قومی زبان

مغالطہ ہے عروج و زوال تھوڑی ہے

مغالطہ ہے عروج و زوال تھوڑی ہے ہماری آنکھ کے شیشہ میں بال تھوڑی ہے ہمارے دل میں کبوتر نماز پڑھتے ہیں ہمارے دل میں تعصب کا جال تھوڑی ہے لبادہ برف کا اوڑھے ہوئے ہے جوالا مکھی زمیں کے لاوے میں اب کے ابال تھوڑی ہے ہیں ہم حسینی ہمیں سر کٹانا آتا ہے ہمارے پاس یزیدانہ چال تھوڑی ...

مزید پڑھیے

نتیجہ دیکھیے کچھ دن میں کیا سے کیا نکل آیا

نتیجہ دیکھیے کچھ دن میں کیا سے کیا نکل آیا کہیں پے بیج بویا تھا کہیں پودھا نکل آیا رقم ہے جس پہ میرے آبا و اجداد کا شجرہ مرے گھر کی کھدائی میں وہی کتبہ نکل آیا سنا ہے آج سب عریاں نظر آئیں گے سڑکوں پر میں اپنے گھر سے بن کر آج نا بینا نکل آیا کچھ ایسے زاویے سے آج سورج نے حکومت کی کے ...

مزید پڑھیے

جنوں پے چھوڑ دی اب ساری زندگی میں نے

جنوں پے چھوڑ دی اب ساری زندگی میں نے خرد کو آگ لگا دی ابھی ابھی میں نے فقیر شہر کے شجرے کو دیکھنے کے بعد امیر شہر کی دستار کھینچ لی میں نے ہوائیں اتنی خنک تھیں کے خون جمنے لگا تو تپتے سہرہ کی کچھ ریت اوڑھ لی میں نے طلسم ٹوٹا پرندے سے شاہزادی بنی جو سر میں کیل ٹھکی تھی نکال دی میں ...

مزید پڑھیے

تمام ابر پہاڑوں پہ سر پٹکتے رہے

تمام ابر پہاڑوں پہ سر پٹکتے رہے غریب دہکاں کے آنسو مگر ٹپکتے رہے تمام موسم بارش اسی طرح گزرا چھتیں ٹپکتی رہیں اور مکیں سسکتے رہے نہارنے کے لیے جب نہ مل سکا منظر ہم اپنی سوختہ سامانیوں کو تکتے رہے مکان اشکوں کے سیلاب میں ٹھہر نہ سکے مکین پلکوں کی شاخیں پکڑ لٹکتے رہے وو ہم پہ ...

مزید پڑھیے

جیسے مہماں کوئی آئے کسی مہمان کے بعد

جیسے مہماں کوئی آئے کسی مہمان کے بعد شعر میں نے بھی کہے ہیں نئے رجحان کے بعد فیصلہ سوچ کے کرنا کہیں رونا نہ پڑے رکھ کے آیا ہوں میں آنکھیں ترے ایمان کے بعد اس عنایت پہ میں اظہار کون سا رنگ کشتیاں لے کے چلے آئے ہو طوفان کے بعد میری آنکھوں کے مدینے میں وہی ہے اب تک تھا جو قرآن سے ...

مزید پڑھیے

تیرے احسانوں کا حق پورا ادا کرتے ہیں

تیرے احسانوں کا حق پورا ادا کرتے ہیں بھرنے لگتے ہیں تو زخموں کو ہرا کرتے ہیں نیند کو ہم کبھی ضائع نہیں ہونے دیتے لے کے بستر سے حسیں خواب اٹھا کرتے ہیں عشق میں ہار کے مر جانا کوئی عشق نہیں دم آخر بھی تو بیمار دوا کرتے ہیں جشن شاہی میں غریبوں کو بھی دعوت دینا چاند کے ساتھ ستارے ...

مزید پڑھیے

قسم خدا کی بلندی سے گفتگو کرتے

قسم خدا کی بلندی سے گفتگو کرتے اڑان بھرنے سے پہلے اگر وضو کرتے فنا کا خوف رہا رات بھر محلے پر فقیر گزرے تھے کل شام اللہ ہو کرتے ہمارے سایہ زمینوں میں دھنس چکے تھے یہاں سفر کا عزم بھلا کیسے چار سو کرتے کسی پے دھوپ کے چلکے نہ ڈالتے ہرگز اک آئنہ بھی اگر خود کے رو بہ رو کرتے جھکی ...

مزید پڑھیے

نہ روندو کانچ سی راہیں ہماری

نہ روندو کانچ سی راہیں ہماری تمہیں چبھ جائیں گی کرچیں ہماری مسلسل دھوکہ بازی کر رہی ہیں ہیں دھوکہ باز سب سانسیں ہماری ہمیں خاموش ہی رہنے دو یارو تمہیں چبھ جائیں گی باتیں ہماری کرو ظلم و ستم پر یاد رکھو بہت پر سوز ہیں آہیں ہماری ہر اک پل ریزہ ریزہ ہو رہی ہیں ہیں بوسیدہ ...

مزید پڑھیے

خطر ہوائے مخالف کا درمیان میں تھا

خطر ہوائے مخالف کا درمیان میں تھا مگر پرندہ مگن اپنی ہی اڑان میں تھا ہمارا جرم تو یکساں تھا پر گرفت کے بعد وو شخص ہو کے نہ ہو میں تو امتحان میں تھا ہمیں ہماری زباں میں سزا سنائی گئی مگر قصور لکھا جانے کس زبان میں تھا تمام شہر پے غالب تھا دھوپ کا لشکر فصیل شہر کے باہر میں سائبان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2249 سے 6203