قومی زبان

بادہ کش ہوں نہ پارسا ہوں میں

بادہ کش ہوں نہ پارسا ہوں میں کوئی سمجھائے مجھ کو کیا ہوں میں رات بکھرے ہوئے ستاروں کو دن کی باتیں سنا رہا ہوں میں میرے دل میں ہیں غم زمانے کے ساری دنیا کا ماجرا ہوں میں شعر اچھے برے ہوں میرے ہیں ذہن سے اپنے سوچتا ہوں میں کوئی منزل نہیں مری منزل کس دوراہے پہ آ گیا ہوں میں یوں ...

مزید پڑھیے

جینے کی ہے امید نہ مرنے کی آس ہے

جینے کی ہے امید نہ مرنے کی آس ہے جس شخص کو بھی دیکھیے تصویر یاس ہے جب سے مسرتوں کی ہوئی جستجو مجھے میں بھی اداس ہوں مرا دل بھی اداس ہے لاشوں کا ایک ڈھیر ہے گھیرے ہوئے مجھے آباد ایک شہر مرے آس پاس ہے مجھ سے چھپا سکے گی نہ اپنے بدن کا کوڑھ دنیا مری نگاہ میں یوں بے لباس ہے یاران مے ...

مزید پڑھیے

دل میں رکھا تھا شرار غم کو آنسو جان کے

دل میں رکھا تھا شرار غم کو آنسو جان کے ہاں مگر دیکھے عجب انداز اس طوفان کے اپنی مجبوری کے آئینے میں پہچانا تجھے یوں تو کتنے ہی وسیلے تھے تری پہچان کے زخم خوں آلود ہیں آنسو دھواں دیتے ہوئے یہ سہانے سے نمونے ہیں ترے احسان کے درد و غم کے تپتے صحرا کی کڑکتی دھوپ میں سو گیا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

مشرب حسن کے عنوان بدل جاتے ہیں

مشرب حسن کے عنوان بدل جاتے ہیں مذہب عشق میں ایمان بدل جاتے ہیں رخ جاں سے ترے پیکان بدل جاتے ہیں خانۂ قلب کے مہمان بدل جاتے ہیں عشق میں پیار کے بدل جاتے ہیں حسن کے فیض سے رومان بدل جاتے ہیں انقلابات تمدن سے جہاں میں اکثر میں نے دیکھا ہے کہ انسان بدل جاتے ہیں اک سفینے کے تصادم ...

مزید پڑھیے

نیاز و ناز کے ساغر کھنک جائیں تو اچھا ہے

نیاز و ناز کے ساغر کھنک جائیں تو اچھا ہے ترے میکش ترے در پر بھٹک جائیں تو اچھا ہے شرارے سوز پیہم کے بھڑک جائیں تو اچھا ہے محبت کی حسیں راہیں چمک جائیں تو اچھا ہے شراب شوق کے ساغر چھلک جائیں تو اچھا ہے فضائیں بادہ خانے کی مہک جائیں تو اچھا ہے ترے ہنسنے سے کلیوں کے حسیں رنگ تبسم ...

مزید پڑھیے

عشق کی منزل میں اب تک رسم مر جانے کی ہے

عشق کی منزل میں اب تک رسم مر جانے کی ہے حسن کی محفل میں اب بھی خاک پروانے کی ہے آرزوئے شوق کیف مستقل پانے کی ہے دل کی ہر تخریب میں تعمیر ویرانے کی ہے مہر قبل شام کی رفتار مستانے کی ہے مطلع رنگ شفق میں شان میخانے کی ہے شمع محفل بھی نہیں اور اہل محفل بھی نہیں نازش محفل سحر تک خاک ...

مزید پڑھیے

برق کے سائے میں کیف آشیاں سمجھا تھا میں

برق کے سائے میں کیف آشیاں سمجھا تھا میں ہر مآل رنگ و بو کو گلستاں سمجھا تھا میں ہر نمود عشق میں سوز نہاں سمجھا تھا میں شاہکار حسن کو آتش بجاں سمجھا تھا میں رنج و غم سے ارتباط جسم و جاں سمجھا تھا میں ہستئ ناکام کو خواب گراں سمجھتا تھا میں عشق فانی کو نشاط جاوداں سمجھا تھا ...

مزید پڑھیے

نہ بھولا جائے گا تم سے غم بے انتہا میرا

نہ بھولا جائے گا تم سے غم بے انتہا میرا رہے گا درد بن کر دل میں احساس وفا میرا سلامت ہے یہ جب تک جذبۂ ذوق رسا میرا بگاڑے گی بھلا کیا یہ زمانے کی ہوا میرا تجلی حسن زیبا کی بہاریں روئے روشن کی انہیں رنگینیوں میں دل بھی شاید کھو گیا میرا تمہیں پر چھوڑتا ہوں منصفی جرم محبت کی نہ راس ...

مزید پڑھیے

مری ذات کا ہیولیٰ تری ذات کی اکائی

مری ذات کا ہیولیٰ تری ذات کی اکائی کوئی ہم سفر ہے میرا کہ ہے تیری خود نمائی میں ہوں پر سکوں ازل سے میں ہوں پر سکوں ابد تک مگر آنکھ کہہ رہی ہے نہیں تجھ سے آشنائی میں تو لٹ چکا زمانے! مرے پاس کیا رہا ہے مرے ہونٹ سل چکے ہیں میں بھلا دوں کیا دہائی یہ فرار کا ہے لمحہ کہ قرار کی ہے ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسے حال و ماضی تیرے افسانے بھی ہوتے ہیں

کچھ ایسے حال و ماضی تیرے افسانے بھی ہوتے ہیں جو ہر ماحول مستقبل کو دہرانے بھی ہوتے ہیں جو احساس جوانی کی حسیں خلوت میں پلتے ہیں وہ جلوے منظر جذبات پر لانے بھی ہوتے ہیں خموشی داستاں ہے عصمت عنوان ہستی کی خموشی میں نہاں عصمت کے افسانے بھی ہوتے ہیں حریم دل میں تجھ کو کاوش غم ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 236 سے 6203