قومی زبان

دل بے اختیار کی خوشبو

دل بے اختیار کی خوشبو اس پر اس انتظار کی خوشبو اس پھٹے آسماں کی باعث ہے ہم سے سینہ فگار کی خوشبو اتنا بے صبر چاک سینا ہے سونگھ لیتا ہے تار کی خوشبو مخملی پیرہن سے آتی ہے دامن تار تار کی خوشبو کب تمام عمر ساتھ رہتی ہے زعم ناپائیدار کی خوشبو بوئے منزل میں گھل ہی جائے گی یہ مرے ...

مزید پڑھیے

نور اندھیرے کی فصیلوں پہ سجا دیتا ہوں

نور اندھیرے کی فصیلوں پہ سجا دیتا ہوں میں سیاہ بخت چراغوں کو جلا دیتا ہوں پہلے اک جسم بناتا ہوں کسی پھول پہ پھر ایک چہرا کسی پتھر پہ بنا دیتا ہوں دن نکلتے ہی کسے ڈھونڈنے جاتا ہوں میں رات کے پچھلے پہر کس کو صدا دیتا ہوں ایک عرصے سے غم ہجر میں مصروف ہے تو آ مرے دل میں تجھے کام ...

مزید پڑھیے

بدن کو چھو لیں ترے اور سرخ رو ہو لیں

بدن کو چھو لیں ترے اور سرخ رو ہو لیں بکھرنا ہی ہے تو ہم کیوں نہ مشکبو ہو لیں چلیں ہیں عشق کی کرنے اگر عبادت ہم بہا کے اشک ذرا پہلے با وضو ہو لیں چھپا کے خوابوں خیالوں کو دل کے گوشے میں ذرا سی دیر حقیقت سے رو بہ رو ہو لیں برس گئے تو بھلا آب کے سوا کیا ہیں ان آنسوؤں کی ہے قیمت کی جو ...

مزید پڑھیے

منزل کے اس اصول کو رسوا نہیں کیا

منزل کے اس اصول کو رسوا نہیں کیا رستہ سے لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا دل کو گداز بھی رکھا تو احتیاط سے کر تو لیا یقین پر اتنا نہیں کیا ہم کو بھی پھر امید کچھ ایسی نہیں رہی اچھا ہوا جو تو نے بھی وعدہ نہیں کیا فاقہ کشی میں یوں تو کئی رحم دل ملے کاسہ ہی ہم نے اپنا کشادہ نہیں کیا یہ بھی ...

مزید پڑھیے

پھر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ سنبھالو مجھ کو

پھر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ سنبھالو مجھ کو اک ذرا قید سے باہر تو نکالو مجھ کو اس حقیقت کی بھی آمد ہو مرے حجرے میں چھوڑ کے جاؤ کبھی خوابو خیالو مجھ کو جسم کو درد میں ہنسنے کا ہنر آتا ہے التجا یہ ہے کہ پتھر میں نہ ڈھالو مجھ کو میں نے پابندی لگا دی ہے زباں پر ورنہ مدعا چیخ رہا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

تیری نظروں سے یار اتر جاؤں

تیری نظروں سے یار اتر جاؤں اس سے بہتر یہ ہے کہ مر جاؤں میں بھی اب کیا کروں اے میرے رقیب میری فطرت نہیں کہ ڈر جاؤں گر تو دستار مانگ لے مجھ سے تیرے قدموں میں دے کے سر جاؤں پھر کوئی اور ہی بنوں آخر ٹوٹ جاؤں تو اس قدر جاؤں تو بھی بے شک نظر گھما لینا میں اگر پھیر کر نظر جاؤں تو مجھے ...

مزید پڑھیے

اسی طرح اگا تھا اور اسی طرح سے ڈھل گیا

اسی طرح اگا تھا اور اسی طرح سے ڈھل گیا یہ آج بھی یوں ہی گیا کی جس طرح سے کل گیا جو محو فکر زیست ہیں انہیں بھلا یہ کیا خبر طلوع ماہ کب ہوا کب آفتاب ڈھل گیا تمام اہل بزم لب کشا سے ہو گیا ہیں کیوں یہ آخر ایسا کیا مری زبان سے نکل گیا جو کر رہا تھا آفتاب کو نچوڑنے کی بات بس اک شعاع کے ...

مزید پڑھیے

میں اگر کر دوں رقم جوش جنوں کاغذ پر

میں اگر کر دوں رقم جوش جنوں کاغذ پر لفظ بن بن کے ڈھلے دل کا یہ خوں کاغذ پر کیا خبر کون سے حرفوں کو ملاتے ہوں گے کبھی لکھا ہی نہیں ہم نے سکوں کاغذ پر طے شدہ ہے کی تمام عمر بدن اٹھ نہ سکے میں کبھی لکھ دوں اگر سر کو نگوں کاغذ پر ٹوٹ کے پھر تو عدو کے کہیں کام آتے ہیں جب بھی چلتا ہے محبت ...

مزید پڑھیے

ایک سے بڑھ کر ایک تمہارے گہنے ہوں گے

ایک سے بڑھ کر ایک تمہارے گہنے ہوں گے یاد میری جب آتی ہوگی چبھتے ہوں گے لوگ برے ہیں جو وہ بھی تو روتے ہوں گے ان کے حصے میں بھی تو دکھ ہوتے ہوں گے زیست کے سب اسرار سمجھ آ جاتے ہوں گے موت سے پہلے مرنے والے ہنستے ہوں گے تجھ میں کوئی ادا نہیں تو آئینہ سا تیرے چاہنے والے بالکل سچے ہوں ...

مزید پڑھیے

زیر لب ہم نے تشنگی کر لی

زیر لب ہم نے تشنگی کر لی اک سمندر سے دوستی کر لی راہ تکتے رہے ہواؤں کی پھر چراغوں نے خودکشی کر لی وقت کی چال دیکھنے کے لیے ہم نے رفتار میں کمی کر لی کام کوئی نہ ہو سکا ہم سے ہم نے ہر فکر پیشگی کر لی ہم نے ہر غم چھپا لیا اس سے ضبط اس نے بھی ہر خوشی کر لی رات بھر کوستے ہیں دنیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2131 سے 6203