قومی زبان

سر اٹھایا مذہبی دیوار پر پٹکا ہوا

سر اٹھایا مذہبی دیوار پر پٹکا ہوا راہ پر آنے لگا دل راہ سے بھٹکا ہوا رس کشی کی دعوتیں دیتے رہے تازہ گلاب جھاڑیوں میں تھا مگر تتلی کا پر اٹکا ہوا تذکرہ ہونے لگا جب آستیں کے سانپ کا پاس ہی احساس مجھ کو سرسراہٹ کا ہوا تشنۂ دیدار میں ہی تو نہیں ہوں ان دنوں اس کے گھر کے آئنے کا بھی ...

مزید پڑھیے

کیسی زمیں سکون کہاں کا کہاں کی چھاؤں

کیسی زمیں سکون کہاں کا کہاں کی چھاؤں مجھ کو نگل گئی مرے نخل اماں کی چھانو چھا جائے گی یقین کی ارض بسیط پر ذہنوں میں پھیلتے ہوئے دود گماں کی چھاؤں گہرائیوں نے مجھ کو ابھرنے نہیں دیا رقصاں تھی سطح آب پہ اک بادباں کی چھاؤں سورج کی مملکت میں غنیمت سمجھ اسے سر سے گزر گئی ترے ابر ...

مزید پڑھیے

پھول کا کھلنا بہت دشوار ہے

پھول کا کھلنا بہت دشوار ہے موسم گل آج کل بیمار ہے بے وسیلہ بات بن سکتی نہیں مل گئی کشتی تو دریا پار ہے آنسوؤں کا اور مطلب کچھ نہیں مختصر سی صورت اظہار ہے دوستی کا راز افشا کر گئی دشمنی بھی اک بڑا کردار ہے ہم سفینے کے لئے اک بوجھ ہیں ہم اگر ڈوبے تو بیڑا پار ہے زندگی کی رزم ...

مزید پڑھیے

بس تری حد سے تجھے آگے رسائی نہیں دی

بس تری حد سے تجھے آگے رسائی نہیں دی میں نے گالی تو کوئی اے مرے بھائی نہیں دی مجھے ہر فکر سے آزاد سمجھنے والے میرے ماتھے کی شکن تجھ کو دکھائی نہیں دی دل میں اک شور اٹھا ہاتھ چھڑانے سے ترے دیر تک پھر کوئی آواز سنائی نہیں دی پھول کاڑھے ہیں مرے تلووں پہ وحشت نے مری تپتے صحرا نے مجھے ...

مزید پڑھیے

قد سے کچھ ماورا چراغ جلے

قد سے کچھ ماورا چراغ جلے پلکیں اٹھیں وہ یا چراغ جلے تیرگی ختم ہو نہیں رہی دوست دوسرا تیسرا چراغ جلے جل اٹھا ہوں میں ہے اندھیرا کہاں کہہ رہا تھا بڑا چراغ جلے یوں بجھا ہے کہ دل یہ چاہتا ہے اور اک مرتبہ چراغ جلے گھپ اندھیرے میں آنکھیں روشن ہیں اب یہاں اور کیا چراغ جلے سب نے بیعت ...

مزید پڑھیے

رغبت ہے جن کو وصل کی تیرے وجود سے

رغبت ہے جن کو وصل کی تیرے وجود سے تحلیل ہو رہے ہیں فضاؤں میں دود سے مرکز بنا ہوں دیدۂ ارباب غیب کا لایا گیا ہے مجھ کو جہان شہود سے کافر بتا کے قتل انہیں کر دیا گیا مرعوب ہو سکے جو نہ داغ سجود سے کمرے میں آ کے بیٹھا ہوں اپنے بجھا بجھا جل جل کے تیری محفل رقص و سرود سے اک ایک نقش ...

مزید پڑھیے

سخن کا اس سے یارا بھی نہیں ہے

سخن کا اس سے یارا بھی نہیں ہے سخن کے بن گزارا بھی نہیں ہے بیاں شعروں میں ہم کرتے ہیں جتنا وہ اس درجہ تو پیارا بھی نہیں ہے بہت شکوے ہیں اس کو زندگی سے مگر مرنا گوارا بھی نہیں ہے نظر میں جتنی حیرانی ہے اتنا انوکھا تو نظارہ بھی نہیں ہے لباس جاں تجھے واپس تو دے دوں مگر اک قرض اتارا ...

مزید پڑھیے

شام غم یاد نہیں صبح طرب یاد نہیں

شام غم یاد نہیں صبح طرب یاد نہیں زندگی گزری ہے کس طرح یہ اب یاد نہیں یاد ہے اتنا کہ میں ڈوب گیا پستی میں کتنی اونچی ہوئی دیوار‌ ادب یاد نہیں میں نے تخلیق کئے شعر و سخن کے موتی میری تخلیق کا تھا کون سبب یاد نہیں جن کے جلووں سے تھا آباد جہان دل و جاں میری نظروں سے نہاں ہو گئے کب ...

مزید پڑھیے

زینت ہوں انگوٹھی کی نہ لاکٹ میں جڑا ہوں

زینت ہوں انگوٹھی کی نہ لاکٹ میں جڑا ہوں میں ایک نگینہ ہوں پہ مٹی میں پڑا ہوں کیوں ذات کے گنبد میں ہر اک شخص ہوا قید کب سے انہیں سوچوں کے دوراہے پہ کھڑا ہوں تم ساتھ مرا آ کے جہاں چھوڑ گئے تھے میں آج بھی تنہا اسی سنگم پہ کھڑا ہوں موقف سے میں ہٹ جاؤں یہ ممکن نہیں ہرگز پتھر کی طرح ...

مزید پڑھیے

اک سایہ سا ہے ساتھ مگر آشنا نہیں

اک سایہ سا ہے ساتھ مگر آشنا نہیں میں اس کو اور وہ مجھے پہچانتا نہیں اک واقعہ ہے یہ کہ وہ دل میں ہے جاگزیں اک حادثہ ہے یہ میں اسے جانتا نہیں یہ اور بات ہے کہ زمانہ ہے معترف میں خود تو اپنے آپ کو بھی مانتا نہیں کوئی ٹھکانہ میرا نہ میری کوئی زمیں ہوں میں بھی لا مکاں پہ کوئی مانتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 235 سے 6203