قومی زبان

کیا میرے قفس میں پڑنے پر کلیوں نے چٹکنا چھوڑ دیا

کیا میرے قفس میں پڑنے پر کلیوں نے چٹکنا چھوڑ دیا رنگوں نے نکھرنا چھوڑ دیا خوشبو نے مہکنا چھوڑ دیا گلشن کی جنوں انگیز فضا کیا ویسی جنوں انگیز نہیں بلبل نے بغاوت کی لے میں کیا اب سے چہکنا چھوڑ دیا ظلمت کے خداؤ کھل کے کہو کیا نور نے گھٹنے ٹیک دئے سورج نے چمکنا چھوڑ دیا تاروں نے ...

مزید پڑھیے

گو موت کے گھاٹ اتر گئے ہم

گو موت کے گھاٹ اتر گئے ہم پر عشق سا کام کر گئے ہم میخانے سے لے کے تا بہ زنداں تیرے لئے در بہ در گئے ہم پھوٹی جو کوئی کرن خوشی کی تو بعد کے غم سے ڈر گئے ہم تم نے تو سکھا دیا ہمیں صبر تم بگڑے رہے سنور گئے ہم جس موڑ میں رہ گئے ہزاروں اس موڑ سے بھی گزر گئے ہم

مزید پڑھیے

پاؤں گردش میں ہیں کتنوں کے مکاں کے آگے

پاؤں گردش میں ہیں کتنوں کے مکاں کے آگے پیچھے سایہ کے یا برفاب گراں کے آگے دل تو وہ ہے کہ کرے شوخ دلوں کی تسخیر عہد پیری میں بھی ہر پیر و جواں کے آگے ابن آدم کے لئے چاہئے اک عالم نو ماہ و مریخ کے بے روح جہاں کے آگے کیا کوئی راہ نہیں اہل تخیل کے لئے غمزہ و عشوہ و انداز بتاں کے ...

مزید پڑھیے

یوں نہیں تھا کہ تیرگی کم تھی

یوں نہیں تھا کہ تیرگی کم تھی دھوپ سے اپنی دوستی کم تھی خواہشوں کے ہجوم تھے لیکن اپنے حصہ میں زندگی کم تھی تم نہ آئے تو بس ہوا اتنا کل چراغوں میں روشنی کم تھی ہاں وہ ہنس کر نہیں ملا پھر بھی اس کی باتوں میں بے رخی کم تھی غم اسے بھی نہ تھا بچھڑنے کا میری آنکھوں میں بھی نمی کم ...

مزید پڑھیے

ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگ

ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگ مر مر کے جی رہے ہیں مگر صبح و شام لوگ یہ بھوک یہ ہوس یہ تنزل یہ وحشتیں تعمیر کر رہے ہیں یہ کیسا نظام لوگ بربادیوں نے مجھ کو بہت سرخ رو کیا کرنے لگے ہیں اب تو مرا احترام لوگ انکار کر رہا ہوں تو قیمت بلند ہے بکنے پہ آ گیا تو گرا دیں گے دام لوگ اس ...

مزید پڑھیے

گھر کسی کا بھی ہو جلتا نہیں دیکھا جاتا

گھر کسی کا بھی ہو جلتا نہیں دیکھا جاتا ہم سے چپ رہ کے تماشہ نہیں دیکھا جاتا تیری عظمت ہے تو چاہے تو سمندر دے دے مانگنے والے کا کاسہ نہیں دیکھا جاتا جب سے صحرا کا سفر کاٹ کے گھر لوٹا ہوں تب سے کوئی بھی ہو پیاسا نہیں دیکھا جاتا یہ عبادت ہے عبادت میں سیاست کیسی اس میں کعبہ یا کلیسا ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کب کی دبی تلخیاں نکل آئیں

نہ جانے کب کی دبی تلخیاں نکل آئیں ذرا سی بات تھی اور برچھیاں نکل آئیں ہوا یے ہم پہ اندھیروں کی سازشوں کا اثر ہمارے ذہن میں بھی کھڑکیاں نکل آئیں مجھے نواز دی مولیٰ نے پھول سی بیٹی مرے حساب میں کچھ نیکیاں نکل آئیں وہ پیڑ جس پہ قضا بن کے بجلیاں ٹوٹیں سنا ہے اوس پہ ہری پتیاں نکل ...

مزید پڑھیے

ہم آج اپنا مقدر بدل کے دیکھتے ہیں

ہم آج اپنا مقدر بدل کے دیکھتے ہیں تمہارے ساتھ بھی کچھ دور چل کے دیکھتے ہیں ادھر چراغ بجھانے کو ہے ہوا بیتاب ادھر یے ضد کہ ہواؤں میں جل کے دیکھتے ہیں چلو پھر آج زمینوں میں جذب ہو جائیں چھلک کے آنکھ سے باہر نکل کے دیکھتے ہیں یے عشق کوئی بلا ہے جنون ہے کیا ہے یہ کیسی آگ ہے پتھر ...

مزید پڑھیے

خواہش

ایک عجیب خواہش ہے اس زمیں کے کونے میں صرف مہ جبینوں کی سب کی سب حسینوں کی اپنی ایک بستی ہو زندگی جہاں ہر پل کھلکھلا کے ہنستی ہو رنگ و نور کی بارش ہر گھڑی برستی ہو سب غزال نینوں میں شوخ سی شرارت ہو ان کی جنبش لب سے زندگی عبارت ہو خوشیوں کا جھمیلا ہو پلکوں پہ ستارے ہوں روشنی کا ریلا ...

مزید پڑھیے

ماں

جن بچوں کو اپنا سارا جیون دے کر پالا پوسا وہ بچے جب دور گئے ہوں ان کی راہ تکتی رہتی ہے ان کی یاد میں کھو جاتی ہے چپکے چپکے روتی ہے روتے روتے سو جاتی ہے ماں جب بوڑھی ہو جاتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 2371 سے 6203