قومی زبان

جہاں بچھڑے تھے اگر لوگ وہاں مل جاتے

جہاں بچھڑے تھے اگر لوگ وہاں مل جاتے لوٹنے والوں کو پھر گھر کے نشاں مل جاتے دل نوردوں کا رہا مرحلوں سے یہ شکوہ جہاں امید تھی اے کاش وہاں مل جاتے مل گیا تم کو تمہارا جہاں ہم کو اپنا تم ہمیں ملتے تو پھر دونوں جہاں مل جاتے ہم نے پیری میں پھر اس دل کو کھنگالا ہی نہیں شرم آتی اگر ...

مزید پڑھیے

کریں گے چوٹ ہواؤں پہ کارگر تو ہو

کریں گے چوٹ ہواؤں پہ کارگر تو ہو بہاؤ ان کا بدل جائے یہ اثر تو ہو سفر یہ زندگی کا اس قدر ہے لازم کیوں سفر میں ہم ہیں مگر ہم میں یہ سفر تو ہو معانی منزلوں اور راستوں کے ہے تب ہی کہ لوٹنے کو مسافر کے کوئی گھر تو ہو ہاں لطف روٹھنے کا بھی انہیں ملے لیکن ہمارے پاس منانے کا کچھ ہنر تو ...

مزید پڑھیے

وہ زخم چھوڑو اب اس کا نشان باقی نہیں

وہ زخم چھوڑو اب اس کا نشان باقی نہیں سو میرے حق میں کوئی بھی بیان باقی نہیں جفا بھی کرتے وہ تو اطمینان یہ ہوتا کہ اب میری وفا کا امتحان باقی نہیں بچے ہیں فاصلے بیچ اپنے سو نبھائیں گے سوائے ان کے تو کچھ درمیان باقی نہیں کریں گے کیا بھلا کردار وہ پرانے سب پرانی آج وہ جب داستان ...

مزید پڑھیے

ہو گئی آواز سستی اور مہنگا شور ہے

ہو گئی آواز سستی اور مہنگا شور ہے بات بیٹھی ہے سکڑ کر اور پھیلا شور ہے یہ ترا ہے یہ مرا ہے اور وہ اس کا شور ہے ٹکڑے ٹکڑے دنیا نے ٹکڑوں میں بانٹا شور ہے لال ہو نیلا ہو نارنگی ہو یا پھر ہو ہرا رنگ الگ خود غرضی کے پر سب کا اک سا شور ہے یہ سیاست کی دکانوں میں مسلسل بکتا ہے مذہبوں کا ...

مزید پڑھیے

ایک ہی پل میں بدلتا ہے نظارہ سارا

ایک ہی پل میں بدلتا ہے نظارہ سارا اور اس پل کے لیے باقی تماشا سارا زندگی نے نہ کسی امتحاں کو دہرایا تجربہ کام ہی آیا نہیں اپنا سارا دھوپ میں جلنا ہے اس کو جو شجر بن کے جیے اس کے سائے میں رہے خوش یہ زمانہ سارا اس کی رحمت کا خزانہ وہ لٹائے ایسے جس نے مانگا نہیں جو اس نے وہ پایا ...

مزید پڑھیے

رنج یوں راہ مسافت میں ملے

رنج یوں راہ مسافت میں ملے کچھ کمائے کچھ وراثت میں ملے خواب تک میں آج کل رسنے لگے زخم ہم کو جو حقیقت میں ملے اب نہیں ہے تاب دل سے ملنے کی کیا پتہ وہ کیسی حالت میں ملے ایک دوجے سے رقابت تھی جنہیں ایک دوجے کی حراست میں ملے جو اندھیروں میں نہ شائستہ رہے وہ اجالوں سے خجالت میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2266 سے 6203