قومی زبان

نربھیا کی موت پر

کبھی خرد کی کھلی دھوپ میں چلا آیا کبھی میں عشق کے سائے میں جا کے بیٹھ گیا کبھی کتاب کھنگالی کبھی ستارے گنے حرم میں دیر میں گرجا میں ہر طرف ڈھونڈا تجھے صدائیں لگائیں تجھے تلاش کیا مگر اے روح کہیں تو نظر نہیں آئی میں تھک کے ہار کے لوٹا تو کس طرح لوٹا کہ اپنی جسم کی سرحد پہ آ گیا ہوں ...

مزید پڑھیے

بیتے لمحوں کو ڈھونڈھتا ہوں میں

بیتے لمحوں کو ڈھونڈھتا ہوں میں تتلیوں کو پکڑ رہا ہوں میں جانے والے مجھے بھی لے چل ساتھ قید ہستی میں مبتلا ہوں میں اک طرف سوچ اک طرف احساس دو گروہوں میں بٹ گیا ہوں میں جبر آغاز جبر ہی انجام تجھ سے خالق مرے خفا ہوں میں جب سے تیرے قریب آیا ہوں خود سے بھی دور ہو گیا ہوں میں تو مری ...

مزید پڑھیے

نمک نگاہوں میں ہونٹوں میں ذائقہ نہ رہا

نمک نگاہوں میں ہونٹوں میں ذائقہ نہ رہا انہیں رجھانے کا اب ہم میں حوصلہ نہ رہا نہ تاک جھانک نہ ہی چلمنیں دریچوں پر جہاں بھی دیکھیے نظروں کا رابطہ نہ رہا پرو کے ہار رہی جس کی منتظر برسوں وہ لمحہ بھر بھی مرے سامنے کھڑا نہ رہا عجب زمانہ ہے بنتی ہیں جوڑیاں پل پل رہی پسند سوئمور کا ...

مزید پڑھیے

یوں بلانے سے نیند کب آئی

یوں بلانے سے نیند کب آئی جب بھی آئی ہے بے طلب آئی رو پڑے دل دیار کے باسی ان کے گھر میں بہار جب آئی میں کسی بزم میں اگر آیا ساتھ میرے تمہاری چھب آئی دل ہی دھڑکا نہ آنکھ ہی پھڑکی کیوں تری یاد بے سبب آئی چشم تر تو برس نہ سوچ ابھی بھاڑ دشت جنوں میں کب آئی یاد کا بھی عجیب عالم ہے جب ...

مزید پڑھیے

فاصلوں کی برف پگھلے گی مجھے یہ ڈر نہ تھا

فاصلوں کی برف پگھلے گی مجھے یہ ڈر نہ تھا اس سے پہلے لمس کا سورج مرے سر پر نہ تھا دل کے دروازے پہ دستک دے رہا تھا کون تھا اک ذرا سوچا کوئی چہرہ کوئی پیکر نہ تھا آئنہ کی ضد تھی بانٹے جائیں چہروں کے نقوش ورنہ میں بھی کانچ کی گڑیوں کا سوداگر نہ تھا زرد ٹھٹھری دھوپ میں پہنے ہوئے ...

مزید پڑھیے

یہ کس مقام سے آخر پلٹ گیا ہے تو

یہ کس مقام سے آخر پلٹ گیا ہے تو مرے حبیب بتا کس جگہ چھپا ہے تو حیات آ کے یہاں پر ٹھہرنے والی ہے کسی کے پاؤں کی آہٹ پہ بولتا ہے تو جہاں بھی شام ہوئی مجھ کو تیری یاد آئی شب فراق میں سن آخری دعا ہے تو گزرتا وقت کہاں خود کو بھی چھپا پایا زمانہ جس میں عیاں ہے وہ آئینہ ہے تو کسی نے ...

مزید پڑھیے

شہر بے صوت میں اماں مل جائے

شہر بے صوت میں اماں مل جائے کوئی پتھر مری طرف ہی آئے اک فصیل ہوا نہ رنگ نہ روپ اک خیال خدا مجھے بہکائے میرا چہرہ اتارنے والو میری صورت کسے کسے بہلائے نیلا پیلا غبار تنہا پیڑ میرے آنگن میں چاند بھی گھبرائے کھڑکیاں اپنے جسم کی کھولو کیا عجب دھوپ شام تک آ جائے یخ زدہ منجمد کہر ...

مزید پڑھیے

جا بجا ہے نغمہ خواں

جا بجا ہے نغمہ خواں میرا دل میری زباں سننے والا ہی نہیں کیا کروں قصہ بیاں مجھ سے وابستہ نہ کر عشق کا سود و زیاں پاؤں کے نیچے زمیں اور سر پر آسماں خود تو آگے آ گیا رکھ گیا کچھ درمیاں اس نے پھیری ہے نظر میں ابھی تک ہوں یہاں اپنی وسعت جانچ لے خود مٹا وہم و گماں اس خرابے کی ...

مزید پڑھیے

میں جو بد حواس تھا محو قیاس تم بھی تھے

میں جو بد حواس تھا محو قیاس تم بھی تھے بچھڑتے وقت ذرا سا اداس تم بھی تھے بدلتے وقت کا منظر تھا سب کی آنکھوں میں مثال میں تھا اگر اقتباس تم بھی تھے مجھے تو دار ملا تم کو کیسے تخت ملا سنا ہے میری طرح حق شناس تم بھی تھے تمہارے ہونٹ سے خوشیاں چھلک گئیں کیسے اٹھائے ہاتھ میں خالی گلاس ...

مزید پڑھیے

خلوت جاں سے چلی بات زباں تک پہنچی

خلوت جاں سے چلی بات زباں تک پہنچی کوئی چنگاری انگیٹھی سے دھواں تک پہنچی راز و اسرار کے کھلنے کی توقع تھی کسے اک کہانی تھی کسی طرح بیاں تک پہنچی رہگزر کا ہے تقاضا کہ ابھی اور چلو ایک امید جو منزل کے نشاں تک پہنچی باعث راحت و غم لطف کرم تھا ورنہ جتنی خواہش تھی فقط سود و زیاں تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2426 سے 6203