قومی زبان

اگر تم فرض کر لو

اگر تم فرض کر لو تم میرے کار نشاط و وصل کا یکتا ذریعہ ہو تمہارے حسن کی پر پیچ گلیوں کا میں اک تنہا مسافر ہوں ہمیں ہر روز مشق وصل کے ہیجان سے ہو کر نئی منزل کو پانا ہے نئی مستی کا اک سیلاب لانا ہے اور اس سیلاب میں سارے جہاں کو ڈوب جانا ہے میں واقف ہوں کہ یہ ممکن نہیں لیکن اگر تم فرض کر ...

مزید پڑھیے

قصور

اپنی آنکھیں ذرا مجھے دینا میں دکھاؤں تری نظر سے تجھے پھر بتانا قصور کس کا ہے

مزید پڑھیے

آویزے

تیرے نوخیز آویزے یہ دل آویز آویزے ذرا سا تم جو رکتی ہو پلٹ کر مسکراتی ہو تیرے گالوں کو چھوتے ہیں شرارت خیز آویزے تجھے پانے کی خواہش کو کریں مہمیز آویزے ستم انگیز آویزے یہ دل آویز آویزے

مزید پڑھیے

اعتراف

تمہیں ہے فخر کہ تم ہو مری شریک حیات مجھے یہ دکھ ہے کہ تم میری ہم سفر ٹھہری میں کم نصیب جو قسمت سے اپنی لڑ نہ سکا ترے سفر کو بہت تابناک کر نہ سکا تمہاری خواہشوں کے خواب ناک دامن کو نئے زمانے کی رنگینیوں سے بھر نہ سکا مگر میں آج بھی یہ اعتراف کرتا ہوں تمہی تھی میری محبت تمہی ہو جان ...

مزید پڑھیے

حسن منظر میں نہیں ہے

حسن منظر میں کہاں ہے یہ ہمارے من کی آنکھوں میں کہیں ہے من کی آنکھیں کھل سکیں جو تو ہر اک منظر حسیں ہے حسن منظر میں نہیں ہے

مزید پڑھیے

ستارے

یہ ہماری قسمت کے جتنے بھی ستارے ہیں قدرت الٰہی نے بے مراد رستوں پر باندھ کر اتارے ہیں جن کی اپنی منزل ہی بے نشان رستے ہوں روشنی جو غیروں سے مستعار لیتے ہوں کیسے میں یقیں کر لوں میری منزلوں کے وہ معتبر اشارے ہیں یہ ہماری قسمت کے جتنے بھی ستارے ہیں صرف استعارے ہیں

مزید پڑھیے

سامنے اپنے تو بلا کے تو دیکھ

سامنے اپنے تو بلا کے تو دیکھ حوصلہ میرا آزما کے تو دیکھ مہ کامل بھی ماند پڑ جائے اپنا چہرہ اسے دکھا کے تو دیکھ آج قوس قزح کا لطف کہاں اپنے عارض پہ رنگ حیا کے تو دیکھ میں تری آخری ضرورت ہوں تو کبھی مجھ سے دور جا کے تو دیکھ جاں بہ لب ہوں قرار آ جائے اپنی پلکیں ذرا اٹھا کے تو ...

مزید پڑھیے

وہ مرے دل میں یوں سما کے گئی

وہ مرے دل میں یوں سما کے گئی لاکھ چاہا مگر نہ جا کے گئی ایک عرصہ ہوا کبھی نہ کھلی دل پہ جو گرہ وہ لگا کے گئی رات غم کی کٹے نہیں کٹتی صبح اک پل میں مسکرا کے گئی مان ٹوٹے تو پھر نہیں جڑتا بد گمانی کبھی نہ آ کے گئی اے نعیمؔ اب نہ واپسی ہوگی بارہا زندگی بتا کے گئی

مزید پڑھیے

گھڑی جیتا گھڑی مرتا رہا ہوں

گھڑی جیتا گھڑی مرتا رہا ہوں اسے جاتے ہوئے تکتا رہا ہوں میں خود کو سامنے تیرے بٹھا کر خود اپنے سے گلہ کرتا رہا ہوں جو سارے شہر کا تھا اس کی خاطر میں سارے شہر سے لڑتا رہا ہوں میں وقت خانۂ مزدور تھا سو بہ طور امتحاں کٹتا رہا ہوں بہت پہچانتا ہوں زاہدوں کو تمہارے گھر کا میں رستہ ...

مزید پڑھیے

وقت پر عشق زلیخا کا اثر لگتا ہے

وقت پر عشق زلیخا کا اثر لگتا ہے آخر عمر بھی آغاز سفر لگتا ہے یہ سمندر ہے مگر سوختہ جاں شاعر کو کسی مجبور کا اک دیدۂ تر لگتا ہے صبح تازہ ہے مقدر دل مایوس ٹھہر شجر امید پہ انعام ثمر لگتا ہے میں زباں بندی کا یہ عہد نہیں توڑوں گا ہاں مگر اس دل گستاخ سے ڈر لگتا ہے ہمیں ادراک محبت تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2373 سے 6203