یہ جو کام رہ گئے ہیں انہیں رکھ کے جا رہی ہوں
یہ جو کام رہ گئے ہیں انہیں رکھ کے جا رہی ہوں مری زندگی میں تجھ سے بہت تھک کے جا رہی ہوں یہی درد کے بسیرے یہی ہجر کے اندھیرے یہ جو سسکیاں ہیں ساری میں تھپک کے جا رہی ہوں فقط ایک سانس مہلت مگر امتحان اتنے یہ جو تلخیاں تھیں تیری انہیں چکھ کے جا رہی ہوں مری پیاس کا مقدر تو یہ تشنگی ...