جام نہ رکھ ساقیا شب ہے پڑی اور بھی
جام نہ رکھ ساقیا شب ہے پڑی اور بھی پھر جہاں کٹ گئے چار گھڑی اور بھی پہلے ہی ساغر میں تھے ہم تو پڑے لوٹتے اتنے میں ساقی نے دی اس سے کڑی اور بھی پلکیں تو چھیدے تھیں دل مارے تھی برچھی نگاہ ابرو نے اس پر سے ایک تیغ جڑی اور بھی کچھ تپش دل تھی کچھ سنتے ہی فرقت کا نام آگ سی ایک آگ پر آن ...