ہاں آئنے میں ناز کی تصویر دیکھ لو
ہاں آئنے میں ناز کی تصویر دیکھ لو گیسو کے خم میں حسن کی زنجیر دیکھ لو غصہ اگر ہے مجھ پہ تو وہ بھی ہے اک ادا چین جبیں میں عشق کی تصویر دیکھ لو
ہاں آئنے میں ناز کی تصویر دیکھ لو گیسو کے خم میں حسن کی زنجیر دیکھ لو غصہ اگر ہے مجھ پہ تو وہ بھی ہے اک ادا چین جبیں میں عشق کی تصویر دیکھ لو
آنکھوں سے راز فاش ہے سب دل کے حال کا اس وقت تو خیال ہے مجھ خوش مآل کا جادو بھری نگاہ تصور میں جم گئی کاغذ پہ کھنچ گیا وہی نقشہ خیال کا
مے خوار ہوں میں وسعت مے خانہ دل میں ہے ساغر ہے کس شمار میں خم کس حساب میں بات آ پڑی ہے ظرف کی ساقی تو یوں سہی کوثر انڈیل دے مرے جام شراب میں
سرخ چشم اتنی کہیں ہوتی ہے بیداری سے لہو اترا ہے تری آنکھوں میں خوں خواری سے وقت رخصت کے ترے اے مرے جی کے دشمن تھام تھام آج رکھا دل کو میں کس خواری سے بس میں آیا جو تمہارے اسے چاہو سو کرو کیا ستم آدمی سہتا نہیں لاچاری سے کس نے نظروں میں خدا جانے اسے مل ڈالا نرگس آج آنکھ اٹھاتی ...
وصف جمال ذوق ہے اہل نگاہ کا حیرت کہوں کہ شور کہوں واہ واہ کا اہل جنوں پہ ظلم ہے پابندیٔ رسوم جادہ ہمارے واسطے کانٹا ہے راہ کا رکھتا ہے تلخ کام غم لذت جہاں کیا کیجئے کہ لطف نہیں کچھ گناہ کا کیا کچھ جناب شیخ کی نیت سے تھا بعید موقع بھی دخت رز نے دیا ہو گناہ کا اے برق کب سے اک نظر ...
محفل ناز سے میں ہو کے پریشان اٹھا بیٹھنے بھی نہیں پایا تھا کہ طوفان اٹھا ضد نہ کر اے دل ناشاد، کہا مان اٹھا گھر میں رہنے کا ٹھکانہ نہیں سامان اٹھا بن روادار یہ اپنوں کی شکایت کیسی نام اسی کا تو مروت ہے کہ نقصان اٹھا سب ستارے نہیں اس راہ گزر کے ذرے دل کے ٹکڑے بھی انہیں میں تو ہیں ...
نہیں رکتا تو جا خدا حافظ اے دل مبتلا خدا حافظ آئی ہوگی تو موت آئے گی تم تو جاؤ مرا خدا حافظ ہم چلے رہن آرزو ہو کر دل بے مدعا خدا حافظ ایک کافر کی ہے نظر دل پر میرے ایمان کا خدا حافظ بس خدا یاد آ گیا ناطقؔ جب وہ کہہ کر چلا خدا حافظ
جسم کا رکھ رکھاؤ جاری رہے خوشیوں کا مول بھاؤ جاری رہے اور کچھ بھی نہ ہو تو یوں ہی سہی زندگی سے لگاؤ جاری رہے
ایک امید کا بھی تو نے سہارا نہ کیا کوئی حامی نہ بھری کوئی اشارہ نہ کیا میں تعاقب میں تیرے کب سے ہوں اے مستقبل اور تو ہے کہ پلٹنا بھی گوارہ نہ کیا
زندگی سے جواب مانگوں گا ہر گھڑی کا حساب مانگوں گا میں نے دیکھے جو خواب میرے نہ تھے اب کے میں انتخاب مانگوں گا