قومی زبان

اے زندگی مجھے ترا کوئی تو اب سرا ملے

اے زندگی مجھے ترا کوئی تو اب سرا ملے کہ کس نگر ملے گی تو کوئی تو اب پتہ ملے کسی کی یاد نے ہمیں تو خود سے دور کر دیا بس اپنے آپ سے ہمیں کوئی تو اب جدا ملے نہ جن کی ہچکیوں کو کوئی شانہ آج تک ملا انہی کے آنسوؤں کو بھی کوئی تو اب جگہ ملے بس اپنے بام و در سے ہم نا آشنا رہے سدا کوئی تو ...

مزید پڑھیے

زمیں ملے کہیں ہمیں کہیں تو آسماں ملے

زمیں ملے کہیں ہمیں کہیں تو آسماں ملے دکھوں کی دھوپ میں شجر کوئی تو مہرباں ملے ترے فراق میں جئے ترے فراق میں مرے چلو یہ خواب ہی سہی وصال کا گماں ملے الم کی شام آ گئی لو میرے نام آ گئی چراغ لے کے راہ میں اے کاش مہرباں ملے ابھی تلک فغاں ہوں میں مثال داستاں ہوں میں ملے تو ایک پل کبھی ...

مزید پڑھیے

پھر مصر کے بازار میں نیلام ہوا کیوں

پھر مصر کے بازار میں نیلام ہوا کیوں اے عشق بتا تیرا یہ انجام ہوا کیوں ہم باعث راحت جسے سمجھے تھے وہ لمحہ اب اپنے لیے باعث آلام ہوا کیوں اے عشق فلک پر تجھے لکھا جو خدا نے پھر تیرا مقدر بھلا ابہام ہوا کیوں اے عشق ترا نام ہے جب سچ کی علامت اے عشق تو رسوا یوں سر عام ہوا کیوں جب ایک ...

مزید پڑھیے

یہ جو عشق مسند کے لوگ ہیں انہیں رمز سارے سکھا پیا

یہ جو عشق مسند کے لوگ ہیں انہیں رمز سارے سکھا پیا یہ جنون عشق کی داستاں انہیں حرف حرف سنا پیا مرے چارہ گر میں ہوں در بدر میں تو تھک گئی ہے عجب سفر مری بے نشاں سی ہیں منزلیں مجھے راستہ بھی دکھا پیا نہ حدود میں نہ قیود میں مرا دل ترے ہی وجود میں یہ سجود کا حسیں پیرہن مری روح پر تو ...

مزید پڑھیے

یہ عشق عجب لمحۂ توقیر ہے جاناں

یہ عشق عجب لمحۂ توقیر ہے جاناں خود میرا خدا اس کی ہی تفسیر ہے جاناں جو نام ہتھیلی کی لکیروں میں نہیں تھا کیوں آج تلک دل پہ وہ تحریر ہے جاناں اس خواب کی تعبیر تو ممکن ہی نہیں تھی آنکھوں میں مگر اس کی ہی تاثیر ہے جاناں مانا کہ ترے ہاتھوں میں ہیں پھول ابھی تک لیکن ترے پیروں میں جو ...

مزید پڑھیے

کیسے کہیں کہ کیسے گزاری ہے زندگی

کیسے کہیں کہ کیسے گزاری ہے زندگی کیا بوجھ تھی کہ سر سے اتاری ہے زندگی مقتل تھے گام گام یہ رستہ طویل تھا اپنے لہو سے ہم نے سنواری ہے زندگی کرتی ہے خود تلاش یہ کانٹوں کا راستہ اس واسطے سکون سے عاری ہے زندگی قائم ہے ایک فاصلہ دونوں کے درمیاں شک اور یقیں کے ساتھ اب جاری ہے ...

مزید پڑھیے

مجھے جب بھی وہ گلیاں اور وہ رستہ یاد آتا ہے

مجھے جب بھی وہ گلیاں اور وہ رستہ یاد آتا ہے کوئی دھندلا سا منظر ہے جو اجلا یاد آتا ہے فضائے دل پہ طاری ہے بہت ہی حبس کا موسم تری قربت کی خوشبو کا وہ جھونکا یاد آتا ہے کہا تم تو جدائی کا وہ منظر بھول بیٹھے ہو خلا میں دیکھ کر مجھ سے وہ بولا یاد آتا ہے خزاں رت ہے مگر مجھ کو خیالوں کے ...

مزید پڑھیے

اے عشق اس قفس سے مجھے اب رہائی دے

اے عشق اس قفس سے مجھے اب رہائی دے دیکھوں جدھر مجھے ترا جلوہ دکھائی دے شہر شب فراق کے گہرے سکوت میں اپنی صدا مجھے بھی کبھی تو سنائی دے یاد حبیب مجھ کو بھی اب مجھ سے کر جدا مجھ کو ہجوم درد میں میری اکائی دے کب سے میں خامشی کے نگر میں مقیم ہوں لیکن یہ کون ہے جو یہاں بھی سنائی ...

مزید پڑھیے

دائمی ہے عشق اور اک دائمی آواز ہے

دائمی ہے عشق اور اک دائمی آواز ہے میرے کانوں میں ابھی تک بس وہی آواز ہے ساتھ میرے رات بھر جو جاگتی آواز ہے کون جانے یہ تو میری روح کی آواز ہے ہجر کے لمحوں میں اب تک یہ خبر کب ہو سکی جاگتی ہوں میں یا کوئی جاگتی آواز ہے ہجر جیسے وصل میں اس کو سنا تو یوں لگا موت جیسی زندگی میں زندگی ...

مزید پڑھیے

کیسے عجیب دکھ تھے دل میں چھپا کے لائے

کیسے عجیب دکھ تھے دل میں چھپا کے لائے گرد سفر تھی رہ میں بس ہم اٹھا کے لائے ہر رہگزر پہ اس کو رکھنا تھا یاد سو ہم انجان راستوں میں خود کو بھلا کے آئے جیون کی دھوپ میں یوں تنہا سفر تھا اپنا سکھ سب کو بانٹ ڈالے بس دکھ اٹھا کے لائے اپنے تھے یا پرائے لہجوں میں بس چبھن تھی مسکان اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2366 سے 6203