اور اب کیا کہیں کہ کیا ہیں ہم (ردیف .. ')
اور اب کیا کہیں کہ کیا ہیں ہم آپ ہی اپنے مدعا ہیں ہم اپنے عاشق ہیں اپنے وارفتہ آپ ہی اپنے دل ربا ہیں ہم آپ ہی خانہ آپ خانہ خدا آپ ہی اپنی مرحبا ہیں ہم عشق جو دل میں درد ہو کے رہا خود اسی درد کی دوا ہیں ہم راز دل کی طرح زمانے میں تھے چھپے آج برملا ہیں ہم کیوں نہ ہو عرش پر دماغ ...