قومی زبان

دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا

دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیب دشمناں ہوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا پکارتی ہیں فرصتیں کہاں گئیں وہ صحبتیں زمیں نگل گئی ...

مزید پڑھیے

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز ...

مزید پڑھیے

کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں

کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں رنج سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو تھوڑی سی خاک کوچۂ دلبر ہی لے چلیں یہ کہہ کے چھیڑتی ہے ہمیں دل گرفتگی گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں اس ...

مزید پڑھیے

او میرے مصروف خدا

او میرے مصروف خدا اپنی دنیا دیکھ ذرا اتنی خلقت کے ہوتے شہروں میں ہے سناٹا جھونپڑی والوں کی تقدیر بجھا بجھا سا ایک دیا خاک اڑاتے ہیں دن رات میلوں پھیل گئے صحرا زاغ و زغن کی چیخوں سے سونا جنگل گونج اٹھا سورج سر پہ آ پہنچا گرمی ہے یا روز جزا پیاسی دھرتی جلتی ہے سوکھ گئے بہتے ...

مزید پڑھیے

پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے

پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے پھر کونجیں بولیں گھاس کے ہرے سمندر میں رت آئی پیلے پھولوں کی تم یاد آئے پھر کاگا بولا گھر کے سونے آنگن میں پھر امرت رس کی بوند پڑی تم یاد آئے پہلے تو میں چیخ کے رویا اور پھر ہنسنے لگا بادل گرجا بجلی چمکی تم یاد ...

مزید پڑھیے

آج تو بے سبب اداس ہے جی

آج تو بے سبب اداس ہے جی عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں جانے کیا چیز کھو گئی میری وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک بسر اس بھرے شہر میں ہے ایک گلی چھپتا پھرتا ہے عشق دنیا سے پھیلتی جا رہی ہے رسوائی ہم نشیں کیا کہوں کہ وہ کیا ہے چھوڑ یہ بات نیند اڑنے لگی آج ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ بچھڑ جائیں ہم (ردیف .. و)

اس سے پہلے کہ بچھڑ جائیں ہم دو قدم اور مرے ساتھ چلو ابھی دیکھا نہیں جی بھر کے تمہیں ابھی کچھ دیر مرے پاس رہو مجھ سا پھر کوئی نہ آئے گا یہاں روک لو مجھ کو اگر روک سکو یوں نہ گزرے گی شب غم ناصرؔ اس کی آنکھوں کی کہانی چھیڑو

مزید پڑھیے

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر نہ جائے کہیں نہ ملا کر اداس لوگوں سے حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں آرزو ہے کہ تو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں آؤ کچھ دیر ...

مزید پڑھیے

تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی

تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی آنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئی آنچ آتی ہے ترے جسم کی عریانی سے پیرہن ہے کہ سلگتی ہوئی شب ہے کوئی ہوش اڑانے لگیں پھر چاند کی ٹھنڈی کرنیں تیری بستی میں ہوں یا خواب طرب ہے کوئی گیت بنتی ہے ترے شہر کی بھرپور ہوا اجنبی میں ہی نہیں تو بھی عجب ...

مزید پڑھیے

کون اس راہ سے گزرتا ہے

کون اس راہ سے گزرتا ہے دل یوں ہی انتظار کرتا ہے دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے دل تجھے دیکھ دیکھ ڈرتا ہے شہر گل میں کٹی ہے ساری رات دیکھیے دن کہاں گزرتا ہے دھیان کی سیڑھیوں پہ پچھلے پہر کوئی چپکے سے پاؤں دھرتا ہے دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 2311 سے 6203