قومی زبان

ایسی الجھن ہو کبھی ایسی بھی رسوائی ہو

ایسی الجھن ہو کبھی ایسی بھی رسوائی ہو دل کے ہر زخم میں دریاؤں سی گہرائی ہو یوں گزرتے ہیں ترے ہجر میں دن رات مرے جان پہ جیسے کسی شخص کے بن آئی ہو پھول کی مثل سبھی داغ مہکنے لگ جائیں کاش ایسا بھی کہیں طرز مسیحائی ہو کیسا منظر ہو کہ سر پھوڑتے دیوانوں کے سنگ ہو ہاتھ میں اور سامنے ...

مزید پڑھیے

کسی کو خار کسی سانس کو ببول کیا

کسی کو خار کسی سانس کو ببول کیا جو ہم نے کار محبت کیا فضول کیا ہمیشہ خاک اڑائی ہے راستوں نے مری اس انتظار کی شدت نے مجھ کو دھول کیا سجا کے رکھ دیا کانٹا بھی میرے پہلو میں کسی بہار نے مجھ کو کبھی جو پھول کیا رہ حیات میں آسائشوں کو ٹھکرا کر تمہارے درد کو میں نے سدا قبول کیا ہمیشہ ...

مزید پڑھیے

بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہا

بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہا بدن کا سایہ جو اپنے سروں سے ڈھلتا رہا ڈھلی نہ شام الم جب تلک سحر نہ ہوئی بجھے چراغ کی لو سے دھواں نکلتا رہا ملی نہ منزل مقصود اس لیے بھی مجھے میں ہر قدم پہ نیا راستہ بدلتا رہا جہاں بھی آنکھ چرائی سفر میں سورج نے کوئی ستارہ مرے ساتھ ساتھ چلتا ...

مزید پڑھیے

جب سے امید باندھی پتھر پر

جب سے امید باندھی پتھر پر دھول سی جم گئی مقدر پر کس نے چادر دھویں کی تانی ہے میرے جنت مثال منظر پر میرے چارہ گروں نے رکھا ہے ایک اک راستے کو ٹھوکر پر آسماں کی طلب میں کٹ کر بھی پھڑپھڑاتے رہے برابر پر پاس تیر و کماں کے ہوتے ہوئے خوف طاری ہے میرے لشکر پر جب گھڑی امتحان کی ...

مزید پڑھیے

ہم کو یہ ڈر ہے کہ امکان کسی اور کا ہے

ہم کو یہ ڈر ہے کہ امکان کسی اور کا ہے یعنی وہ شخص نگہبان کسی اور کا ہے یہ جو ہر لحظہ دھڑکتے ہیں مرے سینے میں دل کسی اور کا ارمان کسی اور کا ہے غائبانہ یہی سمجھا وہ فقط میرا ہے جب ملا تو لگا نادان کسی اور کا ہے دستکیں سن کے ہی اندازہ ہوا تھا ہم کو وہ ہمارا نہیں مہمان کسی اور کا ...

مزید پڑھیے

سر جھکا کر شاہ کے دربار میں

سر جھکا کر شاہ کے دربار میں چھید ہم نے سو کیے دستار میں زندگانی جیسی یہ انمول شے کاٹ دی ہے حسرت بے کار میں دامنوں میں بھرتے ہیں محرومیاں لے کے خالی جیب ہم بازار میں سرخیاں بن کر اگلتی ہے لہو آدمیت شام کے اخبار میں سر کو ٹکراتے رہے ہم عمر بھر در کوئی نکلا نہیں دیوار میں جس قدر ...

مزید پڑھیے

تیری تلاش تیری تمنا تو میں بھی ہوں

تیری تلاش تیری تمنا تو میں بھی ہوں جیسا ترا خیال ہے ویسا تو میں بھی ہوں تعمیر جیسی چاہئے ویسی نہ ہو سکی بنیاد اپنی روز اٹھاتا تو میں بھی ہوں بوسیدہ چھال پیڑ سے لپٹی ہے گر تو کیا اچھے دنوں کی آس پہ زندہ تو میں بھی ہوں اے زندگی مجھے تو خبر تک نہ ہو سکی ہر چند اپنے غم کا مداوا تو ...

مزید پڑھیے

کہیں جو عزم ذرا حوصلہ نکل آئے

کہیں جو عزم ذرا حوصلہ نکل آئے فصیل غم سے نیا راستا نکل آئے نہ پوچھ مجھ سے تو اس حسن دل ربا کی کشش جدھر بھی دیکھے وہاں آئنہ نکل آئے کسی نواح کی بھی بات ہو مگر اے دوست میان بزم ترا تذکرہ نکل آئے میں مانتا ہوں نہیں تجھ سا دوسرا کوئی کوئی جو تیرے سوا دوسرا نکل آئے سناں کی نوک پہ آ ...

مزید پڑھیے

چراغ ظلمت بے نور میں جلانا ترا

چراغ ظلمت بے نور میں جلانا ترا پسند آیا نہ لوگوں کو آستانہ ترا یوں ہی گزارو گے تم عرصۂ حیات اگر نہ ہوگا ایک بھی پل کوئی جاودانہ ترا بہت قریب سے میں تجھ کو جانتا ہوں میاں ہر ایک خوب سمجھتا ہوں میں بہانہ ترا ہمیں بناؤ گے جس وقت لشکری اپنا خطا نہ ہوگا کسی طور بھی نشانہ ترا نہ ...

مزید پڑھیے

کرن کرن یہ کسی دیدۂ حسد میں ہے

کرن کرن یہ کسی دیدۂ حسد میں ہے ہر اک چراغ ہمارا دھویں کی زد میں ہے جسے نکالا ہے ہندسوں سے زائچہ گر نے بقا ہماری اسی پانچ کے عدد میں ہے ہر ایک شخص کی قامت کو ناپ اور بتا مرے علاوہ یہاں کون اپنے قد میں ہے گھروں کے صحن کچھ ایسے سکڑ سمٹ گئے ہیں ہر ایک شخص مکیں جس طرح لحد میں ہے لگے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2393 سے 6203