قومی زبان

اک ہاتھ دعاؤں کا اثر کاٹ رہا ہے

اک ہاتھ دعاؤں کا اثر کاٹ رہا ہے ہے چھاؤں میں جس کی وہ شجر کاٹ رہا ہے کاٹا تھا کبھی میں نے سفر ایک انوکھا اک عمر سے اب مجھ کو سفر کاٹ رہا ہے تم ڈرتے ہو آ جائے نہ بستی میں درندہ مجھ کو تو کوئی اور ہی ڈر کاٹ رہا ہے پھیلا ہے بہت دور تلک مجھ میں بیاباں ڈستا ہے دریچہ مجھے در کاٹ رہا ...

مزید پڑھیے

ہم یار کی غیروں پہ نظر دیکھ رہے ہیں

ہم یار کی غیروں پہ نظر دیکھ رہے ہیں گو منہ پہ نہ لائیں گے مگر دیکھ رہے ہیں منہ میری طرف ہے تو نظر غیر کی جانب کرتے ہیں کدھر بات کدھر دیکھ رہے ہیں کے روز رقیبوں سے نبھی رسم محبت ہم بھی یہی اے رشک قمر دیکھ رہے ہیں قاصد سے جو بیمار بہت مجھ کو سنا تھا اخبار میں مرنے کی خبر دیکھ رہے ...

مزید پڑھیے

میرے تڑپنے نے تماشا کیا

میرے تڑپنے نے تماشا کیا وہ نگہ شوق سے دیکھا کیا اشک نے کیں عشق کی غمازیاں راز دروں آنکھ نے افشا کیا بل بے خلش خنجر بیداد کی سینہ کو لبریز تمنا کیا جو نہ ہوا آپ سے بہتر ہوا جو نہ کیا آپ نے اچھا کیا وعدۂ جانبازئ الفت نسیمؔ تو نے یہ دیوانے ستم کیا کیا

مزید پڑھیے

یوں ہی گر عدو کی غلامی کریں گے

یوں ہی گر عدو کی غلامی کریں گے وہ حاصل بڑی نیک نامی کریں گے کریں گے دلیلیں وہاں خوب ناصح انہیں کو ہم اپنا پیامی کریں گے اجازت بھی دے ان کو تنگی دہن کی وہ کس منہ سے شیریں کلامی کریں گے عدو نے کیا غسل صحت سنا ہے وہ جلسہ بڑا دھوم دھامی کریں گے علیؔ کا وسیلہ ہے دونوں جہاں میں نسیمؔ ...

مزید پڑھیے

دے دیں ابھی کرے جو کوئی خوب رو پسند

دے دیں ابھی کرے جو کوئی خوب رو پسند ہم کو نہیں پسند دل آرزو پسند مانند اشک خاک میں آخر ملا دیا آئی نہ آسماں کو مری آبرو پسند تم نے وہاں رقیب کو پہلو میں دی جگہ یاں رہ گیا تڑپ کے دل آرزو پسند عشاق سے وہ پوچھتے ہیں تیغ تول کر ہے زخم سر پسند کہ زخم گلو پسند قربان اس ادا کے وہ کہتے ...

مزید پڑھیے

بھول سکوں میں تجھ کو یارا میرے بس کی بات نہیں

بھول سکوں میں تجھ کو یارا میرے بس کی بات نہیں ڈھونڈوں اب میں دوجا دوارا میرے بس کی بات نہیں اب تو میرا شوق نہیں ہے اب تو میری عادت ہے اب اس عادت سے چھٹکارا میرے بس کی بات نہیں دل آنا تھا آیا تجھ پر کیوں آیا میں کیوں جانوں دل پر میرا بس دل دارا میرے بس کی بات نہیں چھوڑ کے یہ در تو ...

مزید پڑھیے

آج پھر درد جگر سے گزرا

آج پھر درد جگر سے گزرا ایک ساگر جیوں بھنور سے گزرا تر بہ تر یاد لئے اک بادل ڈبڈبایا سا نظر سے گزرا در پہ ان کے بھی پڑی تھی سانکل آج کیسا میں ادھر سے گزرا گمشدہ گاؤں لئے خوابوں میں میں حقیقت کے نگر سے گزرا ایک چرچا تھی میری بربادی آج جب جب میں جدھر سے گزرا

مزید پڑھیے

کیا کیا کام نہ وہ کرتا

کیا کیا کام نہ وہ کرتا پھر بھی پیٹ کہاں بھرتا وہ بھی دنیا دار ہوا مرتا آخر کیا کرتا پوچھا تو جھرنا بولا مر جاتا جو نہ جھرتا سب سے اونچی بھیت چنی اب سب سے زیادہ ڈرتا اوس نہیں آنسو نکلا میں نے اس کو جب برتا

مزید پڑھیے

صورت حال دل بدلتا ہے

صورت حال دل بدلتا ہے کوئی رہ رہ کے ہاتھ ملتا ہے دھوپ سے کیا شکایتیں کہ بدن چاندنی رات میں بھی جلتا ہے نیند ٹوٹی ہے کس کی آہٹ سے سطح دل پر کوئی تو چلتا ہے اب کہاں جائے موسم ہجراں میرے آنگن میں آ نکلتا ہے ایسا لگتا ہے بچپنا اب بھی میرا آنچل پکڑ کے چلتا ہے

مزید پڑھیے

غبار شب ذرا اس امر کی خبر کرنا

غبار شب ذرا اس امر کی خبر کرنا کہاں سے ہے مجھے اب ہجر کا سفر کرنا یہ موج‌ باد زمانہ ہے بے لحاظ بہت تم اپنے اپنے چراغوں پہ اک نظر کرنا رہا نہ اس کو اگر مجھ پہ اعتماد تو پھر کسی حوالے سے کیا خود کو معتبر کرنا دعائیں دے کے ہی کرنا ہے اب اسے رخصت پھر اپنے ساتھ جو ہونا ہے درگزر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2331 سے 6203