قومی زبان

تمہیں ہاں کسی سے محبت کہاں ہے

تمہیں ہاں کسی سے محبت کہاں ہے ذرا دیکھیے تو وہ صورت کہاں ہے بھلا اب کسی سے سنو بات کیا تم تمہیں اپنی باتوں سے فرصت کہاں ہے ہر اک بات پر روئے سے دیتے ہو اب وہ شوخی کہاں وہ شرارت کہاں ہے پڑے رہتے ہو پہروں ہی منہ لپیٹے وہ جلسہ کہاں ہے وہ صحبت کہاں ہے کوئی کچھ کہے اب تمہیں کچھ نہ ...

مزید پڑھیے

وہ تو یوں ہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

وہ تو یوں ہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا میرا یہ مقولہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کہہ جاتا ہے وہ صاف ہزاروں مجھے باتیں پھر اس پہ یہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا اے دوستو اس شوخ کا میں کیا کہوں عالم کچھ آج وہ دیکھا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا یوں غیر ستائیں مجھے اور کچھ نہ کہوں میں منہ ...

مزید پڑھیے

ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کی

ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کی میری سی خدایا نہ ہو تقدیر کسی کی ناحق میں بگڑ جانے کی عادت یہ غضب ہے ثابت تو کیا کیجیے تقصیر کسی کی قاصد یہ زبانی تری باتیں تو سنی ہیں تب جانوں کہ لا دے مجھے تحریر کسی کی بے ساختہ پہروں ہی کہا کرتے ہیں کیا کیا ہم ہوتے ہیں اور ہوتی ہے تصویر کسی ...

مزید پڑھیے

تصور آپ کا ہے اور میں ہوں

تصور آپ کا ہے اور میں ہوں یہی اب مشغلا ہے اور میں ہوں مری ضد سے ملا پھر دشمنوں سے بس اب وہ بے وفا ہے اور میں ہوں وہ ہو اور میں ہوں اور کوئی نہ ہو غیر یہی ہر دم دعا ہے اور میں ہوں تصور میں ہیں پہروں ان سے باتیں شکایت کا مزا ہے اور میں ہوں تمہاری خو ہے رنجش ہر گھڑی کی یہ جھگڑا روز کا ...

مزید پڑھیے

ترے آگے عدو کو نامہ بر مارا تو کیا مارا

ترے آگے عدو کو نامہ بر مارا تو کیا مارا نہ مارا جاں سے جس دم اس کو گر مارا تو کیا مارا اگر دل مارتے اپنا تو کیوں یہ ذلتیں پاتے تری خواہش میں ظالم ہم نے سر مارا تو کیا مارا وہ ماریں قہقہہ سن کر مری سینہ زنی کا حال ادھر مارا تو کیا مارا ادھر مارا تو کیا مارا تمہارے ہاتھ تو لے لیتا ...

مزید پڑھیے

دیکھیے تو خیال خام مرا

دیکھیے تو خیال خام مرا آپ سے اور برائی کام مرا کہیں اس بزم تک رسائی ہو پھر کوئی دیکھے اہتمام مرا شب کی باتوں پر اب بگڑتے ہو آنکھ اٹھا کر تو لو سلام مرا نام اک بت کا لب پہ ہے واعظ ہے یہی ورد صبح و شام مرا غیر یوں نکلیں اس کی محفل سے جس طرح اے نظامؔ نام مرا

مزید پڑھیے

تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیا

تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیا ہاے کیا بات تھی کیا بھول گیا بھولی بھولی جو وہ صورت دیکھی شکوۂ جور و جفا بھول گیا دل میں بیٹھا ہے یہ خوف اس بت کا ہاتھ اٹھے کہ دعا بھول گیا خوش ہوں اس وعدہ فراموشی سے اس نے ہنس کر تو کہا بھول گیا حال دل سنتے ہی کس لطف سے ہاے کچھ کہا کچھ جو رہا بھول ...

مزید پڑھیے

محفل میں آتے جاتے ہیں انساں نئے نئے

محفل میں آتے جاتے ہیں انساں نئے نئے اب تو چلن لیے ہیں مری جاں نئے نئے اس زلف و رخ کے عشق کا چرچا ہوا یہ کچھ حیراں نئے نئے ہیں پریشاں نئے نئے آ آ کے اپنی اپنی سناتا ہے ہر کوئی زخم جگر پہ ہیں نمک افشاں نئے نئے مجھ کو سنا کے کہتے ہیں لوگوں کو اس سے کیا انداز ہم نے سیکھے ہیں ہاں ہاں ...

مزید پڑھیے

نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھے

نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھے تمہاری جدائی نے مارا مجھے ادھر آنکھ لڑتی ہے اغیار سے ادھر کرتے جانا اشارا مجھے تو اک بار سن لے مرا حال کچھ نہ کچھ کہنے دینا دوبارا مجھے یوں ہی روز آنے کو کہتے ہو تم نہیں اعتبار اب تمہارا مجھے کسی سے مجھے کچھ شکایت نہیں نظامؔ اپنے ہی دل نے مارا ...

مزید پڑھیے

کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے

کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے بدل کر وضع چھپ کر شب کو آنا یاد آتا ہے وہ باتیں بھولی بھولی اور وہ شوخی ناز و غمزہ کی وہ ہنس ہنس کر ترا مجھ کو رلانا یاد آتا ہے گلے میں ڈال کر بانہیں وہ لب سے لب ملا دینا پھر اپنے ہاتھ سے ساغر پلانا یاد آتا ہے بدلنا کروٹ اور تکیہ مرے پہلو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2128 سے 6203