محبت جیت سکتی تھی
کسی کے فرض کرنے سے اگر فطرت بدل سکتی تو پھر شاید محبت جیت سکتی تھی
کسی کے فرض کرنے سے اگر فطرت بدل سکتی تو پھر شاید محبت جیت سکتی تھی
جب بھی دار و رسن کی بات کرو ایک اجلے کفن کی بات کرو چھوڑو اب قصہ ہائے عہد کہن کچھ شراب کہن کی بات کرو کسی مر مر کے جسم کا ہو ذکر نہیں دل کی بدن کی بات کرو اہل عالم کی فکر ہو کب تک اب کچھ اہل وطن کی بات کرو ذکر مہتاب ہو تو کیا ہے ضرور اس کی اک اک کرن کی بات کرو اب سمجھتا ہے کون خار ...
اس رخ پہ پھر گلاب سے کھلنے لگے تو ہیں اے چشم اشتیاق ترے دن پھرے تو ہیں کچھ اہتمام رونق مے خانہ ہے ضرور ٹھنڈی ہوا چلی تو ہے بادل گھرے تو ہیں لو اب تو آئی منزل جاناں سے بوئے خوش کچھ ٹھوکریں لگی تو ہیں کانٹے چبھے تو ہیں وہ کر کے اپنے چاہنے والوں کا قتل عام اب کچھ پسیجنے تو لگے ہیں ...
ہم کو حسرت دید کی ہے ان کو تڑپانا پسند اپنی خواہش کچھ ہے اور ان کی رضا کچھ اور ہے پہلے دکھ میں کرب تھا اب کرب دیتا ہے مزا ابتدا کچھ اور تھی اور انتہا کچھ اور ہے قید کے دن کٹتے کٹتے ایک دن کٹ جائیں گے پردۂ گردوں میں کیا جانیں کہ کیا کچھ اور ہے وہ بھی اک الجھن میں ہیں اور ہم بھی اک ...
یہ شاخ ہنر اپنی جو گل ریز رہی ہے مجروح تہ خنجر چنگیز رہی ہے دم لو کہ ذرا قافلۂ وقت بھی آ لے یاں گردش پیمانہ بڑی تیز رہی ہے انسانوں کے دکھ سکھ میں برابر رہی شامل یہ طبع جو ظاہر میں کم آمیز رہی ہے اس غمزۂ پنہاں کی حلاوت بھی عطا ہو! جس بن مئے عشرت بھی غم انگیز رہی ہے صد معرکۂ نور ...
کچھ حسن وفا کے دیوانے پھر عشق کی راہ میں کام آئے اے کاش تماشا کرنے کو خود تو بھی کنار بام آئے الفاظ نہ تھے آواز نہ تھی نامہ بھی نہ تھا قاصد بھی نہ تھا ایسے بھی کئی پیغام گئے ایسے بھی کئی پیغام آئے شب مے خانے کی محفل میں ارباب جفا کا ذکر چلا چپ سنتے رہے ہم ڈرتے رہے تیرا بھی نہ ان ...
ہم شاد رہے ناشاد رہے بس آپ ہمیشہ یاد رہے صیاد نشیمن لاکھ اجڑیں پنجرا تو ترا آباد رہے وہ تخت پہ بھی مجبور سے ہیں زنداں میں بھی ہم آزاد رہے تن قید میں ہو تو کیا پروا اے قیدی من آزاد رہے یہ آزادی کیا آزادی جب گھات میں اک صیاد رہے یوں محض کرم بھی ٹھیک نہیں کچھ تھوڑی سی بیداد ...
نہ جانے کیوں مجھے اکثر گمان ہوتا ہے مہ تمام فقط دیکھتا نہیں ہے ہمیں وہ جبر و قید مسلسل پہ اک مشقت کی ہزاروں سال سے اس بے کراں مسافت کی بساط وقت کی اک داستاں سناتا ہے سمجھ سکیں تو بہت کچھ ہمیں بتاتا ہے
محبت زندگی ہے محبت دل کی تیرہ ساعتوں میں روشنی ہے یہ ویرانوں میں خود رو نغمگی ہے محبت جرأت اظہار ہے کردار ہے محبت دیدۂ بے دار ہے پندار ہے ایثار ہے محبت جان دیتی ہے محبت مان دیتی ہے محبت بے نشاں رشتوں کو بھی پہچان دیتی ہے محبت عقل بھی ہے محبت ماورائے عقل بھی ہے محبت ہجر بھی ہے وصل ...
اس کا چہرہ اس کی آنکھیں اس کے ہونٹوں کی جنبش جیسے چاند جیسے جھیل جیسے بارش کی آواز