قومی زبان

آسماں کا نہ رہا اور زمیں کا نہ رہا

آسماں کا نہ رہا اور زمیں کا نہ رہا غم کی جو شاخ سے ٹوٹا وہ کہیں کا نہ رہا اتنے بے رنگ اجالوں سے نظر گزری ہے حوصلہ آنکھ کو اب خواب حسیں کا نہ رہا وقت نے سارے بھروسوں کے شجر کاٹ دئے اب تو سایہ بھی کوئی خاک نشیں کا نہ رہا کون اب اس کو اجڑنے سے بچا سکتا ہے ہائے وہ گھر کہ جو اپنے ہی ...

مزید پڑھیے

خیر لایا تو جنوں دیوار سے در کی طرف

خیر لایا تو جنوں دیوار سے در کی طرف اب نظر جانے لگی باہر سے اندر کی طرف کشتئ امید کے ہر بادباں اڑنے لگے کس نے رخ موڑا ہواؤں کا سمندر کی طرف یوں بھی ہوتا ہے مدارات جنوں کے شوق میں پھول جیسے ہاتھ اٹھ جاتے ہیں پتھر کی طرف ہم نے سمجھے تھے کہ یہ ہوگا مآل کار عشق رخ کیا باد بہاری نے ...

مزید پڑھیے

سینے پہ کتنے داغ لیے پھر رہا ہوں میں

سینے پہ کتنے داغ لیے پھر رہا ہوں میں زخموں کا ایک باغ لیے پھر رہا ہوں میں ڈر ہے کہ تیرگی میں قدم ڈگمگا نہ جائے اک شہر بے چراغ لیے پھر رہا ہوں میں ساقی نہ پوچھ آج کے شیشہ گروں کا حال ٹوٹا ہوا ایاغ لیے پھر رہا ہوں میں کیا جانے کس کے نام ہے یہ نامۂ کرم ملتا نہیں سراغ لیے پھر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

سکوں نہ تھا مگر اتنا بھی انتشار نہ تھا

سکوں نہ تھا مگر اتنا بھی انتشار نہ تھا ہمارے چاروں طرف خوف کا حصار نہ تھا تمام عمر خزاں میں جھلستے گزری ہے ہمارے سر پہ کبھی سایۂ بہار نہ تھا رہا ہمیشہ کسی اور کے تصرف میں خود اپنے دل پہ کبھی اپنا اختیار نہ تھا ہر ایک ہاتھ اٹھائے ہوئے تھا یوں پتھر کہ جیسے شہر میں کوئی گناہ گار ...

مزید پڑھیے

نہ وہ شعور کی لو ہے نہ وہ نظر کا چراغ

نہ وہ شعور کی لو ہے نہ وہ نظر کا چراغ بجھا پڑا ہے بڑی دیر سے ہنر کا چراغ اندھیری رات کا دل چیرتا ہو جیسے کوئی چلا ہے لے کے ہتھیلی پہ کوئی سر کا چراغ اسی کا نور وراثت ہے ابن آدم کی وہ زندگی جسے کہتے ہیں ہم سحر کا چراغ میں اپنے حرف ملامت کا خود شکار ہوا کہ گھر میں آگ لگی جس سے تھا وہ ...

مزید پڑھیے

خوش رنگ آسمان اڑا لے گئی ہوا

خوش رنگ آسمان اڑا لے گئی ہوا خوشبو کا سائبان اڑا لے گئی ہوا کانٹے الجھ کے دامن ہستی سے رہ گئے پھولوں کی داستان اڑا لے گئی ہوا آنکھوں میں اب چمکتے در و بام ہیں کہاں خوابوں کا وہ مکان اڑا لے گئی ہوا دل کے تعلقات کی خوشبو کہیں نہیں مربوط خاندان اڑا لے گئی ہوا بے سمت زندگی مری بے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک سمت اداسی کی تتلیاں جاگیں

ہر ایک سمت اداسی کی تتلیاں جاگیں طلوع شام سے پہلے سیاہیاں جاگیں سفر میں دھوپ کی لذت پس غبار ہوئی گھنے درختوں کے سائے میں گرمیاں جاگیں دیار دل میں صداؤں کا آئینہ ٹوٹا نواح جاں میں تعلق کی کرچیاں جاگیں کہاں کہاں نہیں دی ہم نے رات بھر دستک نہ کوئی باب ہی چونکا نہ کھڑکیاں ...

مزید پڑھیے

جو صلیب شب پہ گونجے وہ صدا کہئے مجھے

جو صلیب شب پہ گونجے وہ صدا کہئے مجھے یہ ستم کیسا کہ ساز بے نوا کہئے مجھے بے کراں وسعت میں ہوں میں ٹوٹتے تاروں کی چیخ ہاں کسی درماندہ رہرو کی دعا کہئے مجھے میرا ہر شیرازہ برہم ہو گیا لمحوں کے ساتھ منتشر اوراق کا اک سلسلہ کہئے مجھے صبح سے اب تک رہا میں ساتھ اس کے لیکن اب شام کے ...

مزید پڑھیے

وہ جس کی سارا جہاں پختگی سے ہار گیا

وہ جس کی سارا جہاں پختگی سے ہار گیا وہ ایک کوہ گراں آدمی سے ہار گیا وہی جو رات پہ چھایا ہوا اندھیرا تھا سحر ہوئی ہے تو وہ روشنی سے ہار گیا نہیں ہے کوئی سبب سب سے اس کے کٹنے کا غریب آدمی تھا مفلسی سے ہار گیا ہر اک محاذ پہ دشمن کو جس سے مات ہوئی وہ اپنے دوستوں کی دوستی سے ہار ...

مزید پڑھیے

ذرا سی بات پہ اتنا جلال کیوں آیا

ذرا سی بات پہ اتنا جلال کیوں آیا تعلقات کے شیشے میں بال کیوں آیا کسی بزرگ کی صحبت ہے تم کو کیا معلوم مرے مزاج میں یہ اعتدال کیوں آیا زمیں پہ آ گیا مغرور یہ خبر بھی ہے ترقیات کو اس کی زوال کیوں آیا اسے گنوانے کا پچھتاوا گر نہیں تجھ کو تری زبان پہ لفظ ملال کیوں آیا چلو یہ مانا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2223 سے 6203