رشک عدو میں دیکھو جاں تک گنوا ہی دیں گے
رشک عدو میں دیکھو جاں تک گنوا ہی دیں گے لو جھوٹ جانتے ہو اک دن دکھا ہی دیں گے آواز کی طرح سے بیٹھیں گے آج اے جاں دیکھیں تو آپ کیوں کر ہم کو اٹھا ہی دیں گے اڑ جاؤں گا جہاں سے عاشق کا رنگ ہو کر نقش قدم نہیں ہوں جس کو مٹا ہی دیں گے غیروں کی جستجو کی مدت سے آرزو ہے یہ یاد وہ نہیں ہے جس ...