قومی زبان

شب فرقت قضا نہیں آتی

شب فرقت قضا نہیں آتی لاکھ کہتا ہوں آ نہیں آتی چپ ہیں وہ سن کے شکوۂ اغیار بات بھی تو بنا نہیں آتی وہ تو وعدے پہ آ چکے اے موت تو بھی آتی ہے یا نہیں آتی کس مرض کی دوا ہیں آپ اگر درد دل کی دوا نہیں آتی شیشۂ دل ہے کس قدر نازک ٹوٹنے کی صدا نہیں آتی ہم ہیں آزادہ رو جہاں میں نسیمؔ یاں ...

مزید پڑھیے

ذکر ایفا کچھ نہیں وعدہ ہی وعدہ ہم سے ہے

ذکر ایفا کچھ نہیں وعدہ ہی وعدہ ہم سے ہے رات دن شام و سحر امروز فردا ہم سے ہے ہم نہ کہتے تھے کہ یہ جور و جفا اچھی نہیں پوچھ کچھ روز جزا اب تم سے ہے یا ہم سے ہے دوسروں کے کہنے سننے پر نہ تم جاؤ نہ ہم تم سے بس کہنا ہمارا ہے تمہارا ہم سے ہے شرم وصل غیر سے اٹھتی نہیں اونچی نظر درد سر ...

مزید پڑھیے

ہجر میں جب خیال یار آیا

ہجر میں جب خیال یار آیا لب پہ نالہ ہزار بار آیا پھر صفائی کی کون سی صورت آپ کے دل میں جب غبار آیا کیجئے ذبح کھینچیے خنجر لیجئے یہ گناہ گار آیا بولے ٹھکرا کے میرے مرقد کو اب تجھے کس طرح قرار آیا تو نے حاصل نسیمؔ کچھ نہ کیا کچھ بھی تجھ کو نہ میرے یار آیا

مزید پڑھیے

غیر کے گھر ہیں وہ مہمان بڑی مشکل ہے

غیر کے گھر ہیں وہ مہمان بڑی مشکل ہے جان جانے کے ہیں سامان بڑی مشکل ہے کہتے ہیں آپ ہیں جس بات کے طالب ہم سے ہے وہی غیر کو ارمان بڑی مشکل ہے اور پھر کس سے کہوں حال پریشانیٔ دل تم تو ہوتے ہو پریشان بڑی مشکل ہے بے ملے کام بھی چلتا نہیں ملنا بھی ضرور غیر سے جان نہ پہچان بڑی مشکل ہے اس ...

مزید پڑھیے

جور پیہم کی انتہا بھی ہے

جور پیہم کی انتہا بھی ہے ایک کے بعد دوسرا بھی ہے غیر نے بزم یار میں ہم سے کچھ کہا ہے تو کچھ سنا بھی ہے شوق سے دل مرا کرو پامال یہی کمبخت کی سزا بھی ہے ان کی ترچھی نظر سے ڈرتا ہوں یہ ادا ہی نہیں قضا بھی ہے کہتے ہیں وہ جو پوچھتا ہوں مزاج آپ سے کوئی بولتا بھی ہے نہیں واقف نسیمؔ سے ...

مزید پڑھیے

ہوں گے دل و جگر میں نشاں دیکھ لیجئے

ہوں گے دل و جگر میں نشاں دیکھ لیجئے تیر نظر پڑے ہیں کہاں دیکھ لیجئے باغ جناں میں لطف اذیت بھلا کہاں دنیا میں سیر جور بتاں دیکھ لیجئے آہیں نکل رہی ہیں دل درد ناک سے فوج غم و الم کا نشاں دیکھ لیجئے پردے ہی سے نہ آئیں وہ باہر تو پھر انہیں کس طرح دیکھ لیجے کہاں دیکھ لیجئے ہندوستاں ...

مزید پڑھیے

جہاں میں ابھی یوں تو کیا کیا نہ ہوگا

جہاں میں ابھی یوں تو کیا کیا نہ ہوگا زمیں پر کوئی تم سا پیدا نہ ہوگا شراب محبت کو اے زاہدو تم برا گر کہو گے تو اچھا نہ ہوگا سر بزم دشنام دشمن کو دے کر مجھے تم نے کیا دل میں کوسا نہ ہوگا مری بے قراری کو کیا دیکھتے ہو کبھی برق کو تم نے دیکھا نہ ہوگا نسیمؔ اور کچھ فکر کیجے خدارا اب ...

مزید پڑھیے

اپنے پندار سے گھٹ کر نہیں قائم رہتا

اپنے پندار سے گھٹ کر نہیں قائم رہتا فرد کردار سے ہٹ کر نہیں قائم رہتا عکس بٹ جاتا ہے آئینوں میں لیکن اے دل آئنہ عکس میں بٹ کر نہیں قائم رہتا کوئی بھی نقش ہو کتنا ہی مکمل لیکن وقت کی گرد میں اٹ کر نہیں قائم رہتا آسمانوں میں اڑانوں کا مزہ ہوگا مگر کوئی بھی خاک سے کٹ کر نہیں قائم ...

مزید پڑھیے

رقص زمیں کو گردش افلاک چاہیے

رقص زمیں کو گردش افلاک چاہیے نقش قدم کو فرش خس و خاک چاہیے مٹی تو دست‌ کوزہ گراں میں ہے دیر سے برتن میں ڈھالنے کے لیے چاک چاہیے ہم ایسے سادہ لوح سے کیا مانگتی ہے زیست اس کو حریف بھی کوئی چالاک چاہیے کم فرصتی کا ان کی مجھے بھی لحاظ ہے احوال دل کو دیدۂ نمناک چاہیے ٹھہرے ہوئے ہیں ...

مزید پڑھیے

کہیں گرفت نہیں کوئی استعارا نہیں

کہیں گرفت نہیں کوئی استعارا نہیں نواں فلک ہوں کہ جس پر کوئی ستارا نہیں رکے منڈیر پہ کب طائران رنگ سدا ثبات ہو جسے ایسا کوئی نظارا نہیں الجھ رہا ہے مرا بخت پھر مرے دل سے ہمارا کیسے ہے وہ شخص جو ہمارا نہیں درائے سرحد عقل و خرد اگر ہے خلا تو یہ نہ سمجھیں کہ اس بحر کا کنارا نہیں ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2330 سے 6203