قومی زبان

دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالا

دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالا دل جس کا لیا اس کو بہت دور نکالا زاہد کو کسی اور کی باتیں نہیں آتیں آیا تو وہی تذکرۂ حور نکالا دشمن کو عیادت کے لیے یار نے بھیجا اچھا یہ علاج دل رنجور نکالا اے تیر ستم چل تری دعوت ہے مرے گھر زخم‌ دل ناشاد نے انکور نکالا وہ تذکرۂ غیر پہ جھنجھلا ...

مزید پڑھیے

بسائیں کتنی بھی ہم بستیاں خلاؤں میں

بسائیں کتنی بھی ہم بستیاں خلاؤں میں اٹھے ہیں خاک سے رہنا تو ہے سرابوں میں ہمیں نہ بور کرو صاحب ادا کہہ کر رہے ہیں ہم تو ہمیشہ ہی کج اداؤں میں نہ دھوپ مجھ کو گوارہ نہ چاند کی خوشبو مرا وجود بکھرتا نہ یوں ہواؤں میں دکھائی مجھ کو دیا تھا وہ چاند سا چہرہ ستارہ آنکھیں مگر کھو گئیں ...

مزید پڑھیے

اپنے بوجھ سے ٹوٹ رہا ہوں

اپنے بوجھ سے ٹوٹ رہا ہوں میں بھی کانچ کا اک ٹکڑا ہوں کوئی کہانی یاد نہیں ہے ردی کاغذ بیچ چکا ہوں زیست نے اپنے پر پھیلائے ریت کے صحراؤں میں کھڑا ہوں اپنی بات کہوں تو کیوں کر ان کی باتوں میں الجھا ہوں سب مٹی کے سوداگر ہیں جن کے بھی ہاتھوں میں بکا ہوں مجھ سے ترک تعلق کر لو میں ...

مزید پڑھیے

خوشبو بدن کی خالی سمندر ہواؤں کے

خوشبو بدن کی خالی سمندر ہواؤں کے کیوں چھیڑتے ہیں ہم کو پیمبر صداؤں کے دیکھی نہ جائے ہم سے پریشاں برہنگی چنتے ہیں اپنے جسم میں پتھر رداؤں کے پھر بوند بوند ٹپکی ہمارے بدن سے دھوپ پھر عکس عکس بکھرے ہیں منظر فضاؤں کے یہ اور بات اپنی ہی تہہ تک نہ جا سکے اترے تھے چاند پر بھی شناور ...

مزید پڑھیے

کن انکھیوں پر سوچ پرندہ بیٹھا تھا

کن انکھیوں پر سوچ پرندہ بیٹھا تھا میں نے چہرہ آئینے میں دیکھا تھا لفظ نہ جملے اور نہ ہی کوئی مفہوم اس نے خط لکھا لیکن کیا لکھا تھا میری رام کہانی سب نے پوچھی تھی میرے دل کا درد نہ کوئی جانا تھا کیا تجدید مراسم کا امکان نہیں میں معصوم تھا میں نے اس سے پوچھا تھا قوس قزح کی چھوٹ ...

مزید پڑھیے

زندگی نقش آب ہے لوگو

زندگی نقش آب ہے لوگو بلبلہ ہے سراب ہے لوگو تم جہاں سے بھی چاہو پڑھ ڈالو میرا چہرہ کتاب ہے لوگو ظاہراً سب سکوں سے رہتے ہیں سب کو ہی اضطراب ہے لوگو اونچے اونچے مکان خالی گھر سب کا خانہ خراب ہے لوگو اس شہر ڈوبے اس شہر نکلے عشرت آفتاب ہے لوگو میری بربادیاں ہی بیچو تم کچھ کماؤ ...

مزید پڑھیے

رک جانا تم میں آؤں گا شام ڈھلے

رک جانا تم میں آؤں گا شام ڈھلے اپنا تن من بکھراؤں گا شام ڈھلے اک تیرے آنے کی دیر ہے آ جانا عطر ہوا میں مہکاؤں گا شام ڈھلے تیری آنکھیں روشن تارے میں ان میں قوس قزح بھی لہراؤں گا شام ڈھلے قتل اگر میرا نہ کیا دن درپن میں اپنے آپ ہی مر جاؤں گا شام ڈھلے دیکھو پھر آون آون برسات کی ...

مزید پڑھیے

اثبات

وہ ایک لمحہ کہ لم یزل نے ازل کی خوش بخت ساعتوں کا خمیر لے کر ہمارے خوں کی رطوبتوں میں بھگو کے اک منحنی سے پیکر میں ڈھال کر دھیرے دھیرے آزمائش کے مرحلوں سے گزار کر جس کو دم کیا تھا وہ ایک لمحہ کہ طرح جس کہ سمندروں کی روایتوں سے ہواؤں کی سنسناہتوں کی حکایتوں سے خلیق مٹی کی سوندھی ...

مزید پڑھیے

ہر اک صلیب و دار کا نظارہ ہم ہوئے

ہر اک صلیب و دار کا نظارہ ہم ہوئے ہر ایک کے گناہ کا کفارہ ہم ہوئے آئی جو بھوری شام سلگنے لگا بدن بھیگی جو کالی رات تو انگارا ہم ہوئے مٹی میں مل گئے تو کھلائے گناہ گل ابلے تو اپنے خون کا فوارہ ہم ہوئے سمجھا تھا وہ کہ خاک میں ہم کو ملا دیا پیدا اسی زمین سے دوبارہ ہم ہوئے ہر ایک ...

مزید پڑھیے

وہ بہت بیقرار ہے شاید

وہ بہت بیقرار ہے شاید اس کو بھی انتظار ہے شاید نفرتیں سر سے پاؤں تک دیکھیں دل میں تھوڑا سا پیار ہے شاید کر کے طے مرحلے اداس تھا وہ جیب میں اس کی ہار ہے شاید زندگی آخری ٹھکانے پر قابل اعتبار ہے شاید غم بھی پھل پھولتا ہے آئے دن شجر سایہ دار ہے شاید میرے رونے پہ کوئی بات نہ کی آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2425 سے 6203