قومی زبان

بنجر دل سیراب کرو

میرا دل میدانوں جیسا وسعت سے بھرپور لیکن وہ تو صدی صدی کی قرن قرن کی دھول سمیٹے ویراں ویراں اجڑا اجڑا بنجر بنجر رہتا ہے آؤ! نس نس دکھتے لوگو! آنسوؤں کی گھنگھور گھٹائیں لے کر آؤ میرے دل پر آ کر امڈو ایسے ٹوٹ کے برسو جیسے ساون برسے میرا دل سیراب کرو میرا دل سیراب ہوا تو تم دیکھو ...

مزید پڑھیے

ترغیب

پیارے سورج تم تو اپنا چہرہ آسمان پر تیرتے تاروں کے آئینوں ہی میں ڈھونڈتے رہتے ہو پر میری بھی اک بات سنو یہ جو آنکھ میں روشن تارے ہیں اور یہ جو گالوں پر بہتے ہوئے تارے ہیں اور یہ جو پھول پھول کی پتی پتی پر ٹھہرے ہوئے تارے ہیں اور یہ جو ریت سے جھانکتے تارے ہیں اور یہ جو ندیا کی لہروں ...

مزید پڑھیے

انوکھی شہزادی

مانا میں اک شہزادی ہوں جو قیدی ہے لیکن میرے دل میں شہزادے کی چاہ کا کوئی تیر نہیں ہے میری آنکھیں اس کی راہ نہیں تکتی ہیں پھر بھی دیو کی قید سے چھٹ کر دور ہرے کھیتوں، نیلے دریاؤں، شفقی بادلوں، گاتے طائروں خوشبوؤں سے لدے ہوئے جھونکوں کو چھونا چاہوں چومنا چاہوں ان میں گھل مل جانا ...

مزید پڑھیے

قریب و دور

1 مجھ سے انجان بنے دور بہت دور سہی سامنے بیٹھا نظر آتا ہے مجھ کو محسوس یہ ہوتا ہے مری عمر کے سارے لمحے تتلیاں بن کے تری سمت اڑے جاتے ہیں اور ترے چار طرف رنگ در رنگ کئی ہالے بناتے ہوئے لہراتے ہیں پھول چن چن کے پلٹ آتے ہیں مجھے مہکاتے ہیں 2 مجھ سے انجان بنے پاس بہت پاس سے تو جب گزرے مجھ ...

مزید پڑھیے

مجھ میں میری ذات بھی رکھی ہوئی ہے دوست

مجھ میں میری ذات بھی رکھی ہوئی ہے دوست چھوڑ یہ بات تو اور بھی الجھی ہوئی ہے دوست ہم لوگوں کو پانی اچھا لگتا ہے ہم لوگوں نے مٹی پہنی ہوئی ہے دوست کتنا سج دھج کر محفل میں آیا ہوں میری وحشت گھر پر رکھی ہوئی ہے دوست اس تصویر کا لہجہ دیکھ رہا ہے تو یہ تصویر بھی مجھ سے روٹھی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اک ترے وصل کے لئے مولا

اک ترے وصل کے لئے مولا ہجر کاٹے ہیں ان گنے مولا اک ثنا خواں تھا محو حمد یار اور ہم ناچتے رہے مولا میں جنہیں دل پہ کھائے پھرتا ہوں ترے حصے کے رنج تھے مولا وہ جو تجھ سے اٹھے تھے وہ پردے میری ہستی پہ پڑ گئے مولا صورت لا میں تیری صورت کو ہم نے دیکھا تو ہم ہی تھے مولا تجھ کو رو رو ...

مزید پڑھیے

اب کے موسم میں ترا شہر وہ کیسا ہوگا

اب کے موسم میں ترا شہر وہ کیسا ہوگا میری مرضی کے بنا چاند نکلتا ہوگا کیسے کہہ دوں کہ مجھے کس نے ہیں برباد کیا اپنا آیا ہو مری بات سے رخصت ہوگا یہ کوئی بات ہے جو تجھ کو بتائی جائے شام کے وقت اداسی کا سبب کیا ہوگا اب کی سردی میں کہاں ہے وہ الاؤ سینہ اب کی سردی میں مجھے خود کو جلانا ...

مزید پڑھیے

کاف سے نون تلک شور مچا وحشت ہے

کاف سے نون تلک شور مچا وحشت ہے یعنی اس عہد میں جو کچھ بھی ہوا وحشت ہے لا مکانی میں مکاں ہوش و خرد کے نہیں ہیں یوں سمجھ لے کہ خلاؤں کا خدا وحشت ہے وہ جو اک بات ہے جو تجھ کو بتائی نہ گئی وہ جو اک راز ہے جو کھل نہ سکا وحشت ہے اب مرا عکس کسی طور نہیں ٹوٹے گا میرے درویش کے ہونٹھوں کی دعا ...

مزید پڑھیے

یہ پیرہن پہ پیرہن وبال ہے (ردیف .. ر)

یہ پیرہن پہ پیرہن وبال ہے سو خود کو بے وبال کر وصال کر وجود جسم و جاں سے استفادہ کر ذرا سمے نکال کر وصال کر لہو کو چلوؤں میں لے کے یوں اڑا بدن پہ رنگ ڈال کر وصال کر امیر وحشیان عشق ہوں سو تو ذرا سی دیکھ بھال کر وصال کر یہ اسم کارساز ہے جنون پڑھ یہ ہوش پائمال کر وصال کر تری یہ ...

مزید پڑھیے

واپسی

مصلحت ایک سہیلی میری اس نے تمہاری سوچ پہ پابندی عائد کی تھی میں نے اس کا دل رکھنے کو حامی بھر لی تھی لیکن مجھے اکیلا پا کر کل اک ننھا منا بھید بھرا لمحہ کلکاری بھرتا آیا اس نے جس کی انگلی تھام رکھی تھی وہ تو تم تھے آنکھوں میں شامیں اتری تھیں گھنی گھنی پلکوں کے پیچھے اک نارنجی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2388 سے 6203