جتنا باقی ہے وہ امکان اٹھا رکھا ہے
جتنا باقی ہے وہ امکان اٹھا رکھا ہے فکر فردا میں یہ اوسان اٹھا رکھا ہے کیسے مڑ کے تجھے دیکھیں گے تو ہی سوچ ذرا ہم نے سر پہ ابھی سامان اٹھا رکھا ہے
جتنا باقی ہے وہ امکان اٹھا رکھا ہے فکر فردا میں یہ اوسان اٹھا رکھا ہے کیسے مڑ کے تجھے دیکھیں گے تو ہی سوچ ذرا ہم نے سر پہ ابھی سامان اٹھا رکھا ہے
دل کے پہلو میں نہ اتنا دکھ سمونا چاہیے تھا استطاعت کے مطابق بوجھ ڈھونا چاہیے تھا اس کو مٹی مل گئی ہے جس کو سونا چاہیے تھا حرص کا شاید یہی انجام ہونا چاہیے تھا موت کو درکار تھی اک وسعت بے حد و پایاں زندگی کو قبر کا سنسان کونا چاہیے تھا جو ہوا گر وہ نہ ہوتا پھر تو ہوتا جانے کیا ...
خوگر عیش و مسرت دل خود کام نہیں ہے یہ آرام کی صورت مگر آرام نہیں موت لائی ہے یہ پیغام کہ اس گھر سے نکل تو نے جو کام کئے قابل انعام نہیں دائمی زیست ہو درکار تو مرنا سیکھو یہ وہ آغاز ہے جس کا کوئی انجام نہیں دیکھ کر حشر میں نیکی و بدی کی فہرست عشق ہے سر بہ گریباں کہ مرا نام ...
دل شوریدہ سر ہے اور میں ہوں حریف فتنہ گر ہے اور میں ہوں غم شام و سحر ہے اور میں ہوں ستاروں پر نظر ہے اور میں ہوں کسی کا سنگ در ہے اور میں ہوں علاج درد سر ہے اور میں ہوں جسے کہئے بلائے عہد پیری وہ شام بے سحر ہے اور میں ہوں جو پہلے تھا غم دل آج بھی وہ بعنوان دگر ہے اور میں ہوں وہ ...
کبھی میرا کبھی تیرا رہا ہے زمانہ ایک سا کس کا رہا ہے زبان و دل ہوئے ہیں جب سے پیدا زبان پر دل کا افسانہ رہا ہے اسے کیوں کر سمجھ لیں دل کی حرکت تڑپتے ہیں کوئی تڑپا رہا ہے رہے اتنا خیال اے چشم ساقی وہی پیتا ہے جو پیتا رہا ہے خدا جانے بہار آئے تو کیا ہو ابھی سے دل مرا گھبرا رہا ...
روز طوفاں کو گزارا میں کروں اور پھر گھر کو سنوارا میں کروں ایک امید کا تنکا ہی سہی خود کو اس سے ہی ابھارا میں کروں منتظر ہے میرا سیلاب ابھی اس کی ضد ہے کہ اشارہ میں کروں دھوپ ہی دھوپ ہو تو مشکل ہے کیسے سائے سے کنارہ میں کروں مسئلہ اک دفعہ میں بس یہ ہے دل تو چاہے گا دوبارہ میں ...
یہ جسم مرا تھک کے بہت چور ہوا ہے کس کار مسلسل پہ یہ معمور ہوا ہے وہ نیند ملی ہے کہ جو پوری نہیں ہوتی وہ خواب ملا ہے کہ جو معذور ہوا ہے جو خوف جراحت میں کھلا چھوڑ دیا تھا وہ زخم موادوں بھرا ناسور ہوا ہے اک بار اگر سانحہ میں سود جو دیکھا پھر ذوق حوادث بڑا بھرپور ہوا ہے کچھ وقت ذرا ...
ہم اب کیا بتائیں کہاں تک گئے گماں کے مسافر گماں تک گئے حصار جہاں تک ہے دشت انا دکھا بس یہ منظر جہاں تک گئے نہ جذبات سے یہ سفر طے ہوا نہ دل سے کبھی یہ زباں تک گئے کہ حاصل یہی موسموں کا رہا بہاروں کے پتے خزاں تک گئے مسافت کسی کی یہیں تک رہی مکاں سے چلے تو دکاں تک گئے بتاؤ قضا پر ...
جب صبح ہوئی آئی جب سانجھ ڈھلی آئی ہے یاد تری تجھ سی بے باک چلی آئی تھا بے نمو سا مجھ میں اک پودھا محبت کا یہ معجزہ ہے تیرا جو اس پہ کلی آئی احسان ہوا کا ہے بیکل مری سانسوں پہ خوشبو ترے دامن کی لے کر یہ چلی آئی آواز تری رن جھن پائل کی ہو جیسے دھن باتوں میں تری گھل کے مصری کی ڈلی ...
زخم ناسور کوئی ہونے سے درد اگتا ہے درد بونے سے وہ تھا مرکوز میرے مرکز پہ اور ادھڑتا رہا میں کونے سے چلو اب ہنس کے دیکھ لیتے ہیں دل پگھلتے نہیں ہیں رونے سے اسے ہم سود اب کہے یا زیاں مل گیا خواب نیند کھونے سے وہ اندھیروں میں ہی رہے آخر بجھ گئے جو چراغ ڈھونے سے دن میں بھی رات کا ...