قومی زبان

گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی

گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی کیوں پھر تری انکار کی عادت نہیں جاتی پھر اوڑھ لی ہے ہم نے ترے نام کی چادر پھر دل سے، وہی گھر کی ضرورت نہیں جاتی کیوں رات کے پردے میں چھپا دن نہیں آتا؟ کیوں آنکھ سے لپٹی یہ مسافت نہیں جاتی کیوں وقت رکا ہے مری آنکھوں میں ابھی تک؟ کیوں لمس کی تیرے ...

مزید پڑھیے

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ

تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ ہاتھ کی لکیروں سے کس طرح نکالوں میں تیری یاد کے موسم، تیرے نام کی آہٹ جب یہ دل رفاقت کی کچی نیند سے جاگا ہر طرف سنائی دی اختتام کی آہٹ رات کے اترتے ہی دل کی سونی گلیوں میں جاگ اٹھتی ہے پھر سے تیرے نام کی ...

مزید پڑھیے

یہ جو صبح کے بیچ دیوار شب سی اٹھی لگتی ہے

یہ جو صبح کے بیچ دیوار شب سی اٹھی لگتی ہے ہے عکس تحیر کی یہ داستاں اور سنی لگتی ہے جو میں خواہشوں میں گھری چپ بھری ساعتیں تکتی ہوں مجھے ان کے اندر تلک تری خواہش گڑی لگتی ہے ترا ورد کرتی ہوئی آسماں سے اترتی ہوئی کوئی نور جیسی دعا چار سو گونجتی لگتی ہے مرے آئنے میں جو تصویر تیری ...

مزید پڑھیے

بھری رات میں جاگنا پڑ گیا ہے

بھری رات میں جاگنا پڑ گیا ہے ترے بارے میں سوچنا پڑ گیا ہے کسی خواب کی پھر سے دستک ہے شاید در دل مجھے کھولنا پڑ گیا ہے تری سوچ بھی سوچنی پڑ گئی ہے ترا لہجہ بھی بولنا پڑ گیا ہے دھواں بن کے سانسوں میں چبھنے لگی تھی خموشی کو اب توڑنا پڑ گیا ہے جہاں ریزہ ریزہ میں بکھری پڑی تھی وہ ...

مزید پڑھیے

جو تو میرا مقدر بنتے بنتے رہ گیا ہے

جو تو میرا مقدر بنتے بنتے رہ گیا ہے سمجھ لے، کچھ کہیں پر بنتے بنتے رہ گیا ہے یہ دل کے زخم تو ویسے کے ویسے ہی ہرے ہیں کہ تیرا لمس منتر بنتے بنتے رہ گیا ہے میں تیری دوری و قربت سے آگے آ گئی ہوں سو تیرا نقش دل پر بنتے بنتے رہ گیا ہے عجب ہی کیا ہے جو مجھ کو نہیں تو مل سکا تو مرا ہر کام ...

مزید پڑھیے

وہ بچھڑ کر نڈھال تھا ہی نہیں

وہ بچھڑ کر نڈھال تھا ہی نہیں یعنی اس کو ملال تھا ہی نہیں وہ تو پاؤں ہی پڑ گیا تھا مرے جس سفر میں ملال تھا ہی نہیں میری تصدیق کیا بھلا کرتا؟ وہ کبھی میری ڈھال تھا ہی نہیں سرمئی ہجر کو ہرا کرتا اس میں ایسا کمال تھا ہی نہیں اور پھر دل نے اس کو چھوڑ دیا جب تعلق بحال تھا ہی ...

مزید پڑھیے

سلے ہوں لب زبانیں بند تو باتیں نہیں ہوتیں

سلے ہوں لب زبانیں بند تو باتیں نہیں ہوتیں مخالف راستے ہوں تو ملاقاتیں نہیں ہوتیں یہ انسانوں پہ انسانوں کی فوقیت عجب شے ہے رگوں کی دوڑتی سرخی میں تو ذاتیں نہیں ہوتیں لکھی جاتی ہیں سنگینوں سے آزادی کی تحریریں کہیں خود پیش آزادی کی سوغاتیں نہیں ہوتیں جہاں شب خون مارا جا سکے ...

مزید پڑھیے

کوئی ایسا کمال ہو جائے

کوئی ایسا کمال ہو جائے ہجر سارا وصال ہو جائے ایک اک لمحہ تیری قربت کا زندگی کا جمال ہو جائے آیتوں کی طرح خیال ترا اترے اور مجھ پہ ڈھال ہو جائے باندھ لوں خود کو دھیان سے تیرے اور بچاؤ محال ہو جائے آنکھ بیداریوں میں کھو جائے رت جگوں کی مثال ہو جائے تیری خوشبو حد وجود میں ہو اور ...

مزید پڑھیے

ابھی سے طاق طلب پر نہ تو سجا مجھ کو

ابھی سے طاق طلب پر نہ تو سجا مجھ کو ابھی تو کرنا ہے اس دل سے مشورہ مجھ کو ابھی شبیہ مکمل نہیں ہوئی تیری ابھی تو بھرنا ہے اک رنگ ماورا مجھ کو کوئی نہ کوئی تو صورت نکل ہی آئے گی ذرا بتاؤ تو درپیش مرحلہ مجھ کو یہ بات بات پہ تکرار و بحث کیا کرنا کہ جیتنا ہے تمہیں اور ہارنا مجھ کو میں ...

مزید پڑھیے

اب کہاں اس کی ضرورت ہے ہمیں

اب کہاں اس کی ضرورت ہے ہمیں اب اکیلے پن کی عادت ہے ہمیں دیکھیے جا کر کہاں رکتے ہیں اب تیری قربت سے تو ہجرت ہے ہمیں سانس لیتی ایک خوشبو ہے جسے ورد کرنے کی اجازت ہے ہمیں دل جزیرے پر ہے اس کی روشنی اک ستارے سے محبت ہے ہمیں اب ذرا سرگوشیوں میں بات ہو مہرباں لہجے کی عادت ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2386 سے 6203