طے ہوا ہے اس طرف کی رہ گزر کا جاگنا
طے ہوا ہے اس طرف کی رہ گزر کا جاگنا میرے پاؤں میں کسی لمبے سفر کا جاگنا بولتے تھے کیا پرندے سے در و دیوار پر یاد ہے اب بھی مجھے وہ اپنے گھر کا جاگنا اب کہاں موسم ہے وہ دار و رسن کا دوستو اب کہاں عشاق کے شانوں پہ سر کا جاگنا ورنہ مجھ کو دھوپ کا صحرا کبھی نہ چھوڑتا آ گیا ہے کام میرے ...