قومی زبان

ترے مسلک میں کیا اتنا بھی سمجھایا نہیں جاتا

ترے مسلک میں کیا اتنا بھی سمجھایا نہیں جاتا فقیروں اور درویشوں سے ٹکرایا نہیں جاتا نئے جملے تلاشو واقعی گر تم مقرر ہو ہر اک تقریر میں جملوں کو دہرایا نہیں جاتا تری فرقت میں سارے جسم کو پتھرا دیا میں نے فقط آنکھیں بچی ہیں ان کو پتھرایا نہیں جاتا تو اپنے عہدۂ منصف سے منصف ...

مزید پڑھیے

تہہ مزار کون ہے سر مزار کون تھا

تہہ مزار کون ہے سر مزار کون تھا جو قبر گیلی کر گیا وو اشک بار کون تھا سبھی نے آشکار اپنے آپ کو کیا مگر نمائشوں کی آڑ میں وو پردہ دار کون تھا تمام شہر غرق ہے غبار ہی غبار میں امیر شہر یے بتا وو خاکسار کون تھا وو قوم ہی عجیب تھی تھے نیم برہنہ سبھی ندامتیں تھیں کس کے پاس شرمسار کون ...

مزید پڑھیے

موم صفت لوگوں نے میرا ہنس کے تماشہ دیکھا تو

موم صفت لوگوں نے میرا ہنس کے تماشہ دیکھا تو وہ پتھر تھا لیکن اوس کی آنکھ سے آنسو ٹپکا تو الفاظوں نے معنی بدلے تحریروں نے رخ بدلا میرے قلم کی نوک سے جس دم خون کا چشمہ پھوٹا تو کہنے لگے سب آج سوا نیزے پر سورج آئے گا جس دن میں نے موم کا کرتا اپنے بدن پر پہنا تو قیمت دیکھتے دیکھتے ...

مزید پڑھیے

بظاہر تو تناور دکھ رہے ہیں

بظاہر تو تناور دکھ رہے ہیں مگر یے پیڑ سارے کھوکھلے ہیں یہ کس شمع کی چاہت میں پتنگے برہنہ پاؤں سورج پر کھڑے ہیں غزل کتنی اپاہج ہو گئی ہے غزل کے دست و بازو کہہ رہے ہیں دراریں جسم کی کھلنے لگی ہیں لہو کے قطرے بر آمد ہوئے ہیں ہر اک جانب ہے تاریکی کا جنگل اجالے راستہ بھٹکے ہوئے ...

مزید پڑھیے

دسمبر اور یاد

دسمبر کی ہوا کے سنگ کچھ انجان سی یادیں بہت ویران سی یادیں مرے دل سے گزر کر چاند کی برفیلی سیڑھی پر اچانک بیٹھ کر سرگوشیوں میں رات کرتی ہیں مگر وہ جاتے جاتے میرے ذہن و دل کو پگھلا دیتی ہیں اکثر

مزید پڑھیے

گماں مہر درخشاں کا ہوا ہے روئے روشن پر

گماں مہر درخشاں کا ہوا ہے روئے روشن پر تعجب ایک عالم کو ہے کیا کیا ان کے جوبن پر پڑھی جب فاتحہ تو پڑھتے پڑھتے ہنس دیا گویا گرائی آپ نے بجلی جب آئے میرے مدفن پر ہمارا دل دکھانا کچھ ہنسی یا کھیل سمجھے ہو سمجھ پکڑو جواں ہو اب نہ جاؤ تم لڑکپن پر سخن کو آپ کے اے حضرت دل کس طرح ...

مزید پڑھیے

سرخ رو ہونے کے قابل کیا حنا تھی میں نہ تھا

سرخ رو ہونے کے قابل کیا حنا تھی میں نہ تھا آپ کے قدموں کے نیچے اس کو جا تھی میں نہ تھا دیکھتے کیا ہو ادھر گر زلف برہم ہو گئی یہ سراسر حرکت باد صبا تھی میں نہ تھا جل گئے اغیار سب محفل میں آنے سے مرے اے پری یہ گرمیٔ آہ رسا تھی میں نہ تھا کیوں نہ اس حسرت سے میرا شیشۂ دل چور ہو باغ تھا ...

مزید پڑھیے

خالق ہو خدائے سحر و شام ہمارا

خالق ہو خدائے سحر و شام ہمارا مشہور اسی نے یہ کیا نام ہمارا آتی ہے ہوا سرد گھٹا اٹھتی ہے گھنگھور منگواؤ صراحی و مئے و جام ہمارا بیتابیٔ دل ان کے بھی دل میں تو اثر کر مدت سے یہی تجھ سے ہے پیغام ہمارا ہم کرتے ہیں حج کوچۂ دل دار کا اپنے ہے چادر تن جامۂ احرام ہمارا فرقت میں تری ...

مزید پڑھیے

چھپانا بھی جو تم چاہو محبت چھپ نہ پائے گی

چھپانا بھی جو تم چاہو محبت چھپ نہ پائے گی دیا دل میں جلے گا اور چمک چہرے پہ آئے گی حدود انکساری سے بھی ہم آگے نکل آئے اگر تم اور کھینچو گے تو رسی ٹوٹ جائے گی سماعت میں تو اپنی قوت احساس پیدا کر مرے دل کے تڑپنے کی تجھے آواز آئے گی ضرورت کو جکڑ کر صبر کی زنجیر میں رکھنا نہیں تو ...

مزید پڑھیے

تنگ دستی میں کرو لوگو گزارا دیکھ کر

تنگ دستی میں کرو لوگو گزارا دیکھ کر اپنی نیندیں مت اڑاؤ خواب مہنگا دیکھ کر نام سے میرے نگر میں اک محلہ دیکھ کر میرا دشمن مر نہ جائے مجھ کو زندہ دیکھ کر یاد آئے اس گھڑی اپنے گھروں کے راستے بے تحاشہ تھک گئے جب لوگ میلہ دیکھ کر کیا خبر تھی اپنے ہی ہاتھوں سے مارا جائے گا کل بتا دیتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2250 سے 6203