ایسے کنکر پھینکتا ہوں میں
ایسے کنکر پھینکتا ہوں میں پانی مجھ سے ڈر جاتا ہے کمرا جتنا بھی خالی ہو ایک چراغ سے بھر جاتا ہے
ایسے کنکر پھینکتا ہوں میں پانی مجھ سے ڈر جاتا ہے کمرا جتنا بھی خالی ہو ایک چراغ سے بھر جاتا ہے
ہجر کی رت میں تڑپتی و سسکتی آنکھیں مجھ سے دیکھی نہیں جاتیں یہ تمہاری آنکھیں وقت کالج میں کتابوں کے احاطے میں گھری ہائے کس طرح میں بھولوں وہ کتابی آنکھیں چہرہ ایسا کہ جو دیکھے کہے سبحان اللہ ذکر کرتے ہوئے لب ہیں تو نمازی آنکھیں اے مصور کوئی تصویر بنا مجھ جیسی چہرہ ہو غم کا بدل ...
قلب میں خواہشیں مدغم نہیں کرنے والے ماسوا رب کہیں سر خم نہیں کرنے والے دل کے زخموں میں تجھے دے کے جگہ ہم دل کو وحشت و چین کا سنگم نہیں کرنے والے تجھ کو جانا ہے تو جا پوری اجازت ہے تجھے ہم ترے بعد ترا غم نہیں کرنے والے درد ہو لاکھ یا سینے سے لہو رستا ہو شبنمی آنکھ کا موسم نہیں ...
مجھ کو بھی اس سے عشق تھا الفت غضب کی تھی اس کو بھی مجھ حقیر سے چاہت غضب کی تھی وہ لڑکی جو نصیب پہ روتی تھی رات بھر گلیوں میں اس کے حسن کی شہرت غضب کی تھی ہنستے ہوئے لبوں کو وہ ہلکے سے کاٹنا واللہ اس حسین کی عادت غضب کی تھی جانے سے اس کے باغ میں عالم خزاں کا تھا سوکھے گلوں میں قید ...
کبھی خواہش جو اس دل کی پرانی چیخ پڑتی ہے تو پھر آنکھوں میں اک ڈوری گلابی چیخ پڑتی ہے لگا کر زخم پر پہرے سلا کے دل کے سارے غم میں جب بھی ہنسنا چاہوں تو اداسی چیخ پڑتی ہے مری الھڑ جواں زلفوں کو ابیض دیکھ کر لوگوں بزرگی مسکراتی ہے جوانی چیخ پڑتی ہے رقم جب بھی میں اپنا درد کرتی ہوں ...
عشق سے یار بغاوت نہیں کرنے والے اب ترے قلب سے ہجرت نہیں کرنے والے یعنی ہم تیری جگہ اور کسی کو دے کر دوسری بار محبت نہیں کرنے والے ظلم کرنا ہے کرو تم کو اجازت ہے کہ ہم رب سے کیا خود سے شکایت نہیں کرنے والے ہجر کے زخم پہ قربت کا لگا کر مرہم اپنے زخموں کی حمایت نہیں کرنے والے دل کے ...
تو نے مری روح وجود سمیت اپنی محبت سے تر کی تھی جاناں تو گر اک ہی جھٹکے میں سانس نکل جائے وجود سے رنگ نیلا تو ہوگا ناں سو آج کل وہی رنگ ہے میرا
تو سنو پرفیکٹ تو کوئی بھی نہیں ہوا نا خامیاں سب میں اپنے وجود سمیت موجود ہوتی ہیں ان کے ساتھ اپنایا جاتا ہے اور وہ کمیاں وہی دور کر سکتا ہے جو ان کمیوں کے ساتھ اپنا لیتا ہے
زمانے بہہ گئے کتنے وہی آنگن جو وسعت میں مجھے دنیا لگا کرتا تھا وہ دو جست نکلا جس جگہ دالان تھا اب اس جگہ ہموار مٹی منہ چڑھاتی ہے ادھر ہموار مٹی سے ادھر وہ ڈھیریاں مٹی کی کب سے منتظر ہیں کوئی ملنے ہی نہیں آتا یہیں تھے وہ جو اب مٹی ہیں جن کے خال و خد پورے بدن پر زور دے کر یاد ...
عجیب منظر تھا شور ایسا کہ کان اندھے ہوئے پڑے تھے میں خواب میں اک تماش بیں تھا میں دیکھتا تھا وہ لڑ رہے تھے وہ ایک دوجے سے لڑ رہے تھے غبار اڑتا تھا ان رتھوں سے جو ان کے جسموں کو روندنے کے لیے رواں تھیں میں دیکھتا تھا وہ سانس اندر کو کھینچتے تھے تو کھڑکھڑاتے تھے اور ہواؤں کے خالی ...