قومی زبان

ملن رت کے حسیں سپنے ذرا تعبیر کرتے ہیں

ملن رت کے حسیں سپنے ذرا تعبیر کرتے ہیں چلو ان چاند تاروں کو یوں ہی تسخیر کرتے ہیں بنا کر چاند کو کشتی اتر جائیں کنارے پر بھلا ڈالیں سبھی صدمات جو دلگیر کرتے ہیں سبھی باتیں سبھی قصے سبھی دکھ بھول کر اپنے نئے قصے نئی غزلیں کوئی تحریر کرتے ہیں جو لفظوں اور معانی سے بہت ہے ماورا ...

مزید پڑھیے

بجھتی ہوئی سرد شام

آخری دن کا ڈوبتا سورج تیری چوکھٹ پہ سجدہ ریز اپنی کرنوں کے خالی کشکول الٹ کر تھکی ہوئی یخ بستہ نگاہوں سے میری دنیا کی تاریک راہداریوں میں گزرے ہوئے پل کی کسی پر افشاں ساعت کی تلاش میں ہے مگر تا حد نگاہ پھیلی ہوئی مخلوق خالق لم یزل سے امید نو کے کاسے پھیلائے اپنی پلکوں کی منڈیروں ...

مزید پڑھیے

کام اب آتی نہیں ہے کوئی تدبیر کہ بس

کام اب آتی نہیں ہے کوئی تدبیر کہ بس اس طرح روٹھی ہے مجھ سے مری تقدیر کہ بس دشمن جاں بھی چلا آئے کھنچا آپ کے پاس کیجئے آہوں میں پیدا کوئی تاثیر کہ بس بعد مرنے کے کھلی رہ گئیں آنکھیں میری اس قدر آپ نے کی آنے میں تاخیر کہ بس ٹوٹ کر چور ہوا آئنۂ دل میرا ہائے کچھ ایسی ملی خوابوں کی ...

مزید پڑھیے

بدلے میں دعاؤں کے کبھی زر نہیں لیتے

بدلے میں دعاؤں کے کبھی زر نہیں لیتے احسان کسی کا بھی قلندر نہیں لیتے خود منزل مقصود لپٹ جاتی ہے ان سے رہبر کا سہارا وہ کہیں پر نہیں لیتے سو جاتے ہیں بورے پہ چٹائی پہ کہیں بھی مفلس تو کبھی مخملی بستر نہیں لیتے ہو جائے جہاں رات وہیں دن کو بسیرا بے چارے یہ بنجارے کہیں گھر نہیں ...

مزید پڑھیے

طوفاں کا وہم ہے نہ سمندر کا خوف ہے

طوفاں کا وہم ہے نہ سمندر کا خوف ہے مجھ میں چھپا ہوا مرے اندر کا خوف ہے امید جس سے زندہ تھی وہ فصل جل گئی جو رہن رکھ چکا ہوں اسی گھر کا خوف ہے میرے بدن میں جس سے دراڑیں سی پڑ گئیں آنکھوں میں آج بھی اسی منظر کا خوف ہے آواز دائروں میں مقید سی ہو گئی ہر اک صدا کو گنبد بے در کا خوف ...

مزید پڑھیے

یہ سلیقہ بھی ہنر میں رکھنا

یہ سلیقہ بھی ہنر میں رکھنا روشنی راہ گزر میں رکھنا یا تو خود میرے اثر میں رہنا یا مجھے اپنے اثر میں رکھنا مسئلہ غور طلب ہے اس میں کچھ اندیشے بھی نظر میں رکھنا کیا خبر وقت کہاں لے جائے جانے والوں کو خبر میں رکھنا دوستی جاہ طلب اور ہمیں ایک تنکا بھی نہ گھر میں رکھنا پر بریدہ ...

مزید پڑھیے

یہ جو انساں خدا کا ہے شہکار

یہ جو انساں خدا کا ہے شہکار اس کی قسمت پہ ہے خدا کی مار مرگ دشمن کی آرزو ہی سہی دل سے نکلے کسی طرح تو غبار نام بدنام ہو چکا حضرت کیجیے اب تو جرم کا اقرار اتفاقی ہے دو دلوں کا ملاپ کون سنتا ہے ورنہ کس کی پکار جینا مرنا ہے بن پڑے کی بات نہ یہ آسان اور نہ وہ دشوار کس کو پروا کہ ان ...

مزید پڑھیے

لذت خواب دے گئے حسن خیال دے گئے

لذت خواب دے گئے حسن خیال دے گئے ایک جھلک میں اتنا کچھ اہل جمال دے گئے آئے تو دل تھا باغ باغ اور گئے تو داغ داغ کتنی خوشی وہ لائے تھے کتنا ملال دے گئے دیدہ وروں کی راہ پر کون ہوا ہے گامزن وہ مگر اپنی ذات سے ایک مثال دے گئے اس سے زیادہ راہزن کرتے بھی مجھ پہ کیا ستم مال و منال لے گئے ...

مزید پڑھیے

خود فریبی نے بے شک سہارا دیا اور طبیعت بظاہر بہلتی رہی

خود فریبی نے بے شک سہارا دیا اور طبیعت بظاہر بہلتی رہی ایک کانٹا سا دل میں کھٹکتا رہا ایک حسرت سی دل کو مسلتی رہی اپنے غم کو ہمیشہ بھلایا کئے کثرت کار میں سیر بازار میں الغرض کسمپرسی کے عالم میں بھی زندہ رہنے کی صورت نکلتی رہی عقل کی برتری دل نے مانی تو کیا اس نے چاہا کبھی عقل ...

مزید پڑھیے

بدل گئی ہے کچھ ایسی ہوا زمانے کی

بدل گئی ہے کچھ ایسی ہوا زمانے کی کہ عام ہو گئی عادت نظر چرانے کی یہ بات کاش سمجھتے سبھی چمن والے چمن لٹا تو نہیں خیر آشیانے کی انہیں خبر نہیں وہ خود بھی آزمائے گئے جنہیں تھی فکر بہت مجھ کو آزمانے کی کوئی کلی نہ رہی پھر بھی مسکرائے بغیر سزا اگرچہ مقرر تھی مسکرانے کی ہوا یہی کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2244 سے 6203