رات ڈھلنی ہے دن نکلنا ہے
رات ڈھلنی ہے دن نکلنا ہے اور بہت دور مجھ کو چلنا ہے یوں گیا بس میں اور یوں آیا صرف یہ پیرہن بدلنا ہے
رات ڈھلنی ہے دن نکلنا ہے اور بہت دور مجھ کو چلنا ہے یوں گیا بس میں اور یوں آیا صرف یہ پیرہن بدلنا ہے
جسم کو چھوڑ کے روداد ہوئے جاتے ہیں اپنی ہی موت پہ ہم شاد ہوئے جاتے ہیں بات یہ کیوں نہیں ہے جشن منانے کی کہو ہجر کی قید سے آزاد ہوئے جاتے ہیں
خواب ہے اور انہیں پانے کی عظمت بھی ہے علم ہے ضبط ہے اور جذبۂ محنت بھی ہے ان سے بڑھ کر بھی ہے کچھ آج کی عورت کا نشاں اتنا سب کچھ ہے مگر پھر بھی وہ عورت بھی ہے
جو کبھی کھو دیں کہیں خود کو تو پائیں بہتر توڑ کر پھر سے بنائیں تو بنائیں بہتر ادھ جلا چھوڑ نہ دیں ہم کو زمانے والے آگ ہم خود ہی لگائیں تو لگائیں بہتر
جہاں بچھڑے تھے اگر لوگ وہاں مل جاتے لوٹنے والوں کو پھر گھر کے نشاں مل جاتے دل نوردوں کا رہا مرحلوں سے یہ شکوہ جہاں امید تھی اے کاش وہاں مل جاتے مل گیا تم کو تمہارا جہاں ہم کو اپنا تم ہمیں ملتے تو پھر دونوں جہاں مل جاتے ہم نے پیری میں پھر اس دل کو کھنگالا ہی نہیں شرم آتی اگر ...
کریں گے چوٹ ہواؤں پہ کارگر تو ہو بہاؤ ان کا بدل جائے یہ اثر تو ہو سفر یہ زندگی کا اس قدر ہے لازم کیوں سفر میں ہم ہیں مگر ہم میں یہ سفر تو ہو معانی منزلوں اور راستوں کے ہے تب ہی کہ لوٹنے کو مسافر کے کوئی گھر تو ہو ہاں لطف روٹھنے کا بھی انہیں ملے لیکن ہمارے پاس منانے کا کچھ ہنر تو ...
وہ زخم چھوڑو اب اس کا نشان باقی نہیں سو میرے حق میں کوئی بھی بیان باقی نہیں جفا بھی کرتے وہ تو اطمینان یہ ہوتا کہ اب میری وفا کا امتحان باقی نہیں بچے ہیں فاصلے بیچ اپنے سو نبھائیں گے سوائے ان کے تو کچھ درمیان باقی نہیں کریں گے کیا بھلا کردار وہ پرانے سب پرانی آج وہ جب داستان ...
ہو گئی آواز سستی اور مہنگا شور ہے بات بیٹھی ہے سکڑ کر اور پھیلا شور ہے یہ ترا ہے یہ مرا ہے اور وہ اس کا شور ہے ٹکڑے ٹکڑے دنیا نے ٹکڑوں میں بانٹا شور ہے لال ہو نیلا ہو نارنگی ہو یا پھر ہو ہرا رنگ الگ خود غرضی کے پر سب کا اک سا شور ہے یہ سیاست کی دکانوں میں مسلسل بکتا ہے مذہبوں کا ...
ایک ہی پل میں بدلتا ہے نظارہ سارا اور اس پل کے لیے باقی تماشا سارا زندگی نے نہ کسی امتحاں کو دہرایا تجربہ کام ہی آیا نہیں اپنا سارا دھوپ میں جلنا ہے اس کو جو شجر بن کے جیے اس کے سائے میں رہے خوش یہ زمانہ سارا اس کی رحمت کا خزانہ وہ لٹائے ایسے جس نے مانگا نہیں جو اس نے وہ پایا ...
رنج یوں راہ مسافت میں ملے کچھ کمائے کچھ وراثت میں ملے خواب تک میں آج کل رسنے لگے زخم ہم کو جو حقیقت میں ملے اب نہیں ہے تاب دل سے ملنے کی کیا پتہ وہ کیسی حالت میں ملے ایک دوجے سے رقابت تھی جنہیں ایک دوجے کی حراست میں ملے جو اندھیروں میں نہ شائستہ رہے وہ اجالوں سے خجالت میں ...