قومی زبان

کہا جو ہم نے ''ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو''

کہا جو ہم نے ''ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو'' کہا کہ اس لیے تم یاں جو غل مچاتے ہو'' کہا ''لڑاتے ہو کیوں ہم سے غیر کو ہمدم'' کہا کہ ''تم بھی تو ہم سے نگہ لڑاتے ہو'' کہا جو حال دل اپنا تو اس نے ہنس ہنس کر کہا ''غلط ہے یہ باتیں جو تم بناتے ہو'' کہا ''جتاتے ہو کیوں ہم سے روز ناز و ادا'' کہا کہ ''تم ...

مزید پڑھیے

تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحب

تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحب جگر کے داغ جو دھونے تھے دھو لیے صاحب غلام عاشق و چاکر مصاحب و ہم راز غرض جو تھا ہمیں ہونا سو ہو لیے صاحب قرار و صبر جو کرنے تھے کر چکے برباد حواس و ہوش جو کھونے تھے کھو لیے صاحب ہمارے وزن محبت میں کچھ ہو فرق تو اب پھر امتحاں کی ترازو میں تولیے ...

مزید پڑھیے

ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے

ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے مژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہے رہیں وہ شخص جو بزم جہاں کی رونق ہیں ہماری کیا ہے اگر ہم رہے رہے نہ رہے مجھے ہے نزع وہ آتا ہے دیکھنے اب آہ کہ اس کے آنے تلک دم رہے رہے نہ رہے بقا ہماری جو پوچھو تو جوں چراغ مزار ہوا کے بیچ کوئی دم رہے رہے نہ ...

مزید پڑھیے

یہ چھپکے کا جو بالا کان میں اب تم نے ڈالا ہے

یہ چھپکے کا جو بالا کان میں اب تم نے ڈالا ہے اسی بالے کی دولت سے تمہارا بول بالا ہے نزاکت سر سے پاؤں تک پڑی قربان ہوتی ہے الٰہی اس بدن کو تو نے کس سانچے میں ڈھالا ہے یہ دل کیوں کر نگہ سے اس کی چھدتے ہیں میں حیراں ہوں نہ خنجر ہے نہ نشتر ہے نہ جمدھر ہے نہ بھالا ہے بلائیں ناگ کالے ...

مزید پڑھیے

وہ چاندنی میں جو ٹک سیر کو نکلتے ہیں

وہ چاندنی میں جو ٹک سیر کو نکلتے ہیں تو مہ کے طشت میں گھی کے چراغ چلتے ہیں پڑے ہوس ہی ہوس میں ہمیشہ گلتے ہیں ہمارے دیکھیے ارمان کب نکلتے ہیں ہجوم آہ ہے آنکھوں سے اشک ڈھلتے ہیں بھرے ہیں چاؤ جو دل میں سو یوں نکلتے ہیں چراغ صبح یہ کہتا ہے آفتاب کو دیکھ یہ بزم تم کو مبارک ہو ہم تو ...

مزید پڑھیے

آغوش تصور میں جب میں نے اسے مسکا

آغوش تصور میں جب میں نے اسے مسکا لب ہائے مبارک سے اک شور تھا ''بس بس'' کا سو بار حریر اس کا مسکا نگہ گل سے شبنم سے کب اے بلبل پیراہن گل مسکا اس تن کو نہیں طاقت شبنم کے تلبس سے اے دست ہوس اس پر تو قصد نہ کر مس کا ملتی ہے پری آنکھیں اور حور جبیں سا ہے ہے نقش جہاں یارو اس پائے مقدس ...

مزید پڑھیے

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم بس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم مے بھی ہے مینا بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی نہیں دل میں آتا ہے لگا دیں آگ مے خانے کو ہم کیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبر کیا ترے عاشق ہوئے تھے درد و غم کھانے کو ہم ہم کو پھنسنا تھا قفس میں کیا گلہ صیاد کا بس ...

مزید پڑھیے

یہ حسب عقل تو کوئی نہیں سامان ملنے کا

یہ حسب عقل تو کوئی نہیں سامان ملنے کا مگر دنیا سے لے جاویں گے ہم ارمان ملنے کا عجب مشکل ہے کیا کہئے بغیر از جان دینے کے کوئی نقشہ نظر آتا نہیں آسان ملنے کا ہمیں تو خاک میں جا کر بھی کیا کیا بے کلی ہوگی جب آ جاوے گا اس غنچہ دہن سے دھیان ملنے کا کسی سے ملنے آئے تھے سو یاں بھی ہو چلے ...

مزید پڑھیے

آیا نہیں جو کر کر اقرار ہنستے ہنستے

آیا نہیں جو کر کر اقرار ہنستے ہنستے جل دے گیا ہے شاید عیار ہنستے ہنستے اتنا نہ ہنس دل اس سے ایسا نہ ہو کہ چنچل لڑنے کو تجھ سے ہووے تیار ہنستے ہنستے لے کر صریح دل کو وہ گل عذار یارو ظاہر کرے ہے کیا کیا انکار ہنستے ہنستے ہنس ہنس کے چھیڑ اس کو زنہار تو نہ اے دل ہوگا گلے کا تیرے یہ ...

مزید پڑھیے

دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیا

دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیا پایا جہاں فقیر نے بسرام رہ گیا کس کس نے اس کے عشق میں مارا نہ دم ولے سب چل بسے مگر وہ دل آرام رہ گیا جس کام کو جہاں میں تو آیا تھا اے نظیرؔ خانہ خراب تجھ سے وہی کام رہ گیا

مزید پڑھیے
صفحہ 2210 سے 6203