یقیں خود کو دلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
یقیں خود کو دلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے تمہیں یکسر بھلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے خزاں کی شدتوں سے خال و خد بجھ سے گئے ہیں سو پھر سے مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے یہاں بوئی گئی ہیں دکھ کی بارودی سرنگیں نئی فصلیں اگانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے یہ بستی مدتوں سرطان کی زد میں رہی ...