اس قدر آپ کا عتاب رہے
اس قدر آپ کا عتاب رہے دل کو میرے نہ اضطراب رہے نہ پٹی ان سے پیار کی میزان ہاں مگر رنج بے حساب رہے یوں شب وصل کا ہے عالم یاد جیسے برسوں کی یاد خواب رہے حال دل سن کے بول اٹھا قاصد یاد کس کو یہ سب کتاب رہے منتظر ہوں کسی کے آنے کا کس کی آنکھوں میں آ کے خواب رہے صبح کے اس حجاب نے ...