قومی زبان

طے ہوا ہے اس طرف کی رہ گزر کا جاگنا

طے ہوا ہے اس طرف کی رہ گزر کا جاگنا میرے پاؤں میں کسی لمبے سفر کا جاگنا بولتے تھے کیا پرندے سے در و دیوار پر یاد ہے اب بھی مجھے وہ اپنے گھر کا جاگنا اب کہاں موسم ہے وہ دار و رسن کا دوستو اب کہاں عشاق کے شانوں پہ سر کا جاگنا ورنہ مجھ کو دھوپ کا صحرا کبھی نہ چھوڑتا آ گیا ہے کام میرے ...

مزید پڑھیے

وہ ہیں تیار عمارت کو گرانے والے

وہ ہیں تیار عمارت کو گرانے والے تو کہاں ہے مری بنیاد اٹھانے والے سوچتا ہوں سر ساحل کھڑا جانے کب سے ڈوب جاتے ہیں کہاں پار لگانے والے ان سے کہہ دو نہ کریں دست ہوس ہم پہ دراز ہم تو پینے سے زیادہ ہیں پلانے والے غم کی تعبیر سے پہلے مجھے معلوم نہ تھا میرے اشعار کو سنگیت بنانے ...

مزید پڑھیے

آئی ہے ایسے غم میں روانی پرت پرت

آئی ہے ایسے غم میں روانی پرت پرت بہنے لگا ہے آنکھ سے پانی پرت پرت باندھا ہے جب سے تیرے تصور کو شعر میں شعروں کے کھل رہے ہیں معانی پرت پرت چھایا رہا ہو جیسے بڑھاپا نفس نفس گزری ہے ایسے اپنی جوانی پرت پرت دل کے ورق ورق پہ ترا نام ثبت ہے اک تو ہی دھڑکنوں میں ہے جانی پرت پرت گرد و ...

مزید پڑھیے

میری کشتی کے بادباں ٹوٹے

میری کشتی کے بادباں ٹوٹے ناخداؤں پہ آسماں ٹوٹے وہ جو سپنے تھے میرے بچپن کے دیکھیے آ کے وہ کہاں ٹوٹے زندگی کے بھرم تھے جتنے بھی سب کے سب آج ناگہاں ٹوٹے کیسی کروٹ زمین نے بدلی کچے پکے سبھی مکاں ٹوٹے بول کتنے مری دعاؤں کے تیرے لہجے سے مہرباں ٹوٹے یاد آتا ہے ٹوٹنا دل کا جب کوئی ...

مزید پڑھیے

ہمیں بھی آ گیا آخر کسی غم کو چھپا دینا

ہمیں بھی آ گیا آخر کسی غم کو چھپا دینا کوئی دل کی اگر پوچھے ذرا سا مسکرا دینا میں اپنے دل میں رکھتی ہوں محبت کرنے والوں کو کبھی سیکھا نہیں میں نے نگینوں کو گنوا دینا اگر خالی ہوں دونوں ہاتھ بھی پھیلا نہیں سکتی کہ جو خود ہی سوالی ہو مجھے پھر اس نے کیا دینا کسی کی پیاس نے سمجھا ...

مزید پڑھیے

اس طرح چھو کے گزرتی ہے تری یاد مجھے

اس طرح چھو کے گزرتی ہے تری یاد مجھے جیسے اقرار کے لمحوں کو حیا چھوتی ہے جیسے گھلتا ہے گھٹاؤں کا بدن پانی میں جیسے پھولوں کی قباؤں کو صبا چھوتی ہے جیسے دم توڑتی روحوں سے گلے آس لگے جیسے مظلوم کے ہونٹوں کو دعا چھوتی ہے جیسے سورج کی کرن چوم لے رخ دھرتی کا جیسے سجدے کی ضیا نور خدا ...

مزید پڑھیے

نا ممکن

اے مرے راہ سفر کے ساتھی تم مری موت کی دہلیز تلک ساتھ سہی زیست کی رات کے اس پچھلے پہر کیوں پلاتے ہو محبت کی دوا اب مرا روگ تو اچھا نہیں ہونے والا اب کوئی خواب بھی سچا نہیں ہونے والا تم مری آنکھ سے ڈھلکے ہوئے اشکوں کو پھر سے واپس انہی دو آنکھوں میں لوٹا دو گے کیا مرا کھویا ہوا ...

مزید پڑھیے

دل دھڑکنوں میں جیسے دھڑکتا اسی کا تھا

دل دھڑکنوں میں جیسے دھڑکتا اسی کا تھا جیسے مرے وجود پہ چہرہ اسی کا تھا رکھا ہوا تھا جس کو زمانے سے دور دور ہر لب پہ اس کا تذکرہ چرچا اسی کا تھا آنے دیا نہ چین کبھی ایک پل مجھے میرے تصورات میں دھڑکا اسی کا تھا جس نے تمام شہر کھنڈر میں بدل دیا سکہ تمام شہر میں چلتا اسی کا تھا یوں ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر اٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی تو

دیکھ کر اٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی تو کاٹ ڈالے گا مرا دست ہنر یعنی تو میری تقدیر میں لکھے گا اندھیروں کا سکوت روند ڈالے گا مری تازہ سحر یعنی تو بس یہی ہے مرے دامان سفر میں اب تو میری منزل ہے مری راہ گزر یعنی تو جب بھی آئے گا سوا نیزے پہ خورشید غضب پھولنے پھلنے نہیں دے گا شجر یعنی ...

مزید پڑھیے

تم نے کیا ہے تم نے اشارا بہت غلط

تم نے کیا ہے تم نے اشارا بہت غلط دریا بہت درست کنارا بہت غلط اس ہار میں ہے ہاتھ تمہارا بہت غلط تم نے کیا ہے فیصلہ سارا بہت غلط ہم ڈوب جائیں اپنے ہی غم کے بہاؤ میں ہاں ہاں غلط غلط مرے یارا بہت غلط اس کشت دل سے اس کے دل ریگ زار تک بہنے لگا ہے خون کا دھارا بہت غلط افسوس مجھ کو اس پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2392 سے 6203