قومی زبان

نہ ہم نے آنکھ لڑائی نہ خواب میں دیکھا

نہ ہم نے آنکھ لڑائی نہ خواب میں دیکھا مگر تمہیں دل خانہ خراب میں دیکھا تڑپ تڑپ کے ترے آستاں پہ لے آیا بڑا اثر دل پر اضطراب میں دیکھا کبھی نگاہ کرم ہے کبھی عتاب کی لہر عجیب لطف ترے پیچ و تاب میں دیکھا بڑے خلوص کی باتوں کے بعد شرط وفا ترا غرور بھی خط کے جواب میں دیکھا نظر ملاتے ...

مزید پڑھیے

سو اب بھی ہے

وہی بیگم کی خوں خواری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے وہی دیرینہ بیماری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے وہی ٹر ٹر وہی خفگی وہی غمزے وہی عشوے وہی طعنوں کی بیماری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے بڑھاپے میں بھی ان کو شوق ہیں عہد جوانی کے ''لپ اسٹک'' کی خریداری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے وہی ہے روٹھنا ان کا وہی ...

مزید پڑھیے

زباں کیوں ہو؟

کسی کو دے کے ''ووٹ'' اپنا نواسنج فغاں کیوں ہو؟ جو سر خالی ہو ''بھیجے'' سے تو پھر منہ میں زبان کیوں ہو؟ ہمارے لیڈروں کی کامیابی کا یہ نکتہ ہے! ''جو کرنا ہے'' رکھو دل میں وہ پبلک میں بیاں کیوں ہو؟ کہا صیاد نے پر نوچ کر صحن گلستاں میں! گھٹن ہو لاکھ سینے میں مگر آہ و فغاں کیوں ہو؟ بڑھاپے میں ...

مزید پڑھیے

شکوۂ کلرک

کیوں میں گھاٹے میں رہوں سود فراموش رہوں موقع مل جائے تو دفتر میں ہی مدہوش رہوں ڈانٹ افسر کی سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ''ہمنوا'' میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں ''مسکہ بازی'' کے سبب تاب سخن ہے مجھ کو در حقیقت بہت عرصہ سے گھٹن ہے مجھ کو ہے بجا کام کی چوری میں تو مشہور ہیں ہم پیٹ رشوت سے ...

مزید پڑھیے

ہے اب تو حسیناؤں کا حلقہ مرے آگے

ہے اب تو حسیناؤں کا حلقہ مرے آگے سلمیٰ مرے پیچھے ہے زلیخا مرے آگے اب بچ کے کہاں جائے ہر اک سمت ہے دیوار بیوی مرے پیچھے ہے تو بچہ مرے آگے بے پردہ وہ کالج میں تو پھرتی ہیں برابر اوڑھا مری محبوب نے برقعہ مرے آگے میں اب کے الیکشن میں گنوا بیٹھا ضمانت ڈوبا مری قسمت کا ستارہ مرے ...

مزید پڑھیے

ایک تھا راجہ

پرانے زمانے میں تھا ایک راجہ یہ راجہ تھا بگڑا ہوا ایک باجا ستاتا تھا سب کو ڈراتا تھا سب کو وہ غصے میں گھونسے دکھاتا تھا سب کو یوں ہی آتے جاتوں سے تکرار کرتا ہوا پر بھی تلوار سے وار کرتا سنو اب مزے کی سنائیں کہانی چھپرکھٹ پہ بیٹھی تھی راجہ کی رانی کہ اتنے میں اک ننھی منی سی چڑیا لیے ...

مزید پڑھیے

زباں پر شکوۂ دار و رسن لایا نہیں جاتا

زباں پر شکوۂ دار و رسن لایا نہیں جاتا جو اپنا حال ہے دنیا کو دکھلایا نہیں جاتا بڑی مشکل سے ملتا ہے جنون عاشقی یارو جسے پا کر خرد کی گود میں جایا نہیں جاتا رضائے دوست میں کچھ ایں و آں باقی نہیں رہتا محبت کا کوئی فرمان ٹھکرایا نہیں جاتا کسی سے ظلم بے جا کی شکایت ہو تو کیوں کر ...

مزید پڑھیے

فرقت کا فسوں پھیل گیا شام سے پہلے

فرقت کا فسوں پھیل گیا شام سے پہلے انجام نظر آتا ہے انجام سے پہلے ہم جور و ستم سہہ کے بھی شکوہ نہیں کرتے اور مورد الزام ہیں الزام سے پہلے اس واسطے سینے سے لگایا ہے ترا غم ملتی نہیں راحت کبھی آلام سے پہلے اے دوست گوارا ہے مجھے عشق میں سب کچھ کچھ اور بھی کہہ لیجئے بدنام سے ...

مزید پڑھیے

تم کو نہیں ہے یاد ابھی کل کی بات ہے

تم کو نہیں ہے یاد ابھی کل کی بات ہے باہم تھا اتحاد ابھی کل کی بات ہے منزل تھی ایک جس پہ بہم گامزن رہے بالکل نہ تھا تضاد ابھی کل کی بات ہے اک روشنی تھی دل میں بہت پاک و صاف تھے ایسا نہ تھا عناد ابھی کل کی بات ہے بنیاد خود ہی آپ نے رکھی نفاق کی شیر و شکر تھے شاد ابھی کل کی بات ہے صحن ...

مزید پڑھیے

حسن کو بے نقاب ہونے دو

حسن کو بے نقاب ہونے دو عشق کو کامیاب ہونے دو زیست غرق شراب ہونے دو ہر حقیقت کو خواب ہونے دو طور‌ و موسیٰ سے ماورا ہیں ہم راز کا سد باب ہونے دو دیکھنا ہے ابھی حیات کو جشن اک نیا انقلاب ہونے دو میں بلا نوش و بادہ خوار سہی میری ہستی خراب ہونے دو آج کی شب تو ان کی محفل میں عشق کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2234 سے 6203