مغالطہ ہے عروج و زوال تھوڑی ہے
مغالطہ ہے عروج و زوال تھوڑی ہے ہماری آنکھ کے شیشہ میں بال تھوڑی ہے ہمارے دل میں کبوتر نماز پڑھتے ہیں ہمارے دل میں تعصب کا جال تھوڑی ہے لبادہ برف کا اوڑھے ہوئے ہے جوالا مکھی زمیں کے لاوے میں اب کے ابال تھوڑی ہے ہیں ہم حسینی ہمیں سر کٹانا آتا ہے ہمارے پاس یزیدانہ چال تھوڑی ...