قومی زبان

ہوائے تند کے آگے دھواں ٹھہرتا نہیں

ہوائے تند کے آگے دھواں ٹھہرتا نہیں ہمارے سر پہ کبھی آسماں ٹھہرتا نہیں حساب درد کروں بھی تو اس سے کیا حاصل نگاہ شوق میں حرف زیاں ٹھہرتا نہیں نہ راستے کا انہیں علم ہے نہ منزل کا ہزار گرد اڑے کارواں ٹھہرتا نہیں جہاں پہ سکۂ زر کی کھنک سنائی نہ دے فقیہ شہر گھڑی بھر وہاں ٹھہرتا ...

مزید پڑھیے

صحبت شب کا طلب گار نہ ہوگا کوئی

صحبت شب کا طلب گار نہ ہوگا کوئی خوف اتنا ہے کہ بیدار نہ ہوگا کوئی دھوپ ہر سمت سے نکلی تو کہاں جاؤ گے دشت میں سایۂ دیوار نہ ہوگا کوئی حرف احساس بھی جل جائے گا ہونٹوں کی طرح مدعا قابل اظہار نہ ہوگا کوئی میں کہ پروردۂ صحرا ہوں بکوں گا کیسے دیکھ لینا کہ خریدار نہ ہوگا کوئی کچھ تو ...

مزید پڑھیے

خود آزما کے بھی دعوے اجل کے دیکھتے ہیں

خود آزما کے بھی دعوے اجل کے دیکھتے ہیں دیار شوق میں اک بار چل کے دیکھتے ہیں پگھلتی ہے کہ نہیں برف نا شناسائی کسی کی گرم نگاہی سے جل کے دیکھتے ہیں یہ دشت ہو سر گلشن کہاں سے آ نکلا یہ معجزہ ہے تو گھر سے نکل کے دیکھتے ہیں جنہیں ملی ہی نہیں چشم و دل کی بینائی تماشے وہ بھی خمار ازل کے ...

مزید پڑھیے

مرے خیال سے آگے ترا نشانہ پڑا

مرے خیال سے آگے ترا نشانہ پڑا سمند شوق پہ اک اور تازیانہ پڑا ابھی تو عشق و نظر کے ہزار پہلو تھے گلے ہمارے کہاں سے غم زمانہ پڑا پرائے نور سے میں کسب فیض کیا کرتا اثر پڑا ہے کبھی کچھ تو غائبانہ پڑا مجھے بھی قرض چکانا تھا اس کا اب کے برس غلط نہیں جو مرا دشت میں ٹھکانا پڑا کسی کے ...

مزید پڑھیے

اک نگاہ دلبری میری طرف

اک نگاہ دلبری میری طرف زندگی آ جائے گی میری طرف سیم و زر کا اک شجر اس کے لیے شاخ علم و آگہی میری طرف میرے اندر بھی اندھیرا ہے بہت روشنی اے روشنی میری طرف سیر گل سیر چمن سب اس کے نام شہر بھر کی ناخوشی میری طرف دست مجنوں کے ہرن کالے ہوئے برف سی گرتی ہوئی میری طرف اس کے دست ناز ...

مزید پڑھیے

یہ بزم شب ہے یہاں علم و آگہی کم ہے

یہ بزم شب ہے یہاں علم و آگہی کم ہے کئی چراغ جلے پھر بھی روشنی کم ہے اسی لئے تو مری اس سے دوستی کم ہے وہ خود پرست زیادہ ہے آدمی کم ہے یہی بہت ہے کہ پانی کو چھو لیا ہم نے بڑا ہے بحر محبت شناوری کم ہے ہوائے گرم چلی یوں کہ بجھ گئے چہرے گلوں میں اب کے برس بھی شگفتگی کم ہے کہاں کے عشق و ...

مزید پڑھیے

خاک اغیار سے یا رب مجھے پیوند نہ کر

خاک اغیار سے یا رب مجھے پیوند نہ کر مجھ کو ان چاند ستاروں میں نظر بند نہ کر ایک ہی بار چھلک جانے دے پیمانہ مرا لمحہ لمحہ مجھے آزردہ و خورسند نہ کر تجھ کو پہچان لیں یا تجھ کو خدا کہہ بیٹھیں اپنے دیوانوں کو اتنا بھی خرد مند نہ کر شہر دلی تو امانت ہے مرے پرکھوں کی اس کو بے رنگ و صدا ...

مزید پڑھیے

چوگا چنتی چڑیا کے دکھ

چوگا چنتی چڑیا تیری پلکوں پر اگنے والے خوابوں کے انکھوئے کون چن سکتا ہے تو تو یہ بھی نہیں جانتی جانے کب کوئی میلی نظروں کا جال تجھ پر پھینکے اور تو بے نور آنکھوں کے پنجرے میں قید ہو کر تمام عمر کے لیے چہکنا بھول جائے چڑیا تو تو پگلی ہے چوگا چنتی خواب دیکھتی ہے تجھے کیا معلوم ...

مزید پڑھیے

آخری دروازہ بند ہونے سے پہلے پہلے

واپسی کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو گم صم کیوں بیٹھی ہو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے واپسی کا ایک در ابھی کھلا ہے تم جانتی نہیں ہو اگر واپسی کے سبھی دروازے بند ہو جائیں تو رات پیروں میں گھنگھرو باندھے اتنا بھٹکاتی ہے کہ واپس لوٹ آنے پر بھی گھر نہیں ملتا صرف سرمئی سناٹے آنکھوں سے نکلتے ...

مزید پڑھیے

گیلی سیلی

میں نے اپنے مطالعے کی ٹیبل سے اپنی ساری نظمیں اٹھا کر کپڑوں کی الماری میں رکھ دیں تاکہ نہ میں نظموں کو دیکھوں نہ وہ مجھے آنکھیں دکھائیں مگر جب بھی میں الماری کا پٹ کھولتی درزوں سے جھانکتی نظمیں روتی چیختی اور میں جلدی سے الماری بند کر دیتی آج بہت دنوں بعد میں نے جب الماری کھولی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2353 سے 6203