قومی زبان

یہ جو کام رہ گئے ہیں انہیں رکھ کے جا رہی ہوں

یہ جو کام رہ گئے ہیں انہیں رکھ کے جا رہی ہوں مری زندگی میں تجھ سے بہت تھک کے جا رہی ہوں یہی درد کے بسیرے یہی ہجر کے اندھیرے یہ جو سسکیاں ہیں ساری میں تھپک کے جا رہی ہوں فقط ایک سانس مہلت مگر امتحان اتنے یہ جو تلخیاں تھیں تیری انہیں چکھ کے جا رہی ہوں مری پیاس کا مقدر تو یہ تشنگی ...

مزید پڑھیے

نہ گل میں نہ اب گلستاں ہی میں ڈھونڈو

نہ گل میں نہ اب گلستاں ہی میں ڈھونڈو محبت کو بس آستاں ہی میں ڈھونڈو نشانی محبت کی تم کو ملے گی کسی ایک دھندلے نشاں ہی میں ڈھونڈو پتہ شہر دل کی بہاروں کا اب تم کہیں بام و در کی خزاں ہی میں ڈھونڈو اگر ڈھونڈھنا ہے وجود اپنا تم کو کسی دل کے اجڑے مکاں ہی میں ڈھونڈو ملے گی اندھیرے ...

مزید پڑھیے

خوابوں میں بھی گر وصل کا امکان نہیں ہے

خوابوں میں بھی گر وصل کا امکان نہیں ہے شب جاگتے رہنے میں بھی نقصان نہیں ہے رستہ وہ بدلنا ہی تھا ہم دونوں نے لیکن حیرت تو یہی ہے کہ تو حیران نہیں ہے کیوں خوف زدہ ہو گئے تم ایک گھٹا سے میں نے تو بتایا تھا کہ طوفان نہیں ہے پھر کون یہاں ایسا جو پہچانتا مجھ کو جب تیرے سوا کوئی بھی ...

مزید پڑھیے

گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی

گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی میں چاہتوں کی ریاضتوں میں تمہیں ملوں گی تم اپنی منزل کے راستوں میں جو دیکھ پاؤ تو راستوں کی صعوبتوں میں تمہیں ملوں گی نہیں ملوں گی کسی بھی وصل آشنا سفر میں میں ہجر موسم کی شدتوں میں تمہیں ملوں گی کہ میں نے چاہت کو بھی عقیدہ بنا لیا ہے اگر ...

مزید پڑھیے

منظر تمام آج تک آنکھوں پہ بوجھ ہیں

منظر تمام آج تک آنکھوں پہ بوجھ ہیں جتنے بھی خواب ہیں مری پلکوں پہ بوجھ ہیں اترے گا چاند تو مری بھر آئے گی یہ آنکھ تارے فلک سے ٹوٹ کر راتوں پہ بوجھ ہیں سوچوں پہ نقش ہیں وہ جو پل تھے وصال کے دکھ ہجر کے تمام ہی لمحوں پہ بوجھ ہیں باتیں اس ایک یاد کی باتوں کا حسن ہیں یادیں اس ایک یاد ...

مزید پڑھیے

کہیں پہ گرد کہیں پر ہوا بناتی ہوں

کہیں پہ گرد کہیں پر ہوا بناتی ہوں میں خود کو اب تو بس اپنے سوا بناتی ہوں کہیں پہ تارے کہیں پر ہیں آس کے جگنو خزاں میں بھی میں گلوں کی فضا بناتی ہوں بکھر گئے تھے کسی نام کے حروف کہیں اب ان کو جوڑ کر اک آئنہ بناتی ہوں یہ طے ہے اس کو اگر لوٹ کر نہیں آنا تو کس لیے میں دعا کو عصا بناتی ...

مزید پڑھیے

یہ ہجر کا راستہ ہے جس پر میں تنہا تنہا سی چل رہی ہوں

یہ ہجر کا راستہ ہے جس پر میں تنہا تنہا سی چل رہی ہوں بس اس کی یادوں کی دھوپ ہے اور میں قطرہ قطرہ پگھل رہی ہوں یہ وصل لمحوں کی روشنی ہے جو دل کی دنیا میں آ بسی ہے مہکتی یادوں کی چاندنی ہے میں جس کی کرنوں سے جل رہی ہوں رہ وفا میں بھٹکتی رہتی جو تیرے سپنوں میں گم نہ رہتی ترے خیالوں ...

مزید پڑھیے

دل کو ذرا قرار تھا وہ بھی نہیں رہا

دل کو ذرا قرار تھا وہ بھی نہیں رہا آنکھوں کو انتظار تھا وہ بھی نہیں رہا وہ ساتھ تھا تو ساتھ میں میری بھی ذات تھی میرا کہیں شمار تھا، وہ بھی نہیں رہا اس سے ہوئے جدا تو پھر خود کو بھی کھو دیا خود پر جو اعتبار تھا وہ بھی نہیں رہا دامن میں کوئی چاند، ستارہ نہ آفتاب جگنو پر انحصار ...

مزید پڑھیے

زحمت کبھی کبھی تو مشقت کبھی کبھی

زحمت کبھی کبھی تو مشقت کبھی کبھی لگتی ہے زندگی بھی مصیبت کبھی کبھی پہلو میں جاگتی ہے محبت کبھی کبھی آتی ہے ہاتھ درد کی دولت کبھی کبھی اب تک ترے بغیر میں زندہ ہوں کس طرح ہوتی ہے اپنے آپ پر حیرت کبھی کبھی اک پل کا جو وصال تھا ان ماہ و سال میں دیتا ہے ہجر میں بھی رفاقت کبھی ...

مزید پڑھیے

اجنبی شہر کی اجنبی شام میں

اجنبی شہر کی اجنبی شام میں زندگی ڈھل گئی ملگجی شام میں شام آنکھوں میں اتری اسی شام کو زندگی سے گئی زندگی شام میں درد کی لہر میں زندگی بہہ گئی عمر یوں کٹ گئی ہجر کی شام میں عشق پر آفریں جو سلامت رہا اس بکھرتی ہوئی سرمئی شام میں ہر طرف اشک اور سسکیاں ہجر کی درد ہی درد ہے ہر گھڑی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2365 سے 6203