قومی زبان

کون سلگتے آنسو روکے آگ کے ٹکڑے کون چبائے

کون سلگتے آنسو روکے آگ کے ٹکڑے کون چبائے اے ہم کو سمجھانے والے کوئی تجھے کیوں کر سمجھائے جیون کے اندھیارے پتھ پر جس نے تیرا ساتھ دیا تھا دیکھ کہیں وہ کومل آشا آنسو بن کر ٹوٹ نہ جائے اس دنیا کے رہنے والے اپنا اپنا غم کھاتے ہیں کون پرایا روگ خریدے کون پرایا دکھ اپنائے ہائے مری ...

مزید پڑھیے

اور میں بنچ پہ اکیلی بیٹھی ہوں

بارشوں کا ہاتھ تھامے آج میں نے بہت دیر تک واک کی بنچ پہ بیٹھ کر دھیرے دھیرے لمبے گہرے سانس لیے اور پھر کافی دیر تک آنکھیں تمہارے چہرے پہ جمائے بیٹھی رہی بنا کسی وجہ کے میں ہنسی اور دیر تک ہنستی رہی تنہائی کا کینوس بہت وسیع ہے مگر ایک مکمل خاموشی اسے سیراب کرنے کو کافی ہے گفتگو کی ...

مزید پڑھیے

سزا سے بچ کے کئی بار شاطروں کی طرح

سزا سے بچ کے کئی بار شاطروں کی طرح میں اپنے سامنے آیا ہوں مجرموں کی طرح وہ زخم جن کا بدن پر نشاں نہیں پڑتا وہی تو کھلتے ہیں سپنوں میں روزنوں کی طرح ہر ایک موڑ پہ تجدید عہد لازم تھا وہ شخص تھا کوئی پر پیچ راستوں کی طرح یہی خیال مجھے آ کے چیر پھاڑ گیا ملے ہیں دوست بھی یوسف کے ...

مزید پڑھیے

نظر کو حامل برق جمال کر نہ سکا

نظر کو حامل برق جمال کر نہ سکا غرور حسن کو میں پائمال کر نہ سکا وہ آنے والے زمانے کو کیا بنائے گا جو آج تک مرے ماضی کو حال کر نہ سکا شکست دل کا مرے راز آپ کیا جانیں ملال ہی نہ ہوا یا ملال کر نہ سکا مجھے لطیف ستم سے کرم کے پردوں میں کچھ اس نے ایسے مٹایا ملال کر نہ سکا ہجوم غم رہا ...

مزید پڑھیے

وعدے کا اعتبار تو ہے واقعی مجھے

وعدے کا اعتبار تو ہے واقعی مجھے یہ اور بات ہے کہ ہنسی آ گئی مجھے لائی ہے کس مقام پہ وارفتگی مجھے محسوس ہو رہی ہے اب اپنی کمی مجھے سمجھے ہیں وہ جنوں تو جنوں ہی سہی مجھے دانستہ اب بدلنی پڑی زندگی مجھے جلووں کی روشنی میں جو کھویا تھا پا گیا تم سے نظر ملی تو محبت ملی مجھے ماحول ...

مزید پڑھیے

وہ کون ہے جو ہلاک نگاہ ناز نہیں

وہ کون ہے جو ہلاک نگاہ ناز نہیں میں کچھ نہیں ہوں اگر چشم امتیاز نہیں کمال عشق میں بھی لذت مجاز نہیں تڑپ رہا ہوں مگر دل میں سوز و ساز نہیں تو کیوں وہ گرمئ محفل وہ دل کشی نہ رہی نیاز مند اگر جان بزم ناز نہیں خلش کے ساتھ تڑپ ہے تڑپ کے ساتھ خلش ہمارے ظاہر و باطن میں امتیاز نہیں یہ ...

مزید پڑھیے

جنون بے خودی کے ساز و ساماں دیکھنے والے

جنون بے خودی کے ساز و ساماں دیکھنے والے بڑی حیرت میں ہیں میرا گریباں دیکھنے والے تمہاری زلف کی الجھن میں پھنس کر نیند کھو بیٹھے کبھی سوتے نہیں خواب پریشاں دیکھنے والے ابھی بھڑکے گا سوز غم ابھی یہ زخم کودیں گے ذرا ٹھہریں مرے دل کا چراغاں دیکھنے والے مری ٹھہری ہوئی دنیا میں ...

مزید پڑھیے

آپ تو گھبرا گئے بیتابیٔ دل دیکھ کر

آپ تو گھبرا گئے بیتابیٔ دل دیکھ کر کیا کہیں گے بندہ پرور اہل محفل دیکھ کر میں تو ہوں پروردۂ آغوش طوفان فنا خود ڈبو دیتا ہوں کشتی قرب ساحل دیکھ کر اک نگاہ لطف کی محتاج ہے تعمیر عشق آپ کیوں گھبرا گئے ٹوٹا ہوا دل دیکھ کر وہ بھی نخشبؔ بے خودیٔ دل سے آساں ہو گیا درد جو بخشا گیا تھا ...

مزید پڑھیے

سہارا ماں ہے

دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہے میں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے اس کے قدموں میں جو جنت ہے تو مطلب یہ ہے آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے خوشبو ایسی کہ مری روح تلک مہکی ہے روشنی ایسی کہ بس نور کا دھارا ماں ہے تپتے صحراؤں میں کس طرح بھٹک سکتی ہوں مجھ کو جو راہ دکھائے وہ ...

مزید پڑھیے

میں

اس بدن کے ملبے کے اندر اک دل کی اجڑی تختی ہے جس میں سناٹے بولتے ہیں یادوں کے در جو کھولتے ہیں کچھ خوابوں کے ذرے ہیں جو اس لہو میں خلیوں کی صورت جب رقص کریں تو بولتے ہیں کچھ بکھرے آس کے ٹکڑے ہیں جو من میں خوشبو گھولتے ہیں اک کرب ہی میرے اندر ہے اک دکھ ہی مرا مقدر ہے ان خوابوں کے جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2363 سے 6203