قومی زبان

میں ایک قرض ہوں سر سے اتار دے مجھ کو

میں ایک قرض ہوں سر سے اتار دے مجھ کو لگا کے داؤں پہ اک روز ہار دے مجھ کو بکھر چکا ہوں غم زندگی کے شانوں پر اب اپنی زلف کی صورت سنوار دے مجھ کو ہزار چہرے ابھرتے ہیں مجھ میں تیرے سوا میں آئنہ ہوں تو گرد و غبار دے مجھ کو کسی نے ہاتھ بڑھایا ہے دوستی کے لیے پھر ایک بار خدا اعتبار دے ...

مزید پڑھیے

میں تنگ دستیٔ مہلت سے اتنا چاہتا ہوں

میں تنگ دستیٔ مہلت سے اتنا چاہتا ہوں خود اپنے آپ سے ایک بار ملنا چاہتا ہوں سوا بھرم کہیں کچھ بھی نہیں ہے تو پھر بھی میں تھوڑی دور ترے ساتھ چلنا چاہتا ہوں میں خود پہ قہر بھی ڈھاؤں حفاظتیں بھی کروں میں اس خدائی صفت کو برتنا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں سہاروں کے ساتھ ساتھ رہوں میں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک شے سے محبت کی رشتہ داری رکھ

ہر ایک شے سے محبت کی رشتہ داری رکھ اب اس کو جنگ سمجھ اور جنگ جاری رکھ نہ جانے کس کو وہ اپنا سمجھ کے اپنا لیں نظر کو دل کو تمنا کو باری باری رکھ اگر تمہاری ہے تنہا تو اس کو لے جاؤ اگر ہے ساجھی یہ دنیا تو ساجھیداری رکھ نہ سمجھیں اپنا مگر غیر تو نہ سمجھیں لوگ اب اپنے آپ میں اتنی تو ...

مزید پڑھیے

شہر میری مجبوری گاؤں میری عادت ہے

شہر میری مجبوری گاؤں میری عادت ہے ایک سانحہ مجھ پر اک مری وراثت ہے یہ بھی اک کرشمہ ہے بیسویں صدی تیرا موت کے شکنجے میں زندگی سلامت ہے پھر انیسؔ ممبر پر مرثیہ پڑھیں آ کر کربلا یہ دنیا ہے ہر گھڑی شہادت ہے جیسے چاہے جی لیجے پھینکیے یا پی لیجے زندگی تو ہر گھر میں چار دن کی مہلت ...

مزید پڑھیے

کچھ نہیں ہے مگر ہے یہ دنیا

کچھ نہیں ہے مگر ہے یہ دنیا اپنی اپنی نظر ہے یہ دنیا اپنے مرکز پہ رقص کرتی ہوئی اک مسلسل سفر ہے یہ دنیا ایک پرندے کی زد میں آئی ہوئی اک پرندے کا گھر ہے یہ دنیا میں جدھر ہوں ادھر تو بس میں ہوں تو جدھر ہے ادھر ہے یہ دنیا اس طرح صبح کو لگاتی ہے جیسے تازہ خبر ہے یہ دنیا

مزید پڑھیے

سارا قصہ تمام کر لیجے

سارا قصہ تمام کر لیجے آپ پہلے سلام کر لیجے نفرتوں سے بھری ہے یہ دنیا دل کے اندر قیام کر لیجے ہم بھی تو اس خدا کے بندے ہیں ہم سے بھی رام رام کر لیجے اک طریقہ ہے جنگ رکنے کا جنگ خود پہ حرام کر لیجے مولوی آسماں کی کہتا ہے آپ دنیا کے کام کر لیجے

مزید پڑھیے

بڑھا دو درد کی لو اور کم ہے میرے لئے

بڑھا دو درد کی لو اور کم ہے میرے لئے ابھی یہ عشق میں پہلا قدم ہے میرے لیے جہاں جہاں سے ہیں وابستہ خواب لوگوں کے وہ ہر مقام بہت محترم ہے میرے لیے مٹاتے جاؤ گے تم درج کرتے جائیں گے ہم تمہارے واسطے خنجر قلم ہے میرے لیے ہر ایک لمحہ تری جستجو میں خرچ ہوا مجھے یہ لگتا تھا میرا جنم ہے ...

مزید پڑھیے

وفا کرتے اسے دیکھا نہیں ہے

وفا کرتے اسے دیکھا نہیں ہے مگر وہ بے وفا لگتا نہیں ہے دل برباد تجھ کو کیا ہوا ہے سرائے میں کوئی بستا نہیں ہے اسے پتھر بنا دیتی ہے دنیا جو دریا ہے مگر بہتا نہیں ہے یہ دنیا پھر نمایاں ہو رہی ہے اندھیرا عمر بھر رہتا نہیں ہے مرا ہمدرد ہے آئینہ ناظمؔ میں روتا ہوں تو یہ ہنستا نہیں ...

مزید پڑھیے

دیکھیے کس کو راس آتے ہیں

دیکھیے کس کو راس آتے ہیں اچھے دن سب کے پاس آتے ہیں ایک بھی کام کا نہیں ہوتا فون دن میں پچاس آتے ہیں کل تو وعدہ بھرے گلاس کا تھا آج خالی گلاس آتے ہیں تم کو بدلاؤ چاہئے ٹھہرو ہم بدل کر لباس آتے ہیں پہلے بنتی ہے سیتا اپرادھی بعد میں تلسی داس آتے ہیں ساری دنیا سے مل ملا کر ہم آخرش ...

مزید پڑھیے

میں ان حسین نظاروں کے پاس آ نہ سکا

میں ان حسین نظاروں کے پاس آ نہ سکا خزاں نصیب بہاروں کے پاس آ نہ سکا رہا فلک پہ ستاروں میں جلوہ گر مہتاب وہ اپنے سینہ فگاروں کے پاس آ نہ سکا تمام عمر رہا ہمکنار موجوں سے سفینہ اپنا کناروں کے پاس آ نہ سکا گدائے عشق کی دولت تھی فقہ و استغنا وہ مال و زر کے سہاروں کے پاس آ نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2232 سے 6203