قومی زبان

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں تمہارے نام اپنی زندگی کی کتاب کا انتساب لکھوں وہ لمحہ کتنا عجیب تھا جب ہماری آنکھیں گلے ملی تھیں میں کس طرح اب محبتوں کی شکستگی کے عذاب لکھوں تمہی نے میرے اجاڑ رستوں پہ خواہشوں کے دیے جلائے تمہی نے چاہا تھا خشک ہونٹوں سے چاہتوں ...

مزید پڑھیے

دشمن جاں کئی قبیلے ہوئے

دشمن جاں کئی قبیلے ہوئے پھر بھی خوشبو کے ہاتھ پیلے ہوئے بدگمانی کے سرد موسم میں میری گڑیا کے ہاتھ نیلے ہوئے جب زمیں کی زباں چٹخنے لگی تب کہیں بارشوں کے حیلے ہوئے وقت نے خاک وہ اڑائی ہے شہر آباد تھے جو ٹیلے ہوئے جب پرندوں کی سانس رکنے لگی تب ہواؤں کے کچھ وسیلے ہوئے کوئی بارش ...

مزید پڑھیے

یہ دل بھلاتا نہیں ہے محبتیں اس کی

یہ دل بھلاتا نہیں ہے محبتیں اس کی پڑی ہوئی تھیں مجھے کتنی عادتیں اس کی یہ میرا سارا سفر اس کی خوشبوؤں میں کٹا مجھے تو راہ دکھاتی تھیں چاہتیں اس کی گھری ہوئی ہوں میں چہروں کی بھیڑ میں لیکن کہیں نظر نہیں آتیں شباہتیں اس کی میں دور ہونے لگی ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ چھاؤں جیسی تھیں ...

مزید پڑھیے

ہجر کی شب میں قید کرے یا صبح وصال میں رکھے

ہجر کی شب میں قید کرے یا صبح وصال میں رکھے اچھا مولا تیری مرضی تو جس حال میں رکھے کھیل یہ کیسا کھیل رہی ہے دل سے تیری محبت اک پل کی سرشاری دے اور دنوں ملال میں رکھے میں نے ساری خوشبوئیں آنچل سے باندھ کے رکھیں شاید ان کا ذکر تو اپنے کسی سوال میں رکھے کس سے تیرے آنے کی سرگوشی کو ...

مزید پڑھیے

تمام رات ہوا چیختی رہی بن میں

تمام رات ہوا چیختی رہی بن میں تمام رات اڑی خاک دل کے آنگن میں ہے عقل زہر جنوں زہر عقل کا تریاک یہ راز کھل ہی گیا ہم پہ باؤلے پن میں یہ جگنوؤں کی چتائیں یہ سوگوار فضا سلگ اٹھے ہیں شرارے نظر کے دامن میں سحر ہوئی تو بگولوں کا رقص دیکھیں گے خزاں نے ہم کو بلایا ہے صحن گلشن میں میں اس ...

مزید پڑھیے

عقل نے لاکھ اندھیروں میں چھپایا ہے تجھے

عقل نے لاکھ اندھیروں میں چھپایا ہے تجھے میرا وجدان مگر چوم کے آیا ہے تجھے وہ طلسمات نظر آئے کہ دیکھے نہ سنے جب بھی آنکھوں کے چراغوں میں جلایا ہے تجھے رات بھیگی ہے تو چھیڑا ہے ترے درد کا ساز چاند نکلا ہے تو چپکے سے جگایا ہے تجھے میں تو کیا وقت بھی اب چھو نہ سکے گا تجھ کو عشق نے ...

مزید پڑھیے

وہی محتسب کی ملامتیں وہی ایک واضح حسیں مری

وہی محتسب کی ملامتیں وہی ایک واضح حسیں مری وہی رنگ رنگ سبو مرا وہی داغ داغ جبیں مری ترا شہر شہر عجیب ہے یہاں کون ہے جو غریب ہے کوئی کہہ رہا ہے فلک مرا کوئی کہہ رہا ہے زمیں مری مری حسرتوں کے دیار میں تری جستجو سے بہار ہے ترا نقش پا ہے جہاں کہیں ہے جبین شوق وہیں مری اسی آئینے میں ...

مزید پڑھیے

زلزلہ آیا وہ دل میں وقت کی رفتار سے

زلزلہ آیا وہ دل میں وقت کی رفتار سے خود بخود تصویر تیری گر پڑی دیوار سے چپکے چپکے کھینچتا جاتا ہوں کانٹوں کا حصار میں کہ اب ڈرنے لگا ہوں پھول کی مہکار سے ہم بلا نوشوں نے زہر آگہی بھی پی لیا چلتے چلتے ہم بھی ٹھوکر کھا گئے کہسار سے جن کو آنکھوں سے لگایا جن کو رو رو کر پڑھا ہائے وہ ...

مزید پڑھیے

یہاں کسی نے چراغ وفا جلایا تھا

یہاں کسی نے چراغ وفا جلایا تھا تبھی یہ غم کدۂ دل بھی جگمگایا تھا جنوں کی شوخ اداؤں نے فاش کر ہی دیا وہ ایک راز خرد نے جسے چھپایا تھا شب بہار کی شہزادیو! خبر ہے تمہیں ابھی ابھی کوئی ناشاد مسکرایا تھا سلگ رہی ہیں امنگیں تو سوچتا ہوں میں بہت ہی خشک تری زلفوں کا نرم سایہ تھا یہ ...

مزید پڑھیے

کون بھنور میں ملاحوں سے اب تکرار کرے گا

کون بھنور میں ملاحوں سے اب تکرار کرے گا اب تو قسمت سے ہی کوئی دریا پار کرے گا سارا شہر ہی تاریکی پر یوں خاموش رہا تو کون چراغ جلانے کے پیدا آثار کرے گا جب اس کا کردار تمہارے سچ کی زد میں آیا لکھنے والا شہر کی کالی ہر دیوار کرے گا جانے کون سی دھن میں تیرے شہر میں آ نکلے ہیں دل تجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2119 سے 6203