قومی زبان

رشک عدو میں دیکھو جاں تک گنوا ہی دیں گے

رشک عدو میں دیکھو جاں تک گنوا ہی دیں گے لو جھوٹ جانتے ہو اک دن دکھا ہی دیں گے آواز کی طرح سے بیٹھیں گے آج اے جاں دیکھیں تو آپ کیوں کر ہم کو اٹھا ہی دیں گے اڑ جاؤں گا جہاں سے عاشق کا رنگ ہو کر نقش قدم نہیں ہوں جس کو مٹا ہی دیں گے غیروں کی جستجو کی مدت سے آرزو ہے یہ یاد وہ نہیں ہے جس ...

مزید پڑھیے

بھولوں تمہیں وہ بشر نہیں ہوں

بھولوں تمہیں وہ بشر نہیں ہوں اتنا بھی بے خبر نہیں ہوں اللہ رے فرط کاہش تن ہر چند کہ ہوں مگر نہیں ہوں دکھلائی نہ دوں یہ غیر ممکن کچھ آپ کی میں کمر نہیں ہوں بے حال کہے نہ جانے دوں گا عاشق ہوں نامہ بر نہیں ہوں

مزید پڑھیے

مری جان رنج گھٹائیے قدم آگے اب نہ بڑھائیے

مری جان رنج گھٹائیے قدم آگے اب نہ بڑھائیے ادھر آئیے ادھر آئیے ادھر آئیے ادھر آئیے کھڑے کب سے ہم سر راہ ہیں کہیں مر چکیں کہ تباہ ہیں ہدف خدنگ نگاہ ہیں ذرا آنکھ ادھر بھی ملائیے بھلا آنا آپ کا کام ہے یہ غلط تمام کلام ہے اجی بس ہمارا سلام ہے کہیں اور باتیں بنائیے تہ تیغ تیز ہے اک ...

مزید پڑھیے

ماتم بہت رہا مجھے اشک چکیدہ کا

ماتم بہت رہا مجھے اشک چکیدہ کا آخر کو پاس آ ہی گیا نور دیدہ کا نام فراق پھر نہ لیا میں نے عمر بھر تھا ذائقہ زباں پہ عذاب چشیدہ کا اب وہ مزا نہیں لب شیریں کے قند میں چوسا ہوا ہے یہ کسی خدمت رسیدہ کا اے چرخ پیر زور جوانی سے در گزر اب پاس چاہیے تجھے پشت خمیدہ کا ابرو میں خم جبیں ...

مزید پڑھیے

اب وہ گلی جائے خطر ہو گئی

اب وہ گلی جائے خطر ہو گئی حال سے لوگوں کو خبر ہو گئی وصل کی شب کیا کہوں کیوں کر کٹی بات نہ کی تھی کہ سحر ہو گئی دیکھیں گے اے ضبط یہ دعوے ترے رات جدائی کی اگر ہو گئی حضرت ناصح نے کہی بات جو ہم اثر درد جگر ہو گئی میں نہ ہوا غیر ہوئے مستفیض تیری نظر تھی وہ جدھر ہو گئی یاد کسی کی ...

مزید پڑھیے

گلی میں بخت کے ان کا بھی کچھ قصہ نکل آیا

گلی میں بخت کے ان کا بھی کچھ قصہ نکل آیا ہوئی تھی صلح کس مشکل سے پھر جھگڑا نکل آیا میں اپنے شور کے صدقے کہ دیکھا آج تو اس کو بھرا غصے میں گھر سے شوخ بے پروا نکل آیا ندامت جو ہوئی دیں گالیاں افسانہ گویوں کو وہ سنتے تھے کہانی ذکر کچھ میرا نکل آیا کسی کا گھر نہیں یہ تو گلی ہے سوچ او ...

مزید پڑھیے

دامن زیست میں داغوں کے سوا کچھ بھی نہیں (ردیف .. ے)

دامن زیست میں داغوں کے سوا کچھ بھی نہیں لوٹ آئے گا کوئی شہر کے بازاروں سے کتنا آسیب زدہ ہے یہ زمانے کا چلن ڈر سا لگتا ہے مجھے اپنی ہی دیواروں سے ٹوٹنے والوں کے احساس سے پوچھو جا کر لوگ واقف ہی کہاں ہوتے ہیں جھنکاروں سے جھانک کر دیکھیے اندر تو اندھیرا ہوگا روشنی لاکھ نکلتی رہے ...

مزید پڑھیے

امیدوار لطف نہیں ہیں کسی سے ہم

امیدوار لطف نہیں ہیں کسی سے ہم مایوس اس لیے بھی نہیں زندگی سے ہم ان کی جفائیں سہہ نہ سکے خوش دلی سے ہم کیا صلح کر سکیں گے غم زندگی سے ہم ہیں مست اور بے خود‌ و سرشار آج تک اک روز کیا ملے تھے کسی اجنبی سے ہم وہ اب ہمارے پہلو میں بیٹھے ہوئے ہیں دردؔ ڈر یہ ہے مر نہ جائیں کہیں اس خوشی ...

مزید پڑھیے

رہائی کی بے سود خواہش

میرے کمرے کی کھڑکی کے باہر ہوا چیختی ہے بڑا شور ہے سیٹیاں بج رہی ہیں چمک دھوپ کی بند کھڑکی کے شیشے سے اندر چلی آ رہی ہے ہوائیں فضا میں بہے جا رہی ہیں مرے ہر طرف شور ہی شور ہے مگر ایک بے نام بستی مہیب اور پر شور سناٹوں سے جاں بہ لب ہے کھڑکیاں کھول دو یہ اونچی بہت اونچی دیواریں ڈھا ...

مزید پڑھیے

منظور ہے ناپنا کمر کا

منظور ہے ناپنا کمر کا پیمانہ بنائیے نظر کا تھا شام سے دغدغہ سحر کا دھڑکا ہی لگا رہا گجر کا سینے میں سے کچھ آئی آواز پھوٹا کوئی آبلہ جگر کا آنسو پونچھیں گے کب تک احباب ٹپکا نہ رکے گا چشم تر کا دل ہی تو ہے کیا عجب بہل جائے کچھ ذکر کرو ادھر ادھر کا کیوں زلف دراز کھولتے ہو کیا خوف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2340 سے 6203