قومی زبان

عید حیران ہے

عید مہندی کا خوشیوں کا رنگوں کا خوشبو کا اور کانچ کی چوڑیوں کی کھنک میں بسی آرزوؤں کا اک نام ہے عید انعام ہے عید امید ہے عید تجدید ہے عید جیسے کوئی روشنی کی کرن ایک وعدے کہانی فسانے کی یا ہجر موسم میں لپٹے ہوئے وصل کے دکھ کی تمہید ہے عید امید ہے ایک گھر میں تو خوشیوں کا سامان ...

مزید پڑھیے

میں تھک گئی ہوں

وحشت کی اماوس میں تمہاری یاد چھپی ہے اور تمہاری یاد میں بہت سارے خوف بالکل اچانک بغیر کسی وجہ کے سینے میں دھڑدھڑاتے دل کو ساکت و جامد کرنے والے خوف یہ وہ ایسے ویسے اچھے برے مارنے والے توڑنے والے خوف بھیانک قسم کے خوف عجیب قسم کے خوف کینچلی بدلنے والے خوف اور پتا نہیں کیسے کیسے ...

مزید پڑھیے

دفنانے میں پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے

میرے سامنے تمہارا جنازہ رکھا ہے لوگ کہہ رہے ہیں تم مر گئے ہو کسی نے میرے سر پہ دوپٹہ ڈالا ہے سفید براق بے داغ میری ساری چوڑیاں کسی نے کچ کچ کر کے توڑ دی ہیں پتا نہیں کون ہے جو بار بار کہہ رہا ہے رو لو تھوڑا سا رو لو دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا مجھے رونے کے بجائے ہنسی آئے چلی جا رہی ...

مزید پڑھیے

کیا فرق پڑتا ہے

تمہارا دیس کون سا ہے یا اگر ہماری تختیوں پہ جدائی لکھی ہو اور دوری کبھی طے نہ کی جا سکتی ہو کیا فرق پڑتا ہے اگر کہیں کسی زمانے کسی مقام کسی حد پر میں اور تم ایک دوسرے کے لئے صرف ایک مدھم ہوتا ہوا نقطہ ہوں اور تمام سفر بے معنی ہو میں جانتی ہوں کہ نئی زمین تمہیں راس آ گئی ہے تمہارے ...

مزید پڑھیے

آپ کون

عجیب سی یہ بات ہے کہ جو مرا یقین تھا جو تپتے راستوں میں میرے واسطے گلوں کی سر زمین تھا کہ جو مرا گمان تھا جو ابر تھا مرے لیے جو میرا آسمان تھا جو میری ابتدا تھا اور مرا جو اختتام تھا جو میری صبح زندگی جو میرا آسمان تھا ازل سے جو ابد تلک وفا کا سائبان تھا بہت ہی مہربان تھا جو مرکز ...

مزید پڑھیے

محبت اک ضرورت ہے

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ رشتے گر ضرورت سے جڑے ہوں تو وہ اکثر ٹوٹ جاتے ہیں ضرورت پوری ہونے پر ضرورت مند اک دوجے سے اکثر روٹھ جاتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ دنیا ضرورت ہے یہاں پر سانس لینا بات کرنا ساتھ چلنا اور دھڑکنا ہنستے ہنستے ایک دم خاموش ہونا اور پھر چپکے سے رونا یاد رکھنا ...

مزید پڑھیے

محبتوں کا یہ طور سینا

سنو مسافر یہ دل صحیفہ سہی مگر اس پہ چاہتوں کی کوئی کہانی رقم نہ ہوگی کہ چاہتوں کی ہر اک کہانی اداس آنکھوں سے جھانکتی ہے اداس چہروں پہ ہی رقم ہے سو میری مانو تو دل صحیفے کو گزرے وقتوں کی داستانوں سے ہی سجاؤ یہ دل کی زرخیز جو زمیں ہے تم اس پہ خوشیوں کے رنگ کاڑھو اسے گلابوں سے ہی ...

مزید پڑھیے

اے دل میرے ناشاد مرے

ہم زاد مرے برباد مرے اک عمر سے اس زنداں میں ہوں پر کھول مرے آزاد تو کر مرے پیروں میں زنجیر وفا اسے توڑ ذرا مجھے جوڑ ذرا مجھے جینے کی تہذیب تو دے مری سانسوں کو ترتیب تو دے اب خود کو ذرا تو شاد تو کر مجھے جیون سے آزاد تو کر تو جانتا ہے اس جیون کو یہ مدفن ہے ہر حسرت کا یہ جیون ہے اک موت ...

مزید پڑھیے

عجیب ہوتی ہے یہ محبت

نصیب والوں کے دل میں جب بھی یہ جاگتی ہے تو پہلے نیندیں اجاڑتی ہے یہ جھومتی ہے یہ ناچتی ہے یہ پھیلتی ہے یہ بولتی ہے ہر ایک لمحہ ہر ایک وعدے کو تولتی ہے یہ اپنے پیاروں کو مارتی ہے صلیب ہوتی ہے یہ محبت عجیب ہوتی ہے یہ محبت یہ پھیلتی ہے تو پیڑ بنتی ہے چھاؤں کرتی یہ روپ دیتی یہ چھاؤں کر ...

مزید پڑھیے

اے مرے مہرباں

پوچھتی ہوں تمہیں اک سوال آج میں پوچھتی ہوں وہ لمحے کہاں ہیں بھلا جو ترے پاس تھے جو مری آس تھے میرے لمحے بھلا دھول کیسے ہوئے خواب وہ وقت کی دھول کیسے ہوئے کیسے بجھنے لگے تھے ستارے سبھی کیسے جگنو اندھیروں میں خود کھو گئے تتلیاں پھول سے دور کیسے ہوئیں ابر سے آگ کیسے برسنے لگی زندگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2364 سے 6203