قومی زبان

ہوا کا جھونکا بھی نظریں جما کے بیٹھ گیا

ہوا کا جھونکا بھی نظریں جما کے بیٹھ گیا میں ریت پر ترا چہرہ بنا کے بیٹھ گیا سراپا ناز وہ محفل میں آ کے بیٹھ گیا نہ جانے کتنوں کے طوطے اڑا کے بیٹھ گیا تھا انتظار مجھے جس کے لوٹ آنے کا کسی کو اور وہ اپنا بنا کے بیٹھ گیا بھٹک رہی تھی ہوا کاسۂ طلب لے کر سو راستے میں دیا میں جلا کے ...

مزید پڑھیے

وہ ہمارے ہوتے ہوتے رہ گئے

وہ ہمارے ہوتے ہوتے رہ گئے اور ہم سپنے سنجوتے رہ گئے دل بچھا کے ہم کسی کی راہ میں صرف اپنا وقت کھوتے رہ گئے پھول بھی گلشن کے سب مرجھا گئے اور ہم بوٹے ہی بوتے رہ گئے پیار کا ساگر سمٹ کر رہ گیا ہم تو بس پلکیں بھگوتے رہ گئے چاند نے باندھی تھی ڈوری غیر سے اور ہم موتی پروتے رہ گئے یہ ...

مزید پڑھیے

میری داستان غزل نے اب میرے غم سبھی کو بتا دئے

میری داستان غزل نے اب میرے غم سبھی کو بتا دئے جو چھپا رہی تھی میں اب تلک وہی راز دل لو دکھا دئے بھلا گھومتی میں کہاں کہاں لیے زخم دل تیرے نام کے میرے اشک چشم چراغ نے تیرے سارے خط ہی جلا دئے ہے بہار گم ہے فضا بھی چپ ہیں چمن سے دور وہ تتلیاں کہ ترقیوں نے دیار سے وہ حسین گاؤں مٹا ...

مزید پڑھیے

بہار کا روپ بھی نگاہوں میں اک فریب بہار سا ہے

بہار کا روپ بھی نگاہوں میں اک فریب بہار سا ہے حیات میں دل کشی نہیں ہے حیات میں انتشار سا ہے زمانہ کیا دیکھیے دکھائے نہ جانے کیا انقلاب آئے فلک کے تیور میں خشمگیں سے زمیں کے دل میں غبار سا ہے کمال دیوانگی تو جب ہے رہے نہ احساس جیب و دامن اگر ہے احساس جیب و دامن تو پھر جنوں ہوشیار ...

مزید پڑھیے

اڑا لیے ہیں کچھ ارباب گلستاں نے تو کیا (ردیف .. ے)

اڑا لیے ہیں کچھ ارباب گلستاں نے تو کیا ہزار شیوۂ نو ہیں مری فغاں کے لیے زمین کوچۂ جاناں سے آ رہی ہے صدا بلندیاں نہیں مخصوص آسماں کے لیے ہے ختم حوصلہ مندی وجود آدم پر ستیزۂ کار ہے فتح غم جہاں کے لیے ہے سخت بے ادبی گر کہے فسانۂ عشق ہر ایک بات مناسب نہیں زباں کے لیے اندھیری رات ...

مزید پڑھیے

ہوں کالبد خاک میں مہماں کوئی دن اور

ہوں کالبد خاک میں مہماں کوئی دن اور قسمت میں ہے پابندیٔ زنداں کوئی دن اور ہے دفتر عالم کو ضرورت ابھی میری کرنی ہے مجھے خدمت عنواں کوئی دن اور آنے ہی کو ہے موسم گل خیر منا لے داماں کوئی دن اور گریباں کوئی دن اور اے ابر یوں ہی قطرۂ فشاں رہ ابھی کچھ روز مے خواروں پہ ہوتا رہے ...

مزید پڑھیے

زمانہ کیا دیکھیے دکھائے نہ جانے کیا انقلاب آئے

زمانہ کیا دیکھیے دکھائے نہ جانے کیا انقلاب آئے فلک کے تیور ہیں خشمگیں سے زمیں کے دل میں غبار سا ہے کمال دیوانگی تو جب ہے رہے نہ احساس جیب و دامن اگر ہے احساس جیب و دامن تو پھر جنوں ہوشیار سا ہے کچھ آج ایسی ہی جی پہ گزری دبی ہوئی تھی جو چوٹ ابھری جسے سنبھالے ہوا تھا دل میں وہ نالہ ...

مزید پڑھیے

دل نا مطمئن اندیشۂ برق تپاں میں ہے

دل نا مطمئن اندیشۂ برق تپاں میں ہے جو بے تابی قفس میں تھی وہی اب آشیاں میں ہے مری بے تابئ دل کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا خدا جانے ترا حرف تسلی کس زباں میں ہے یہی انداز ہیں تو غم نہیں کچھ بعد منزل کا امنگیں جاگ اٹھی ہیں زندگی سی کارواں میں ہے اسی کے راگ سے گونجیں گی کل راہیں مسرت ...

مزید پڑھیے

زندگی زہر کا اک جام ہوئی جاتی ہے

زندگی زہر کا اک جام ہوئی جاتی ہے کیا سے کیا یہ مے گلفام ہوئی جاتی ہے کچھ گزاری ہے غم عشق و محبت میں حیات کچھ سپرد غم ایام ہوئی جاتی ہے پھر کسی مرد براہیم کا محتاج ہے دہر پھر وہی کثرت اصنام ہوئی جاتی ہے ہوس سیر تماشہ ہے کہ ہوتی نہیں ختم زندگی ہے کہ سبک گام ہوئی جاتی ہے جو کبھی ...

مزید پڑھیے

اسی کی نور افشانی زمیں سے آسماں تک ہے

اسی کی نور افشانی زمیں سے آسماں تک ہے نگہبانی جہاں کی اس حقیقی پاسباں تک ہے ترستی ہیں نگاہیں سبز گنبد کے نظارے کو رسائی بد نصیبوں کی کہاں اس آستاں تک ہے قلم کی تیز رفتاری زباں کی گرم گفتاری نصیحت میں اثر ہونا کلام خوش بیاں تک ہے چمن میں جب خزاں آئی نہ گل ہے اور نہ بلبل ہے نوائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2165 سے 6203