قومی زبان

آنکھ سے غم نہاں نہیں ہوتے

آنکھ سے غم نہاں نہیں ہوتے پھر بھی آنسو رواں نہیں ہوتے عمر بھر کا ہے تیرا میرا ساتھ اس قدر بد گماں نہیں ہوتے ہم کلام ان سے ہیں تصور میں اصل میں یہ سماں نہیں ہوتے یوں تو کہنے کو ہم نہیں موجود پر یہ سوچو کہاں نہیں ہوتے پیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا اس میں وہم و گماں نہیں ہوتے

مزید پڑھیے

کوئی وظیفہ مجھے بھی بتا مرے درویش

کوئی وظیفہ مجھے بھی بتا مرے درویش تجھے ہوئی ہے فقیری عطا مرے درویش مری خطا تو بس اتنی ہے اس تعلق میں یہی کہ ہونی کو ہونے دیا مرے درویش اسے میں پیار محبت کا نام کیسے دوں یہ اور طرح کا ہے تجربہ مرے درویش کہ جس نے باندھ دیا تیری ذات سے مجھ کو یہ روح کا ہے کوئی سلسلہ مرے درویش ہر ...

مزید پڑھیے

ضبط ہونٹوں پہ آ گیا تو پھر

ضبط ہونٹوں پہ آ گیا تو پھر تیرا سب حوصلہ گیا تو پھر سالہا سال کا اکیلا پن تجھ کو اندر سے کھا گیا تو پھر میری تنہائی کا یہ سناٹا ہر طرف گونجتا گیا تو پھر وہ جو تعبیر بن کے آیا ہے خواب سارے جلا گیا تو پھر ہر طرف یہ سفید سونا پن منظروں کو جلا گیا تو پھر جھیل آنکھیں سراہنے والا ان ...

مزید پڑھیے

عکس بھی عرصۂ حیران میں رکھا ہوا ہے

عکس بھی عرصۂ حیران میں رکھا ہوا ہے کون یہ آئینہ رو دھیان میں رکھا ہوا ہے شام کی شام سے سرگوشی سنی تھی اک بار بس تبھی سے تجھے امکان میں رکھا ہوا ہے ہاں ترے ذکر پہ اک، کاٹ سی اٹھتی ہے ابھی ہاں ابھی دل ترے بحران میں رکھا ہوا ہے ایک ہی آگ میں جلنا تو ضروری بھی نہیں ہاں مگر چہرہ وہی ...

مزید پڑھیے

عذاب ہجر سے انجان تھوڑی ہوتا ہے

عذاب ہجر سے انجان تھوڑی ہوتا ہے یہ دل اب اتنا بھی نادان تھوڑی ہوتا ہے یہ زندگی ہے بہت کچھ یہاں پہ ممکن ہے کہ کچھ نہ ہونے کا امکان تھوڑی ہوتا ہے یہ دل کے زخم چھپا کر جو مسکراتے ہیں تو میرے دوست یہ آسان تھوڑی ہوتا ہے کبھی کبھار تو بدعت بھی ہو ہی جاتی ہے ہر ایک لمحہ ترا دھیان تھوڑی ...

مزید پڑھیے

تسلی

اپنی اپنی راہوں پر مدت تک چلتے چلتے آج اچانک اک چوراہے پر جو تم سے میل ہوا تو میں نے تیری گہری آنکھوں میں جھانکا اور چونک اٹھی ان میں تپتے صحراؤں کا بسیرا تھا اور دور دور تک ویرانے تھے ریت کے دھندلے دھندلے بادل اڑتے پھرتے تھے لیکن میں نے ایک لمحے کو یہ منظر بھی دیکھ لیا کہ تپتے ...

مزید پڑھیے

یاد دہانی

اندھی رات کے آتے ہی سب چپ چاپ سے اک گوشے میں سمٹ گئے پر میں نے اپنی کٹیا کی تاریکی سے جنگ کی ٹھانی خود کو اک مٹکی کے دیے میں ڈھال دیا تب چھوٹے سے آنگن میں ننھی منی مسکاتی کرنوں نے جھومر ڈالا سب کے روشن روشن چہرے ہنسنے لگے لیکن صبح کے جاگتے ہی مری تھکی تھکی سی ننھی منی کرنوں کو ...

مزید پڑھیے

رکھوالا

جانے کس جنگل سے آ کر بھیڑیوں گیدڑوں، لومڑیوں نے تیری حدود میں اپنے ٹھکانے ڈھونڈ لیے ہیں لیکن تیرے گھر میں کلی کلی کو چومتا تتلی تتلی آنکھ مچولی کھیلتا میمنوں اور خرگوشوں کو ہمراہ لیے اک ننھا سا بچہ تجھ کو اب بھی شہر بنائے ہوئے ہے

مزید پڑھیے

شکوے کی شام

رخصت ہوتے سورج کی کرنوں کا آنچل تھامے تھامے میں بھی چھت پر جا پہنچی تھی مرے گلے شکوہ تو سارے گونگے بن بیٹھے تھے اور میری کچھ کہتی آنکھیں بارہ دری کی چلمن کے حالوں میں پھنستی تھیں پھر کیوں گاؤں سے جاتے جاتے گلی کے موڑ پہ رکتے رکتے تم نے اوپر، میری جانب دیکھا تھا اور تمہارا اٹھتا ...

مزید پڑھیے

ایک روشن جواں جستجو

جستجو کا نڈر قافلہ مشعلیں تھام کر، رات کو چیرتا ہنستا گاتا ہوا، اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا سب کے چہروں پر روشن ہوئیں کاوشیں کھوجی آنکھوں میں جھلمل ستارے جلے کتنی روشن فضا کتنی روشن فضا!! آؤ اپنے قدم تیز کر لیں کہ وہ سامنے اپنی محنت کا پودا تناور شجر بن گیا پر یہ روشن فضا میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2387 سے 6203