قومی زبان

اے صبا کہہ بہار کی باتیں

اے صبا کہہ بہار کی باتیں اس بت گل عذار کی باتیں کس پہ چھوڑے نگاہ کا شہباز کیا کرے ہے شکار کی باتیں مہربانی سیں یا ہوں غصے سیں پیاری لگتی ہیں یار کی باتیں چھوڑتے کب ہیں نقد دل کوں صنم جب یہ کرتے ہیں پیار کی باتیں پوچھیے کچھ کہیں ہیں کچھ ناجیؔ آ پڑیں روزگار کی باتیں

مزید پڑھیے

کرم تیرا کہ سوز جاودانی لے کے آئی ہوں

کرم تیرا کہ سوز جاودانی لے کے آئی ہوں مگر یہ کیا کہ میں اک عمر فانی لے کے آئی ہوں یہ کس کافر کی محفل ہے کہ جس میں نذر کرنے کو میں دل کی دھڑکنیں آنکھوں کا پانی لے کے آئی ہوں یہ دنیا یہ خلوص و عشق کے رنگ آفریں نغمے بیاباں میں گلستاں کی کہانی لے کے آئی ہوں بھڑک کر شعلہ بن جائے کہ بجھ ...

مزید پڑھیے

فطرت کی سحر طرازیاں

فطرت کا حسن سحر خیز اس کے راز بے کراں بے پناہ حسین پھول زندہ چشمے بہتے دریا سبزہ زار کوہسار جنگل اور صحرا وادیاں گھاٹیاں اتھاہ سمندر اور ان میں آباد دنیائیں پر اسرار حیرت خیز سحر انگیز ایک پوری کائنات گرجتے بادل بجلی کی لہریں شفق افق زمین سے اگتا آفتاب چاند کا جادو بارش کی مسحور ...

مزید پڑھیے

ایک قصۂ کہنہ کی تجدید

نگاہ فسوں ساز دل میں اتر کر زمانہ سے بیگانہ سا کر گئی لہو قطرہ قطرہ نگاہوں سے زنجیر بن کر ٹپکتا رہے گا یہ طوفانی موجیں یوں ہی کب تلک مجھ سے آ آ کے ٹکرائیں گی آگ کب تک جلے گی دھواں کب تلک یوں ہی اٹھتا رہے گا یہ کیسے ہوا سارے رشتے فقط ایک ہی ذات میں آ سمائے ہمیں ناز ہے کہ ہم نے وہ ...

مزید پڑھیے

گہرائیوں کا خوف

بہت آساں نظر آیا ہمیں اس روز اپنا پانیوں پر تیرتے رہنا کسی نے جب کہا گہرائیوں میں ڈوب کر دیکھو کہ اندر کیا ہے تو ہم ڈر کر سمندر کے کنارے کی طرف لپکے

مزید پڑھیے

میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں

میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں دھیمی دھیمی پھوار گرتی ہے مجھ میں دریا ہیں موجزن ہر سو لہریں اٹھتی ہیں ڈوب جاتی ہیں میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں

مزید پڑھیے

برف یوں ہی گرے

برف یوں ہی گرے چوٹیوں کو پہاڑوں کی ڈھکتی رہے کوہساروں میں چاندی پگھلتی رہے آگ جلتی رہے مینہ برستا رہے آرزؤں کے بے چین سے قافلے یوں ہی آہستگی سے سرکتے رہیں ہم یوں ہی خواب کی وادیوں سے گزرتے رہیں ہم یوں ہی ہر طرف وادیوں کوہساروں میں تحلیل ہوتے رہیں درختوں کی شاخوں پہ اس طرح ہی صاف ...

مزید پڑھیے

ریگستان میں جھیل

سنا کرتے تھے اب تک ریگزاروں میں کہیں بھی دور تک پانی نہیں ملتا مگر اک بار جب ہم ریت کے جلتے ہوئے ذروں پہ ننگے پاؤں چل کر لہو برساتے سورج سے نگاہیں چار کرتے پاؤں میں چھالے سجائے پانی کے چند ایک قطرے ڈھونڈتے قدم آگے بڑھائے جا رہے تھے لہو کی تیز بڑھتی گردشیں مدھم سے مدھم تر ہی ہوتی ...

مزید پڑھیے

کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی

کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی کہے ہیں بات ایسی خیال میں میرے نہیں آتی جو چاہو سیر دریا وقف ہے مجھ چشم کی کشتی ہر ایک موئے پلک میرا ہے گویا گھاٹ خیراتی برنگ اس کے نہیں محبوب دل رونے کو عاشق کے سعادت خاں ہے لڑکا وضع کر لیتا ہے برساتی جو کوئی اصلی ہے ٹھنڈا گرم یاقوتی ...

مزید پڑھیے

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں کہے تھے مردم شرابی ان کوں نکل گئیں اپنی دے غلطیاں سوائے گل کے وہ شوخ انکھیاں کسی طرف کو نہیں ہیں راغب تو برگ نرگس اوپر بجا ہے لکھوں جو اپنے سجن کوں پتیاں صنم کی زلفاں کو ہجر میں اب گئے ہیں مجھ نین ہیں خواب راحت لگے ہے کانٹا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2339 سے 6203