قومی زبان

اس قدر آپ کا عتاب رہے

اس قدر آپ کا عتاب رہے دل کو میرے نہ اضطراب رہے نہ پٹی ان سے پیار کی میزان ہاں مگر رنج بے حساب رہے یوں شب وصل کا ہے عالم یاد جیسے برسوں کی یاد خواب رہے حال دل سن کے بول اٹھا قاصد یاد کس کو یہ سب کتاب رہے منتظر ہوں کسی کے آنے کا کس کی آنکھوں میں آ کے خواب رہے صبح کے اس حجاب نے ...

مزید پڑھیے

گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیا

گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیا کہتے ہیں اچھا ہوا کیا کھل گیا غیر کی قسمت کی کھانی ہے قسم بند تھا دروازہ ان کا کھل گیا تم کھلے بندوں ملو اغیار سے شکر پاؤں اب تمہارا کھل گیا آ گئی بے پردہ وہ صورت نظر آنکھ کی جب بند پردا کھل گیا غیر سے اب بند ہو کس بات پر گالیوں پر منہ تمہارا کھل ...

مزید پڑھیے

بات بہہ جانے کی سن کر اشک برہم ہو گئے

بات بہہ جانے کی سن کر اشک برہم ہو گئے اک ذرا کوشش بھی کی تو اور پر نم ہو گئے یہ ہوا معمول کہ مانوس غم دل ہو گیا ہم سمجھ بیٹھے ہمارے درد کچھ کم ہو گئے کیفیت اظہار سوز دل کی کچھ ایسی ہوئی آتے آتے لب تلک الفاظ مبہم ہو گئے وقت کی چارہ گری بھی دیکھیے کیا خوب ہے غم دوا میں ڈھل گیا اور ...

مزید پڑھیے

اس دل سے مرے عشق کے ارماں کو نکالو

اس دل سے مرے عشق کے ارماں کو نکالو تحریر سے اوراق پریشاں کو نکالو ممکن ہے تہی کر دو مجھے ہر کسی شے سے ممکن ہو اگر دل سے اس ایماں کو نکالو گر دور تلک باب کے امکان نہیں ہیں دیوار میں اک روزن زنداں کو نکالو جس کو ہے بھرم آج بھی پیمان وفا کا سینہ سے مرے اس دل ناداں کو نکالو پت جھڑ ...

مزید پڑھیے

لوگ سب قیمتی پوشاک پہن کر پہنچے

لوگ سب قیمتی پوشاک پہن کر پہنچے اور ہم جامۂ صد چاک پہن کر پہنچے موتیوں والی قبا والے خدا کے گھر تک جسم پر پیراہن خاک پہن کر پہنچے پاگلوں جنگ بگولوں سے چھڑی تھی اور تم اپنے تن پر خس و خاشاک پہن کر پہنچے بزم شادی کو نہ لگ جائے بری کوئی نظر اس لیے دامن غم ناک پہن کر پہنچے حق بیانی ...

مزید پڑھیے

بچپن

وہ گلیوں میں بارش وہ گل نار چہرے تمناؤں کے وہ بھنور گہرے گہرے بھری دھوپ میں وہ پتنگیں پکڑنا ''وہ باتوں ہی باتوں میں لڑنا جھگڑنا'' کوئی کاش مجھ پر یہ احسان کر دے کی بچپن کے کچھ پل میرے نام کر دے میں اب اس پرانے محلے میں جا کر خدا سے یہ فریاد کرنے لگا ہوں میں بچپن تجھے یاد کرنے لگا ...

مزید پڑھیے

پرچھائیاں

کاش اک شب کوئی چاند ایسا اگے عادتاً تو مجھے یوں تو جس میں دکھے ہاں اگر عکس ہو وہ ترا آخری درد کا ہو یہ منظر مرا آخری اس سحر میں کھلے آنکھ میری کی جب یوں لگے جیسے تو ہے نہیں تھا نہیں وہ جو لمحے گزر کر گیا تھا کبھی یوں لگے وہ کبھی جیسے گزرا نہیں پر خیالات تو پھر خیالات ہیں کچھ نہیں ...

مزید پڑھیے

ٹوٹتے رہنا ٹوٹ کے پھر مرجھانا بھی

ٹوٹتے رہنا ٹوٹ کے پھر مرجھانا بھی جیسے بچھڑنا اور بچھڑتے جانا بھی مٹی ہو تم مٹی بن کر دکھلاؤ پتھر ہونا پتھر سا ہو جانا بھی پابندی ڈر نفرت قید نہ جانے کیا مڑ کر دیکھا اس نے اور پہچانا بھی مجھ سے ترک تعلق کا چرچا کرنا میری گلی میں چھپ چھپ آنا جانا بھی جھوٹ کا ثابت ہو جانا سچ کھل ...

مزید پڑھیے

صاف دل تھا سب کے گھر جاتا تھا میں

صاف دل تھا سب کے گھر جاتا تھا میں جتنا ادنیٰ اتنا ہی اعلیٰ تھا میں رات کے سایوں سے میرا ربط تھا صبح ہو جانے پہ گھر لوٹا تھا میں اس الکٹرک پول کے سائے تلے ٹکٹکی باندھے ہوئے بیٹھا تھا میں پھر نیا سورج اگانے کے لئے صبح صادق کی طرح ابھرا تھا میں میں کبھی پربت کے جیسا تھا اٹل یا ذرا ...

مزید پڑھیے

احساس کے مکان کا دروازہ کھولیے

احساس کے مکان کا دروازہ کھولیے سچ کو دبی زباں سے سہی سچ تو بولئے ٹوٹے نہ بے ارادہ کہیں دل رقیب کا میزان ذہن میں ذرا الفاظ تولیے دکھ میں تو خاک ہی نے ثبوت وفا دیا ہم راہ میرے دھول کے ذرات ہو لئے نگلا نہ جا سکے جسے اگلا نہ جا سکے یوں زہر زندگی میں کسی کی نہ گھولیے سورج سے روشنی کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2130 سے 6203