کا پاجامہ اسکولوں میں فیس نہیں تھی کالج دو روپے ماہانہ نانا کی تنخواہ جو ...

مزید پڑھیے

ہلا بولنے والے

آندھی تھی طوفان تھا کیا تھا میری میز پہ کون آیا تھا کیمل انک پڑی ہے الٹی گل دانوں میں ریت بھری ہے کرسی کی ٹانگیں ترچھی ہیں فائل میں تتلی نتھی ہے ٹائم پیس کا شیشہ ٹوٹا میز پوش پر کالے دھبے کٹے ہوئے اخبار کے فوٹو لیٹر پیڈ میں کاغذ آدھے ٹوپی غائب ہے شیفر کی کم ہیں البم کے نو ...

مزید پڑھیے

موت کا دوسرا نام

اس کو البم دکھاتے ہوئے میں بتلایا یہ دیکھیے یہ میرا دوست ہے آج کل غالباً کینیا میں ربر کی کسی فرم میں اونچے عہدے پہ ہے اس نے چہرے کو لمبا بنا کر کہا میں اسے جانتا ہوں کئی بار دو چار پیگ اس کے ہم راہ بھی پی چکا ہوں یہ چھ سال پہلے مجھے کینیا میں ملا تھا مگر اس ملاقات کے دوسرے ہی ...

مزید پڑھیے

ممکن نا ممکن

چاند کی بڑھیا اپنی چھت پر آ سکتی ہے آ سکتی ہے مدو اسے منا سکتی ہے اپنی مدو جی ہاں مدو اس کو چھت پر لا سکتی ہے ایک بندریا ستر لڈو کھا سکتی ہے کھا سکتی ہے اقرا اسے کھلا سکتی ہے ستر لڈو جی ہاں اقرا جیل اسے پہنچا سکتی ہے چھوٹی حمرا کھنڈوا کیسے جا سکتی ہے جا سکتی ہے ثمرہ کام بنا سکتی ...

مزید پڑھیے

چور چوہے اور بچے

گل عباس گلاب چنبیلی گیندا چمپا بیلا جوہی کل تک ان سے لدے ہوئے تھے آج اداس کھڑے ہیں پودے چوہے پھول کتر جاتے ہیں بنجر کو زرخیز بنا کر کھیتوں میں فصلیں لہرا کر جو کھلیانوں کو بھرتا ہے وہ کسان بھوکوں مرتا ہے غلہ تو چوہے کھاتے ہیں بچو ایسا کب تک ہوگا تم چاہو گے جب تک ہوگا روکو اس ...

مزید پڑھیے

بنے ہوئے ہیں فصیل نظر در و دیوار

بنے ہوئے ہیں فصیل نظر در و دیوار ہر اک طرف در و دیوار پر در و دیوار مجھے بھی در بدری میں ہی لطف آتا ہے مری بلا سے فراہم نہ کر در و دیوار ہمارے گھر میں تو مینار بن گئی ہر اینٹ چھتوں کی حد میں اٹھاتے ہیں سر در و دیوار گھٹا کا کیا ہے برس کر نکل گئی آگے یہاں سسکتے رہے رات بھر در و ...

مزید پڑھیے

کہاں تو پائے سفر کو راہ حیات کم تھی

کہیں تو پائے سفر کو راہ حیات کم تھی قدم بڑھایا تو سیر کو کائنات کم تھی سوائے میرے کسی کو جلنے کا ہوش کب تھا چراغ کی لو بلند تھی اور رات کم تھی خیال صحرائے ذات میں اس مقام پر تھا جہاں کہ گنجائش فرار و نجات کم تھی وہ فرد بخشش کہ جس کی تکمیل کی ہے میں نے نگاہ ڈالی تو اس میں اپنی ہی ...

مزید پڑھیے

یوں توڑ نہ مدت کی شناسائی ادھر آ

یوں توڑ نہ مدت کی شناسائی ادھر آ آ جا مری روٹھی ہوئی تنہائی ادھر آ مجھ کو بھی یہ لمحوں کا سفر چاٹ رہا ہے مل بانٹ کے رو لیں اے مرے بھائی ادھر آ اے سیل روان ابدی زندگی نامی میں کون سا پابند ہوں ہرجائی ادھر آ اس نکہت و رعنائی سے کھائے ہیں کئی زخم اے تو کہ نہیں نکہت و رعنائی ادھر ...

مزید پڑھیے

آلام روزگار کا منہ زرد ہو گیا

آلام روزگار کا منہ زرد ہو گیا ہر زخم کا علاج ترا درد ہو گیا چہرے کی ہے تلاش ہر اک فرد کو جہاں اس انجمن سے جو بھی اٹھا فرد ہو گیا کھلتے ہیں دل میں پھول تری یاد کے طفیل آتش کدہ تو دیر ہوئی سرد ہو گیا گمراہیوں نے دھول اڑا دی مذاق میں ہر نقش پائے راہنما گرد ہو گیا اس عہد نو کو لہجۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2433 سے 6203