قومی زبان

جب نقاب رخ زیبا وہ اٹھا دیتے ہیں

جب نقاب رخ زیبا وہ اٹھا دیتے ہیں دل ہر ذرہ کو آئینہ بنا دیتے ہیں روح کو سوز دیا داغ جگر کو بخشا حضرت عشق عجب داد سخا دیتے ہیں صبح دم صحن گلستاں میں صبا کے جھونکے آتش درد محبت کو ہوا دیتے ہیں اب بھی اک غیرت ناہید کے نغمے اکثر عمر رفتہ کو مری مجھ سے ملا دیتے ہیں نیرؔ زار کی قسمت ...

مزید پڑھیے

حیراں ہے آنکھ چشم عنایت کو کیا ہوا

حیراں ہے آنکھ چشم عنایت کو کیا ہوا دنیا میں رسم و راہ محبت کو کیا ہوا مانا کہ شہر حسن میں جنس وفا نہیں لیکن جہاں میں عشق کی دولت کو کیا ہوا آتی ہے یاد روز خود آتی نہیں مگر یا رب ہماری شام مسرت کو کیا ہوا وقت وداع زرد ہوا رنگ رخ اگر رنگ و بہار عارض فطرت کو کیا ہوا تھی ہم کو عقل سے ...

مزید پڑھیے

سوئے رات کو روتے روتے

سوئے رات کو روتے روتے اٹھ بیٹھے پھر سوتے سوتے کاش وہ زیب بالیں ہوتے ہم چونک اٹھتے سوتے سوتے ختم ہوا افسانۂ ہستی ہنستے ہنستے روتے روتے بیت چلی برسات بھی آخر کاٹ دیں راتیں روتے روتے تیری یاد میں او پردیسی عمر گنوا دی روتے روتے سوکھ گئیں آشاؤں کی کلیاں فیض بہاراں ہوتے ...

مزید پڑھیے

دل و نظر کے لئے لطف ناگہاں بن کر

دل و نظر کے لئے لطف ناگہاں بن کر جوانی آئی تھی اک خواب رائیگاں بن کر وہ شاخ گل ہمیں اکثر قفس میں یاد آئی جو نذر برق ہوئی سقف آشیاں بن کر وہ گیت مطرب آتش نوا سنا مجھ کو جو آ سکے لب عشاق پر فغاں بن کر جو آج تک کسی اسلوب سے بیاں نہ ہوا وہ راز آج کھلا ان کی داستاں بن کر نہ رہنما ہے نہ ...

مزید پڑھیے

بہار صبح نے گل کو رلا کے چھوڑ دیا

بہار صبح نے گل کو رلا کے چھوڑ دیا شراب ناب کو شبنم بنا کے چھوڑ دیا کوئی بتائے کہ اس ناخدا کو کیا کہیے سفینہ جس نے بھنور میں پھنسا کے چھوڑ دیا وہ سخت جاں ہوں کہ جب کامیاب ہو نہ سکی تری جفا نے مجھے آزما کے چھوڑ دیا تری نظر کی بہار آفرینیوں کے نثار کہ زخم دل کو گل تر بنا کے چھوڑ ...

مزید پڑھیے

ہو چکی رسوائے عالم چاک دامانی مری

ہو چکی رسوائے عالم چاک دامانی مری اب چمن میں رنگ لائے گی غزل خوانی مری عشق کے انوار سے ہو جائیں گے دل تابناک انجمن افروز ہوگی شمع عرفانی مری چاک ہوں گے مرے سوز و ساز سے غنچوں کے دل گل کھلائے گی چمن میں نالہ سامانی مری بلبلوں کو یاد آ جائے گی روداد بہار دل کو تڑپائے گی اے نیرؔ ...

مزید پڑھیے

بیاد‌‌ اختر شیرانیؔ

فضائے عشق کو ماتم گسار چھوڑ گیا جہاں میں نقش وفا یادگار چھوڑ گیا پیام دیدۂ افسانہ کار چھوڑ گیا حکایت خم گیسوئے یار چھوڑ گیا نظر میں اک خلش انتظار چھوڑ گیا جگر میں اک تپش درد کار چھوڑ گیا سنا کے راہ محبت میں نغمہ ہائے جنوں قبائے لالہ و گل تار تار چھوڑ گیا افق کے پار گیا خندہ زن ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کو اشک بار کیا کیا برا کیا

آنکھوں کو اشک بار کیا کیا برا کیا یوں غم کو آشکار کیا کیا برا کیا اک عمر انتظار کیا کیا برا کیا وعدے کا اعتبار کیا کیا برا کیا جب وصل یار زیست کا عنواں نہ بن سکا غم کو گلے کا ہار کیا کیا برا کیا صحن چمن میں دھوم ہے فصل بہار کی دامن کو تار تار کیا کیا برا کیا عیش و نشاط سے رہے ...

مزید پڑھیے

غم کا حامل نہ کچھ خوشی کا ہے

غم کا حامل نہ کچھ خوشی کا ہے دل گرفتار عاشقی کا ہے حسن اور مائل کرم توبہ یہ مقدر کسی کسی کا ہے کوئی لوٹا گیا سر منزل تذکرہ ہر جگہ اسی کا ہے وہ نظر بھر کے دیکھتا ہی نہیں عکس دل میں مگر اسی کا ہے موت سے تو مفر نہیں ہرگز اصل ماتم تو زندگی کا ہے نیند آنکھوں سے شوق سے جائے رنج فرقت ...

مزید پڑھیے

عجب اک وقت گلشن میں یہ پیغام بہار آیا

عجب اک وقت گلشن میں یہ پیغام بہار آیا فضا ہی سازگار آئی نہ موسم سازگار آیا سناؤں کیا میں اپنی داستان غم تجھے ہمدم وہ آیا اپنی محفل میں مگر بیگانہ وار آیا تبسم نے کسی کے روح پھونکی گلستانوں میں شگوفوں کو جوانی کا یقین و اعتبار آیا اسی کو لوگ کہتے ہیں سرور و کیف کا عالم صراحی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2233 سے 6203