قومی زبان

اور اب کیا کہیں کہ کیا ہیں ہم (ردیف .. ')

اور اب کیا کہیں کہ کیا ہیں ہم آپ ہی اپنے مدعا ہیں ہم اپنے عاشق ہیں اپنے وارفتہ آپ ہی اپنے دل ربا ہیں ہم آپ ہی خانہ آپ خانہ خدا آپ ہی اپنی مرحبا ہیں ہم عشق جو دل میں درد ہو کے رہا خود اسی درد کی دوا ہیں ہم راز دل کی طرح زمانے میں تھے چھپے آج برملا ہیں ہم کیوں نہ ہو عرش پر دماغ ...

مزید پڑھیے

وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سے

وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سے کہ جاں پہ بن گئی تنگ آ گیا میں جینے سے ہوئے نمود جو پستاں تو شرم کھا کے کہا یہ کیا بلا ہے جو اٹھتی ہے میرے سینے سے وہ دور کھنچ کے شب وصل اس کا یہ کہنا کوئی ادھر ہی کو بیٹھا رہے قرینے سے جو بوسہ دیتے ہیں تو لب بچاتے ہیں لب سے لپٹتے بھی ہیں تو سینہ ...

مزید پڑھیے

کیوں ناصحا ادھر کو نہ منہ کر کے سوئیے

کیوں ناصحا ادھر کو نہ منہ کر کے سوئیے دل تو کہے ہے ساتھ ہی دل بر کے سوئیے گھبرا کے اس کا کہنا وہ ہائے شب وصال بس بس ذرا اب آپ تو ہٹ کر کے سوئیے میں آپ سے خفا ہوں کہ تم روٹھے ہو پڑے بہتان میرے سر پہ نہ یوں دھر کے سوئیے سوتے میں بھی جو دیکھیے تو چونک ہی اٹھے کس طرح ساتھ ایسے ستم گر کے ...

مزید پڑھیے

عالم عالم جدا جدا ہے نا

عالم عالم جدا جدا ہے نا بندہ بندہ خدا خدا ہے نا بھیجتا ہے درود جن پہ خدا جن پہ عالم فدا فدا ہے نا آخرش کائنات سب فانی اللہ اللہ سدا سدا ہے نا سنتیں دوست کی پسندیدہ ان کی ہر ہر ادا ادا ہے نا بارہا معصیت سے کر توبہ بازو بازو لدا لدا ہے نا مغفرت کے کھلے کھلے در ہیں رحمتوں کی ردا ...

مزید پڑھیے

ابھی ابھی تھی لبوں پر ہنسی ابھی نہ رہی

ابھی ابھی تھی لبوں پر ہنسی ابھی نہ رہی بنی تھی بات مقدر سے جو بنی نہ رہی بہار آئی گلستاں میں دل کشی نہ رہی نکھار پھولوں میں کلیوں میں تازگی نہ رہی کدورتوں کو مٹاؤ خلوص دل سے ملو بھروسہ زیست کا کیا ہے رہی رہی نہ رہی امید و یاس کے گھر میں رہا قیام اپنا چلے سفر پہ تو امید واپسی نہ ...

مزید پڑھیے

رونق بزم تھا کیا ہوا

رونق بزم تھا کیا ہوا اک دیا ٹمٹماتا ہوا اب کرے کیا تماشہ کوئی آدمی خود تماشہ ہوا کشتیاں ڈوب کر رہ گئیں پار دریا کے تنکا ہوا دیکھیے گلستاں کی طرف ہے ہر اک پھول مسلا ہوا وہ نمک ڈال کر چل دئے زخم دل اور گہرا ہوا بن گیا زینت گلستاں خوں ہمارا نچوڑا ہوا بے بسی دیکھ کر اے نیازؔ رک ...

مزید پڑھیے

کہکشاں کی قمر کی بات چلی

کہکشاں کی قمر کی بات چلی صبح دم رات بھر کی بات چلی اونچی نیچی ڈگر کی بات چلی زندگی کے سفر کی بات چلی زرد پتوں کا تذکرہ نہ ہوا بس نسیم سحر کی بات چلی یاد آئے لہو لہو پتھر جب کہیں سنگ و سر کی بات چلی کیا غضب ہے کہ موسم گل میں خشک برگ و ثمر کی بات چلی آج اونچی اڑان والوں میں ایک بے ...

مزید پڑھیے

جب غم زندگی نے لی کروٹ

جب غم زندگی نے لی کروٹ چین آیا نہیں کسی کروٹ ہم نے بدلی گھڑی گھڑی کروٹ نیند آئی نہیں کسی کروٹ وہ نظر آئے ہاتھ اٹھائے ہوئے وقت نزع جو ہم نے لی کروٹ فکر دنیا سے اب نجات ملی ہم نہ بدلیں گے اب کبھی کروٹ یک بہ یک کیا ہوا نیازؔ انہیں لے رہے تھے ابھی ابھی کروٹ

مزید پڑھیے

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ she couldn't stretch her limbs, with all her ample grace on seeing me she smiled and kept, her modesty in place بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ inadvertently, when, our eyes did chance to meet she looked away from me, and then, covered up her ...

مزید پڑھیے

دل لگے ہجر میں کیوں کر میرا

دل لگے ہجر میں کیوں کر میرا دل ترا سا نہیں پتھر میرا یوں تو روٹھے ہیں مگر لوگوں سے پوچھتے حال ہیں اکثر میرا راہ نکلے گی نہ کب تک کوئی تری دیوار ہے اور سر میرا کہتے ہیں آہ کی دیکھیں تاثیر نہ ہوا وصل میسر میرا یہ تو کہہ کون سی تدبیر نہ کی نہ ہوا تو ہی ستم گر میرا کیا سنوں اے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2129 سے 6203