عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں
عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں تمہارے نام اپنی زندگی کی کتاب کا انتساب لکھوں وہ لمحہ کتنا عجیب تھا جب ہماری آنکھیں گلے ملی تھیں میں کس طرح اب محبتوں کی شکستگی کے عذاب لکھوں تمہی نے میرے اجاڑ رستوں پہ خواہشوں کے دیے جلائے تمہی نے چاہا تھا خشک ہونٹوں سے چاہتوں ...